قوموں کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو صرف کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں ہوتے، بلکہ وہ دن ان قوموں کی غیرت، عزم اور خودداری کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے ۲۸ مئی ۱۹۹۸ء کا دن بھی ایسا ہی ایک دن ہے، جب پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں میں دھماکے کر کے یہ ثابت کر دیا کہ یہ ملک نہ کسی کا تابع ہے، نہ کسی کا غلام۔ بھارت کے پوکھران میں پانچ ایٹمی دھماکوں کے بعد جب سارا عالمی دباؤ پاکستان پر آ پڑا کہ وہ خاموشی اختیار کرے، تب پاکستان نے اپنے قومی مفاد کو عالمی دباؤ پر ترجیح دی اور دنیا کو بتا دیا کہ یہ قوم اپنے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔
یومِ تکبیر کا اصل پیغام یہی ہے—اپنی خودمختاری، عزت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو کمزور سمجھا، چاہے وہ ۱۹۷۱ء کی جنگ ہو، کارگل ہو یا ۲۰۱۹ء کا پلوامہ واقعہ۔ ہر بار اس نے پاکستان کو دھمکانے کی کوشش کی، لیکن ہر بار اسے منہ کی کھانی پڑی۔ مگر اس بار جو کچھ ہوا، وہ پاکستان کی عسکری اور اسٹریٹجک برتری کا ناقابلِ تردید ثبوت بن کر ابھرا۔
حالیہ پاکستان اور بھارت کی جنگی جھڑپ نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ بھارت نے ہمیشہ کی طرح اپنی جارحیت اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، راجستھان اور پنجاب کی سرحد پر حملے کی کوشش کی، اور اپنے جدید ترین رافیل طیاروں کے ذریعے برتری دکھانے کی کوشش کی۔ مگر پاکستان نے اس بار نہ صرف فوری اور شدید جواب دیا بلکہ تاریخ رقم کر دی۔
پاکستان ائیرفورس کے شاہینوں نے دشمن کے طیارے مار گرائے، ان کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، اور جدید ترین میزائل سسٹم "الفاتح” سے بھارت کے خفیہ مراکز کو تباہ کر کے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس آپریشن میں پاکستان نے جو ذہانت، حکمت عملی، اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، وہ صرف عسکری فتح نہیں بلکہ قومی وقار کی فتح تھی۔
اس جنگ میں پاکستان کی فتح محض گولیوں، میزائلوں یا طیاروں کی وجہ سے ممکن نہیں ہوئی—یہ دراصل اُس توازنِ طاقت کا نتیجہ تھا جو ۲۸ مئی ۱۹۹8ء کو قائم کیا گیا تھا۔ اگر پاکستان اُس دن ایٹمی طاقت نہ بنتا، تو آج بھارت کی جارحیت اور ہٹ دھرمی کئی شہروں کو کھنڈر بنا چکی ہوتی۔ بھارت، جو پہلے ہی آبادی، معیشت اور ہتھیاروں میں سبقت رکھتا ہے، ایٹمی برتری کے ساتھ پاکستان پر اپنی بالادستی قائم کر چکا ہوتا۔
یہ حالیہ جنگ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان نے صرف ایٹمی طاقت حاصل نہیں کی، بلکہ اُسے مکمل دفاعی نظام کا حصہ بنا دیا ہے۔ جب دشمن نے ہمارے فضائی دفاع کو چیلنج کیا، ہم نے نہ صرف اس چیلنج کو قبول کیا بلکہ دشمن کے حوصلے بھی پست کیے۔ بھارتی پائلٹس کے ریڈیو پیغامات، جو دنیا بھر میں لیک ہوئے، اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ کس قدر بوکھلاہٹ کا شکار تھے۔ ان کے جنگی مراکز میں کھلبلی مچ گئی، اور انہوں نے اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر جنگ بندی کی اپیل کی۔
پاکستان کی فتح نے دنیا کو یاد دلا دیا کہ یہ ملک صرف جذبے سے نہیں بلکہ حکمت، جدید سائنس اور مضبوط عسکری بنیادوں پر کھڑا ہے۔ آج دشمن، جو خود کو جنوبی ایشیا کا چوہدری سمجھتا تھا، شکست خوردہ اور شرمندہ کھڑا ہے۔ اس کی میڈیا خاموش ہے، اس کی قیادت عوام کو مطمئن کرنے کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے، اور اس کی فضائیہ اپنی ناکامیوں کا تجزیہ کر رہی ہے۔
یومِ تکبیر اور حالیہ فتح کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اگر ۲۸ مئی کو ہم نے دشمن کے دھماکوں کا جواب نہ دیا ہوتا، اگر ہم نے ایٹمی قوت نہ بنائی ہوتی، تو آج دشمن ہماری شہ رگ کاٹنے کی پوزیشن میں ہوتا۔ مگر اس دن کیے گئے فیصلے نے ہمارے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ آج ہم صرف نعرہ نہیں لگاتے کہ "پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ”—بلکہ ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ نعرہ ہماری پالیسی، حکمتِ عملی اور عسکری نظام کا حصہ ہے۔
یومِ تکبیر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اصل طاقت جذبے، یکجہتی اور درست قیادت میں ہوتی ہے۔ نواز شریف کی قیادت میں جب پوری قوم، فوج، سائنسدان، اور دانشور ایک پیج پر آئے، تو عالمی دباؤ کے باوجود پاکستان نے وہ فیصلہ کیا جس نے ہماری آنے والی نسلوں کو تحفظ فراہم کیا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک بار پھر اسی یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ دفاع صرف بندوق یا بم سے نہیں ہوتا، دفاع ایک نظریہ ہے، ایک سوچ ہے، ایک اجتماعی قوتِ ارادی ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگرچہ ایٹمی صلاحیت نے دشمن کو روک رکھا ہے، لیکن معاشی، سیاسی اور سماجی میدانوں میں ہم نے کمزوریاں پیدا کیں تو دشمن ان کا فائدہ اٹھائے گا۔ لہٰذا یومِ تکبیر صرف جشن منانے کا دن نہیں، بلکہ خود احتسابی، تجدیدِ عہد، اور قومی ترقی کے سفر کو تیز کرنے کا دن ہے۔
حالیہ فتح اس بات کا ثبوت ہے کہ جب قوم جاگتی ہے، دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملتے ہیں۔ اور جب ریاست، افواج اور عوام ایک راستے پر چلتے ہیں، تو کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ۲۸ مئی کو جس عزم کا آغاز ہوا تھا، وہ آج بھی زندہ ہے اور دشمن کے لیے خوف کی علامت ہے۔