یومِ تکبیر: پاکستان کی جوہری صلاحیت قومی سلامتی اور خطے میں امن و استحکام کی ضمانت ہے

پاکستان کی جوہری صلاحیت کی ابتدا 1950 کی دہائی میں ہوئی، جب ملک نے توانائی کی ضروریات اور قومی سلامتی کے پیش نظر جوہری ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کی طرف خصوصی توجہ دی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ابتدا میں آمریکہ نے اس مقصد میں ہمارا ساتھ دیا تھا اور پھر آگے اللہ نے مزید اسباب کا سلسلہ دراز کیا۔ 1972 میں پاکستان نے جوہری توانائی کمیشن (PAEC) کے تحت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قیادت میں یورینیم کی افزودگی (Enrichment) کا پروگرام شروع کیا۔

عزم، ہمت، مہارت، تسلسل اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے جزبے سے مزین اس شاندار سفر میں فیصلہ کن لمحہ 28 مئی 1998 کو اس وقت آیا جب پاکستان نے چاغی کے مقام پر کامیاب جوہری دھماکوں (پانچ زیرزمین ٹیسٹ) کے ذریعے اپنی جوہری صلاحیت کا باقاعدہ اعلان کیا، اس دن کو بعد میں "یوم تکبیر” کے نام سے موسوم کیا گیا۔ یہ اقدام بھارت کے جوہری ٹیسٹوں (11 اور 13 مئی 1998) کے جواب میں تھا۔ اس کامیابی نے پاکستان کو دنیا کا ساتواں اور اسلامی دنیا کا پہلا جوہری طاقت رکھنے والا ملک بنا دیا۔

جوہری صلاحیت سے آراستگی کا مقصد ایک بہت بڑا اور اہم قومی منصوبہ تھا اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں پوری قوم نے مل کر بھرپور کردار ادا کیا ہے کسی نے نمایاں انداز میں اور کسی نے پس منظر میں رہ کر تاہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان کے جوہری پروگرام کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح پاکستان کا جوہری پروگرام دفاعی ضروریات اور علاقائی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کے پاس ٹیکٹیکل اور اسٹریٹجک جوہری ہتھیار موجود ہیں، جو کہ credible minimum deterrence کی بنیادی پالیسی پر مبنی ہیں۔ پاکستان اگر چہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ یعنی NPT کا رکن نہیں، لیکن ایک ذمہ دار جوہری ریاست ضرور ہے اور پوری دنیا اس حقیقت بخوبی آگاہ بھی ہے۔ جوہری صلاحیت سے سرفراز ہونا پاکستان کی سائنسی، سیاسی، سفارتی اور دفاعی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جس نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے درکار ضروری توازن قائم کیا ہے۔

28 مئی 1998 کو پاکستان نے "یومِ تکبیر” کے تاریخی دن میں جوہری دھماکوں کے ذریعے نہ صرف اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنایا، بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا۔ یہ دن پاکستان کی خودمختاری، سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی اور دفاعی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تاہم، پاکستان نے ہمیشہ "امن اولیٰ ہے” کے تصور کو فروغ دیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کر رہا ہے کہ جوہری طاقت کا حصول کسی بھی جارحیت کے لیے نہیں، بلکہ صرف اور صرف خطے میں امن، قومی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے ہے۔ ہر ملک کے اپنے اپنے چیلنجز اور قومی سلامتی کے تقاضے ہوتے ہیں اور وہ اس سے زیادہ اور کوئی نہیں جان سکتا۔ پاکستان کے لیے ایک اہم چیلنج "مشکل اڑوس پڑوس” ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ایسے پڑوس میں محتاط، چوکس، حساس اور طاقتور رہنا ضروری ہے۔

پاکستان کی جوہری صلاحیت کا سفر محض ایک فوجی کامیابی نہیں، بلکہ ایک قومی عزم کی شاندار داستان ہے۔ جب بھارت نے 1974 میں "سماگھی” اور پھر 1998 میں "پوکھران-II” دھماکوں کے ذریعے اپنی جوہری طاقت کا اظہار کیا، تو پاکستان کے پاس اپنی بقا کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم کی انتھک محنت نے پاکستان کو دنیا کا پہلا اسلامی اور ساتواں جوہری طاقت رکھنے والا ملک بنا دیا۔ اس اقدام نے نہ صرف پاکستان کی دفاعی پوزیشن کو مضبوط کیا، بلکہ خطے میں امن و استحکام کا ماحول بھی پیدا کیا۔

جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔ بھارت کی جانب سے مسلسل فوجی توسیع پسندانہ عزائم اور علاقائی جارحیت نے پاکستان کو اپنی سلامتی کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کرنے پر مجبور کیا۔ پاکستان کا جوہری پروگرام درحقیقت "کم از کم ردِّعمل” (Minimum Deterrence) کی پالیسی پر مبنی ہے، جس کا مقصد صرف دشمن کی جارحیت کو روکنا ہے۔ پاکستان نے کبھی بھی جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی پہل نہیں کی، بلکہ اسے صرف اور صرف ایک دفاعی ہتھیار کے طور پر برقرار رکھا ہے۔

پاکستان کی جوہری پالیسی کا بنیادی نکتہ "امن اولیٰ” کا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ جوہری عدم پھیلاؤ (Non-Proliferation) کے اصولوں کی حمایت کی ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح کیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کا مقصد صرف دفاع ہے۔ پاکستان کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے "پہلے استعمال نہ کرنے” (No First Use – NFU) کی پالیسی پر غور بھی اسی تصور کی عکاسی کر رہا ہے۔ پاکستان خطے کا ایک ذمہ دار اور امن کا پرزور حامی ملک ہے اور اپنی جوہری طاقت کو کبھی بھی جارحانہ مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔

1998 کے دھماکوں کے بعد پاکستان پر بین الاقوامی پابندیاں عائد کی گئیں تھیں، لیکن پاکستان نے اپنی دانشمندانہ سفارت کاری کے ذریعے ان تمام چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔ آج پاکستان کی جوہری صلاحیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ ملک جوہری سلامتی کے معاملات میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول کے لیے مضبوط انتظامی ڈھانچہ قائم کیا ہے، جس کی وقت بہ وقت عالمی برادری نے بھی تعریف کی ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں "یومِ تکبیر” صرف ایک فوجی کامیابی کا دن نہیں، بلکہ یہ دن پاکستان کے عزم، خوداعتمادی اور قومی یکجہتی کا استعارہ بن چکا ہے۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک ضامن ہے۔ ہمیں اپنی قومی سلامتی کو برقرار رکھتے ہوئے "امن اولیٰ” کے تصور کو فروغ دینا چاہیے، تاکہ آنے والی نسلیں ایک پرامن اور خوشحال پاکستان میں سکون اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ پاکستان کی نظر میں طاقت امن کے لیے ہوتی ہے، جنگ کے لیے نہیں۔ ہمارے نزدیک طاقت کا حصول جنگ سے بچنے کے لیے ہے نہ کہ جنگ چھیڑنے کے لیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے