جب بات کشمیر کی ہوتی ہے تو پاکستان کی زبان نہیں، دل بولتا ہے۔ پاکستان کا رشتہ کشمیری عوام سے جغرافیے یا سیاست کا نہیں، جذبے اور ایمان کا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت، ان کے جذبات، ان کی شناخت اور ان کی آزادی کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ دوسری جانب بھارت کی حکمتِ عملی کو جبر، دھوکہ اور ریاستی دروغ گوئی کا شاہکار کہنا غلط نہ ہوگا۔
پاکستان نے ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی حمایت کی ہے۔ چاہے اقوامِ متحدہ ہو یا او آئی سی، چاہے یورپی یونین کی انسانی حقوق کمیٹیاں ہوں یا امریکی سینیٹ کے اجلاس، پاکستان نے کشمیر کا مقدمہ ایسے لڑا جیسے کوئی ماں اپنے مظلوم بچے کے لیے عدالت میں فریاد کرے۔ رواں برس فروری میں وزیرِاعظم شہباز شریف نے یومِ یکجہتیِ کشمیر پر واضح اعلان کیا کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ "آخری سانس تک” کھڑا ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ دہراتے ہوئے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ کشمیریوں کو وہ حق دیا جائے جس کا وعدہ خود دنیا نے کیا تھا۔
اسی طرح پاکستان کی جانب سے حریت قیادت کی سیاسی اور اخلاقی حمایت، لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی مسلسل اپیلیں، اور بھارت کے جبر پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی مستقل کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کشمیریوں کا صرف ہمسایہ نہیں، بلکہ ان کا وکیل، ان کا محافظ اور ان کا حقیقی خیر خواہ ہے۔
ادھر بھارت ہے — جو جمہوریت کے لبادے میں چھپا ایک ایسا ریاستی فراڈ ہے جس کی بنیاد جھوٹ، منافقت اور ظلم پر رکھی گئی ہے۔ پانچ اگست 2019 کا دن جب بھارت نے آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا، صرف ایک آئینی ترمیم نہیں تھی بلکہ کشمیریوں کی شناخت، ان کی ثقافت اور ان کے وجود پر ایک ظالمانہ حملہ تھا۔ بھارت نے کشمیر کو فوجی چھاؤنی میں بدل کر لاکھوں کشمیریوں کو قیدی بنا دیا۔ انٹرنیٹ بند، میڈیا پر تالے، انسانی حقوق کی تنظیموں پر پابندیاں — یہ سب کسی جمہوری ریاست کی نشانیاں نہیں بلکہ ایک قابض اور فریب کار سامراج کی پہچان ہیں۔
بھارت کی اندرونی حالت بھی اس کے جھوٹے دعووں کا پردہ چاک کرتی ہے۔ ممبئی کا دھاراوی علاقہ، جو ایشیا کا سب سے بڑا کچی آبادی ہے، صرف 2.39 مربع کلومیٹر کے رقبے میں تقریباً 10 لاکھ افراد کو سمیٹے ہوئے ہے۔ یہاں کی گلیاں تنگ، صفائی کا فقدان، اور بنیادی سہولیات ناپید ہیں۔ دھاراوی میں رہنے والے افراد کی زندگی انتہائی مشکل ہے، جہاں صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔
بھارت میں غربت کی شرح بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ 2024 میں تقریباً 12.92% بھارتی آبادی روزانہ $2.15 سے کم پر گزارا کرتی ہے، جو عالمی بینک کے مطابق انتہائی غربت کی تعریف میں آتا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارت میں لاکھوں افراد بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں۔
مزید برآں، بھارت میں کھلے میں رفع حاجت کا مسئلہ بھی سنگین ہے۔ 2022 میں، بھارتی آبادی کا 11.1% حصہ کھلے میں رفع حاجت کرتا تھا، جو صحت عامہ کے لیے خطرناک ہے۔ یہ صورتحال بھارت کی صفائی اور صحت کے شعبے میں ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بات دنیا کے ہر انصاف پسند فرد کو سمجھ آ چکی ہے کہ بھارتی حکومت کی پالیسیاں دوغلی، دھوکہ دہ، اور مکمل طور پر ناقابلِ اعتبار ہیں۔ وہ قوم جو آج اقلیتوں کو اپنے ہی ملک میں دوسرے درجے کا شہری سمجھتی ہے، وہ کشمیریوں کو کیا آزادی دے گی؟ بھارت کے وزراء سے لے کر اس کے اعلیٰ ترین ادارے تک، سب جھوٹ کو قومی پالیسی کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں۔ ان کا وعدہ، ان کا معاہدہ، ان کی قرارداد — سب کا انجام صرف دھوکہ ہوتا ہے۔
اور یہاں ایک سچ ایسا ہے جسے بھارت لاکھ کوشش کے باوجود مٹا نہیں سکا: کشمیری دل سے، روح سے، نظریے سے، اور ایمان سے پاکستان کے ساتھ ہیں۔ نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کی بنیاد پر، بلکہ اس لیے بھی کہ کشمیری عوام جانتے ہیں کہ بھارت کا چہرہ کیا ہے — ظلم، دھوکہ، لالچ اور مکر۔ کشمیری نوجوان جب پاکستانی پرچم تھام کر بھارتی گولیوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو یہ صرف جذباتی عمل نہیں، یہ پوری قوم کی اجتماعی گواہی ہے کہ ان کا مستقبل صرف پاکستان سے وابستہ ہے۔
یہ مسئلہ زمین کا نہیں، انسانوں کے خون، ان کی آزادی اور ان کی شناخت کا ہے۔ پاکستان ہمیشہ کہتا آیا ہے کہ کشمیر کا حل نہ بارود میں ہے، نہ بندوق میں، بلکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی انصاف، اور کشمیریوں کی مرضی میں ہے۔ مگر بھارت کے کان بہرے، دل پتھر اور نیت ناپاک ہے۔ وہ طاقت کے زور پر کشمیریوں کی آواز کو دبانا چاہتا ہے، لیکن یہ آواز اب عالمی ضمیر تک پہنچ چکی ہے۔
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ضرور ہے، مگر یہ صرف جغرافیائی نہیں، ایک روحانی اور فکری رشتہ ہے۔ پاکستان کا دل کشمیریوں کے ساتھ دھڑکتا ہے، ان کی تکلیف پر تڑپتا ہے، اور ان کی آزادی کی دعا کرتا ہے۔ وہ دن ضرور آئے گا جب دنیا بھارت کے دھوکے کو پہچانے گی، کشمیر کا سورج آزادی کے ساتھ طلوع ہوگا، اور پاکستان کا پرچم سری نگر کی فضا میں پوری آب و تاب سے لہرائے گا۔