ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ایٹم بنانے میں کردار

پاکستان میں ایٹمی پروگرام کی بنیاد 1956ء میں رکھی گئی تھی ، جس کے پہلے سربراہ نذیر احمدتھے ، بعدازاں کمیشن کے نئے صدر ڈاکٹر عشرت حسین عثمانی اور دیگر ماہرین مثلاً پروفیسر رفیع محمد چودھری،سلیم الزمان صدیقی، ریاض الدین صدیقی،ڈاکٹر عبدالسلام ، منیر احمد خان وغیرہ نے پاکستانی ایٹمی پروگرام کو رواں دواں رکھا، 1967ء میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن سے وابستہ جوہری سائنس دانوں اور انجینئروں نے ڈاکٹر ثمر مبارک مند ،سلطان بشیر الدین اور محمد حفیظ قریشی کی زیر قیادت یورینیم 235 افزودہ کرنے کے سلسلے میں تجربات کیے تھے مگر انہیں زیادہ کامیابی نہیں ملی۔

جنوری 1972ء میں منیر احمد خان پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے سربراہ بن گئے۔ مارچ 1973ء میں پاکستانی ایٹمی توانائی کمیشن کے تین ماہرین عبدالمجید چوہدری ‘ خلیل قریشی اور ظفر اللہ خان بیلجیم کے شہر مول پہنچ گئےانہوں نے اتنی تربیت حاصل کر لی کہ نیلور میں ابتدائی قسم کے پلوٹونیم پروسیسنگ پلانٹ کی تنصیب کر سکیں۔ لیکن اس وقت پاکستان کے پاس ایسا کوئی بریڈر ری ایکٹر نہیں تھا کہ وہاں استعمال شدہ یورینیم نیو لیبز میں ری پروسس ہوتا۔ اسی لیے پلانٹ کی تنصیب کا معاملہ لٹک گیا ۔

ایٹم بم صرف پلوٹونیم یا افزودہ یورینیم 235سے بنتا ہے۔ یورینیم 235 واحد قدرتی انشقاقی (Fissile) مادہ ہے یعنی وہ پھٹ کر زبردست توانائی پیدا کرتا ہے۔

ایٹم بم کا میٹریل حاصل کرنے کے دو بنیادی طریقے ہیں۔ اول گیس سینٹری فیوج اور دوم بریڈر ری ایکٹر مع ری پروسیسنگ پلانٹ۔ گیس سینٹری فیوج طریق کار میں یورینیم آکسائڈ سے یورینیم 235کو الگ کیا جاتاہے۔

یورینیم 235 پھر ایٹم بم بنانے میں کام آتا ہے۔پاکستان کے پاس نہ تو گیس سینٹری فیوج تھے نہ ہی بریڈر ری ایکٹر تھے اس لئے 18 سال کی سر توڑ کوشش کے باوجود پاکستان کا ایٹم بم بنانے کا سفر ایک خاص جگہ پر رک چکا تھا ۔

1974ء میں بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستانی حکومت جلد از جلد ایٹم بم بنانا چاہتی تھی۔ مگر ایٹمی توانائی کمیشن کے پاس ایٹم بم بنانے کا کوئی طریقہ موجود نہ تھا ، نہ سینٹری فیوج تھے نہ بریڈر ریکٹر کوئی کام کر رہا تھا۔ ایسے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان سامنے آئے ، ڈاکٹر صاحب گیس سینیٹری فیوج طریق کار سے یورینیم 235افزودہ کرنے والی ایک کمپنی سے وابستہ تھے جو ایملوشہر میں گیس سینٹری فیوج پلانٹ چلا رہی تھی۔

یہاں یہ بات سمجھ لیں کہ گیس سینٹری فیوج طریقے میں ہزار ہا لمبوترے پائپوں جیسی مشینوں کے اندر زرد کیک کو گیس میں ڈھال کر نہایت تیزی سے گھمایا جاتا ہے۔

تب یورینیم 235 گیس کی شکل میں یورینیم 238 سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ایک سینٹری فیوج مشین سال میں 30گرام یورینیم 235 تیار کر سکتی ہے۔ لہٰذا پلانٹ میں جتنی زیادہ مشینیں ہوں’ اتنا ہی زیادہ یورینیم 235ء حاصل ہوتا ہے۔ اگر پلانٹ میں ایک ہزار مشینیں ہوں تو وہ سال میں 20 سے 25 کلو یورینیم 235 بنا لیتی ہیں۔

یہ ایک ایٹم بم بنانے کے لیے کافی ہے۔گیس سینٹری فیوج پلانٹ تیار کرنا مگر بہت مشکل اور پیچیدہ عمل ہے۔ اسے صرف وہی ماہرین تیار کر سکتے ہیں جو اس ٹیکنالوجی کا تجربہ، ‘ذہانت اور محنت کی لگن رکھتے ہوں، بھارتی ایٹمی دھماکے کے بعد اگست میں ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے وزیراعظم بھٹو کو خط لکھ کربتایا کہ پاکستان پلوٹونیم کے بجائے افزودہ یورینیم 235سے جلد ایٹم بم بنا سکتا ہے۔ دو سال تک سلطان بشیر الدین کی نگرانی میں سینٹری فیوج بنانے کی کوشش جاتی رہی مگر کوئی کامیابی نہیں ملی ، 1976 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان آئے تو یہ دیکھ کر مایوس ہوئے کہ کام تو وہیں رکا ہوا تھا جہاں وہ دو سال پہلے چھوڑ کر گئے تھے ، انہوں نے مستقل طور پر پاکستان میں رہی رہنے کا فیصلہ کیا ۔
انہیں کی زیر نگرانی کہوٹہ اور واہ میں منصوبے سے متعلق لیبارٹریاں تعمیر ہوئیں ۔ تعمیراتی کام پاک فوج کی نگرانی میں مکمل ہوا۔لیبارٹریوں کی تعمیر کے بعد اب متعلقہ مشینری وہاں نصب کرنا تھی۔ بنیادی پرزہ جات تو مقامی انجینئروں سے تیار کرا لیے گئے ۔ اب جدید نوعیت کی مشینری یورپی کمپنیوں سے خریدنا تھی۔ اس خریداری میں ڈاکٹر عبدالقدیر کا تجربہ بہت کام آیا۔

دراصل یورپی ممالک نے اپنی کمپنیوں پر پابندی لگا رکھی تھی کہ وہ کوئی ایسا پرزہ یا مشین بیرون ملک فروخت نہیں کر سکتیں جو ایٹمی پروگرام میں استعمال ہو سکے۔ مگر گیس سینٹری فیوج طریق کار میں استعمال ہونے والی مشینری کی ندرت یہ تھی کہ وہ طبی و صنعتی منصوبوں میں بھی استعمال ہوتی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے اسی ندرت سے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ مطلوبہ مشینری کا ہر پرزہ مختلف کمپنیوں سے خریدا جائے تاکہ کسی کو یہ شک نہ ہو کہ پاکستانی اسے ایٹمی پروگرام کی خاطر خرید رہے ہیں۔ جب سبھی پرزے آ جائیں ‘ تو مطلوبہ مشینری تیار کر لی جائے گی۔

ڈاکٹر صاحب کے پاس متعلقہ مشینری بنانے والی 100کمپنیوں کی فہرست موجود تھی۔ چنانچہ ان کی رہنمائی میں پاکستانی تاجر مطلوبہ پرزے خریدنے لگے مثلاً مشین ٹولز ‘ ،مختلف اقسام کے مقناطیس،’ اسٹیل پائپ،’ ویکیوم پمپ،’ بال بیرنگ اور ہر قسم کے دیگر پرزہ جات۔ بعض اہم پرزے تاجر نہیں خرید سکے۔ انہیں خریدنے کی خاطر جعلی طبی یا صنعتی کمپنی بنائی گئی ان کے ذریعے پرزے خرید لئے گئے۔ ابتداً پروجیکٹ 706سے منسلک بعض ماہرین کا بھی خیال تھا کہ یہ سعی لا حاصل ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کبھی سینٹری فیوج مشینیں نہیں بنا سکتے۔ ڈاکٹر صاحب کی راہ میں کئی رکاوٹیں حائل رہیں۔ مگر انہوں نے حوصلہ نہ ہارا۔ اور 1983ء تک اتنا زیادہ یورینیم 235 جمع ہو گیا کہ اس سے ایٹم بم بنائے جا سکیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر نے جو کہا تھا ‘ اسے سچ کر دکھایا۔ انہوں نے صرف سات سال کی قلیل مدت میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنا دیا۔

اس لیے انہیں بجا طور پر ”پاکستانی یورینیم ایٹم بم کا باپ” کہا جاتاہے۔ ملک و قوم کے لیے ان کی خدمات تاابد یاد رکھی جائیں گی۔

ایک اور اہم بات کہ کہا جاتا ہے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کچھ معلومات چوری کی تھیں ، مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ ہالینڈ کی ایک عدالت میں ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ چلایا گیا تھا جس میں ہالینڈ کے سائنس دانوں نے ثابت کیا کہ قدیر خان کے پاس جو بھی علم ہے وہ کتابوں میں عام طور پر لکھا جاتا رہا ہے ، کچھ ایسا نہیں ہے جو انہوں نے چوری کیا ہو ، جس کے بعد یہ مقدمہ خارج کر دیا گیا تھا ،
اب آپ خود ہی دیکھ لیں کہ پاکستان کے کتنے اعلیٰ درجے کے سائنسدان 20 سال تک ایٹم بنانے کی کوشش کرتے رہے مگر نہیں بنا سکے ۔ ایٹم بنانے کیلئے سینٹری فیوجز ضروری تھے جو قدیر خان نے بنائے ، اگر سینٹری فیوج بنانے آسان ہوتے اور اس طریقے سے یورینیم کی افزودگی آسان ہوتی تو آج ایران ، لیبیا ، ساؤتھ کوریا بھی ایٹم بم بنا چکے ہوتے ۔ کسی بھی صورت میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات نظرانداز نہیں کی جا سکتیں ، آپ خود اندازہ لگالیں کہ سولہ سال تک پاکستانی سائنسدان کوشش کرتے رہے مگر ناکام رہے اور قدیر خان نے سات سال میں ایٹم بم بنا ڈالا ۔ مگر پھر بھی بعض لوگ ناکام سائنسدانوں کو سر پر بٹھاتے ہیں اوراصلی ہیروز کو نظرانداز کرتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے