چین کا ہانگ کانگ میں عالمی ثالثی ادارے کا قیام: دنیا میں طاقت کے توازن کی جانب ایک اہم پیش رفت

چین نے حال ہی میں ہانگ کانگ میں بین الاقوامی ثالثی کے لیے ایک نئے ادارے، "International Organization for Mediation and Dispute Resolution” (IOMedD) کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اس تنظیم کے افتتاحی تقریب میں چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے زور دے کر کہا کہ یہ ادارہ "جیت یا ہار” کی سوچ سے بالاتر ہو کر صرف بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کے لیے کام کرتے ہوئے عالمی ہم آہنگی کو فروغ دے گا۔

چین کی جانب سے اس اقدام کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ وانگ ژی کے مطابق، یہ ادارہ روایتی عدالتی نظام سے ہٹ کر ثالثی کے ذریعے عالمی تنازعات کو حل کرے گا، جس میں فریقین کے درمیان مفاہمت پر خاص زور دیا جائے گا۔ چین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی نظام، جیسا کہ اقوام متحدہ ہو یا پھر بین الاقوامی عدالت انصاف، اکثر و بیشتر مغربی ممالک کے زیر اثر رہتے ہیں جس سے انصاف کے ضروری تقاضے پورے نہیں ہو رہے، جبکہ IOMedD ایک متوازن اور غیر جانبدارانہ پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

چین نے ہانگ کانگ کو اس منصوبے کے لیے منتخب کر کے بھی ایک اہم پیغام دیا ہے کہ یہ شہر اب بھی ایک اہم بین الاقوامی مرکز ہے، اگرچہ بیجنگ نے 2019 کے احتجاجی مظاہروں کے بعد سے وہاں پر سخت قوانین نافذ کر دیے ہیں۔ اس اقدام سے چین یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ہانگ کانگ "ایک ملک، دو نظام” کے تحت کامیابی سے چل رہا ہے۔ حالیہ تاریخ میں دنیا بڑے پیمانے پر طاقت کے عدم توازن سے دو چار ہے۔ مغرب کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے جبکہ یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ مغرب انصاف کو کم اور مفادات کو زیادہ دیکھ رہا ہے ایسی حالت میں عالمی منظر نامے پر انصاف ہوتا نظر آرہا ہے نہ ہی دیرپا استحکام جبکہ جاری تنازعات حل کی بجائے مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔

دنیا میں طاقت کے توازن کی ضرورت ایک ایسا موضوع ہے جو کہ بین الاقوامی تعلقات، قیام امن اور تنازعات کے دیرپا حل میں ایک محوری حیثیت رکھتا ہے۔ تاریخی طور پر، طاقت کے توازن کا تصور ریاستوں کے درمیان طاقت کی مساوی تقسیم کو یقینی بنانے سے متعلق ہے تاکہ کوئی ایک ملک یا گروہ کسی دوسرے پر غلبہ حاصل نہ کرسکے۔ اس کا مقصد جنگوں کو روکنا، استحکام پیدا کرنا اور بین الاقوامی نظام میں ضروری توازن برقرار رکھنا ہے۔

طاقت کے توازن کا نظریہ یورپ میں ویسٹ فیلیا کا معاہدہ جو کہ 1648 میں ہوا تھا، کے بعد پروان چڑھا ہے، جب مختلف ریاستوں نے ایک دوسرے پر بالادستی سے بچنے کے لیے اتحاد اور ضدّی اتحاد کی پالیسی اپنائی۔ مثلاً، نپولین کے خلاف یورپی اتحاد یا پھر سرد جنگ کے دوران آمریکہ اور سوویت یونین کے درمیان دو قطبی طاقت کا توازن، اس کی واضح مثالیں ہیں۔ طاقت کے توازن میں جو مشترکہ اور بنیادی فوائد پیش نظر ہیں ان میں جنگوں کی روک تھام، پائدار امن و استحکام، چھوٹی ریاستوں کی حفاظت اور عالمی سطح پر طاقت کی منصفانہ تقسیم قابل ذکر ہے۔

آج کی دنیا میں طاقت کا توازن معاشی، فوجی، تکنیکی اور ثقافتی طاقت کے مراکز کے درمیان گردش کر رہا ہے۔ اس تناظر میں چند اہم پیمانے مندرجہ ذیل ہیں

چین کی معاشی اور فوجی ترقی نے بزبان حال آمریکی بالادستی کو چیلنج کیا ہے، جس سے نئی دو قطبی کشمکش جنم لے رہی ہے۔ اس طرح یوکرین جنگ نے روس کو ایک متنازعہ طاقت بنا دیا ہے، لیکن اس کے پاس جوہری طاقت اور وسائل اتنے موجود ہیں جو کہ طاقت کے توازن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس طرح بھارت، جاپان، جرمنی اور سعودی عرب (اب اس کیٹیگری میں پاکستان بھی شامل ہو گیا ہے) جیسے ممالک بھی اپنے اپنے خطوں میں توازن کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس طرح مختلف دہشت گرد گروہ، ملٹی نیشنل کمپنیاں اور دوسری بین الاقوامی تنظیمیں بھی طاقت کے نئے مراکز بن رہے ہیں۔ اس وقت عملاً دنیا کی یک قطبی سے کثیر قطبی نظام کی طرف منتقلی شروع ہو چکی ہے آمریکہ کی نسبتاً کمزوری اور چین کے عروج سے طاقت کا عالمی توازن بدل رہا ہے۔

لمحہ موجود میں طاقت کا توازن اب صرف فوجی طاقت تک محدود نہیں، بلکہ معاشی استحکام، جدید ترین ٹیکنالوجی اور نرم طاقت پر بھی منحصر ہے جو کہ دنیا کو ایک مستحکم بین الاقوامی نظام کے لیے درکار ہے مثلاً مشترکہ سلامتی کے اداروں کو مضبوط بنانا (جیسا کہ اقوام متحدہ کی اصلاح)، اس طرح بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا، اس طرح مذاکرات اور سفارت کاری کو جنگ پر ترجیح دینا مزید برآں مشترکہ عالمی چیلنجز (جیسا کہ موسمیاتی تبدیلیوں، بیماریوں اور وباؤں) پر باہمی تعاون کو یقینی بنانا۔

طاقت کا توازن بین الاقوامی امن اور استحکام کی بنیاد ہے، لیکن یہ ایک جامد تصور نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ طاقت کے ذرائع اور مراکز بدلتے رہتے ہیں۔ مستقبل میں، اگر دنیا طاقت کی دوڑ کو تعاون میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوئی تو اس سے ایک زیادہ مستحکم اور منصفانہ عالمی نظام تشکیل پا سکتا ہے ورنہ طاقت کے توازن کے لیے جاری کشمکش نت نئے تنازعات کو جنم دے سکتی ہے۔

اگرچہ چین اپنے اس منصوبے کو ایک عالمی خدمت کے طور پر پیش کر رہا ہے، لیکن بہت سے مبصرین کے ذہنوں میں طرح طرح کے سوالات بھی اٹھ رہے ہیں مثلاً چین خود جنوبی چین سمندر، تائیوان اور دیگر علاقائی تنازعات میں جارحانہ موقف اختیار کرتا آیا ہے۔ کیا وہ واقعی دوسرے ممالک کے درمیان غیر جانبدار ثالث بن سکتا ہے؟ اس طرح ہانگ کانگ پر چین کا مکمل کنٹرول ہے۔ کیا یہ ادارہ واقعی آزاد ہوگا، یا پھر بیجنگ کے سیاسی ایجنڈے کا آلہ کار بن جائے گا؟ اس طرح آمریکہ اور یورپ اس اقدام کو چین کے اپنے مفادات کو بروئے کار لانے والا ایک ایجنڈا سمجھ سکتے ہیں۔ اس طرح دوسرے ممالک ایک ایسے ادارے کو جو چین کے زیر انتظام چل رہا ہے اس پر اعتماد کرنے کو تیار ہوں گے؟ چین اگر ایک عالمی کردار نبھانے کے خواہشمند ہے تو اُسے ان تمام سوالات کو سنجیدہ لینا ہوگا۔

چین گزشتہ کئی سالوں سے اقوام متحدہ، عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں تواتر سے اصلاحات کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ اس نئے ادارے کے ذریعے، چین شاید ایک متوازی بین الاقوامی نظام تشکیل دے رہا ہے جس میں اس کی خواہش شاید ایک متوازن عالمی ماحول تخلیق کرنا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اقدام خاص طور پر ان ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بہترین متبادل ثابت ہو سکتا ہے جو کہ مغربی اثر و رسوخ سے سخت بیزار ہیں، وہ یقیناً اس نئے ادارے کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔

امکانات اور چیلنجوں کے عین بیچوں بیچ چین کا یہ تازہ قدم ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اگر یہ ادارہ واقعی غیر جانبدار اور موثر ثابت ہوتا ہے، تو یہ بین الاقوامی تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ صرف چین کی خارجہ پالیسی کا ہی ایک وسیلہ بن کر رہ جاتا ہے، تو اس سے عالمی سطح پر مزید تقسیم و تفریق اور عدم اعتماد پیدا ہو سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ بری طرح تقسیم و تفریق کے عالمی ماحول میں کوئی بھی ادارہ مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔ چین کے لیے اپنے دعووں کو عملی طور پر ثابت کرنے کے لیے یہ ادارہ کھلے اور شفاف طریقے سے چلانا ہوگا۔ ورنہ، IOMedD صرف ایک نیا جیوپولیٹیکل اوزار بن کر رہ جائے گا اور انسانیت کے زخموں پر مرہم پٹی رکھنے میں ناکام رہے گا۔

اس حقیقت میں ذرہ بھر شک نہیں کہ موجودہ عالمی نظام اور ماحول خرابیوں سے بھر چکا ہے اور اس کی فطرت میں تنازعات کے حل کے لیے درکار صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ مسائل حل ہو رہے ہیں نہ تنازعات ختم ایسے میں متبادل پلیٹ فارمز کا قیام ضروری بھی ہے اور نیک شگون بھی تاہم اس مقصد کے لیے عالمی امن کا قیام، انصاف کا فروغ اور اور ایک بااعتماد عالمی ثالثانہ کردار پیش نظر ہو نہ کہ اپنے مخصوص اغراض و مفادات۔ چین کی یہ خواہش اور کوشش بہر صورت قابل ستائش ہے، لیکن جب تک طاقتور ممالک اپنے مخصوص مفادات پر مشترکہ مقاصد یعنی امن، سلامتی اور تنازعات کے دیرپا حل کو ترجیح نہیں دیں گے، تب تک ایسے اداروں کا کردار مشکوک ہی رہے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے