جی۔ ایم۔ سید : تحریکِ پاکستان سے علیحدگی تک

جی ایم سید اور آل انڈیا مسلم لیگ کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کی جڑیں درحقیقت اس سیاسی کشمکش میں پیوست تھیں جو 1944ء کے بعد شدت اختیار کر گئی تھی۔ مسلم لیگ اور جی ایم سید کے راستے اس وقت جدا ہونا شروع ہوئے جب سندھ مسلم لیگ نے صوبے کے معاملات میں مرکزی قیادت کی مداخلت کے خلاف آواز اٹھائی۔ جی ایم سید کو یہ شکوہ تھا کہ مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت جاگیرداروں کی پشت پناہی کر رہی ہے، جبکہ مسلم لیگ کا الزام تھا کہ جی ایم سید پارٹی کے نظم و ضبط کے خلاف بغاوت پر آمادہ ہیں اور اختلافات کو جنم دے کر تنظیم کو کمزور کر رہے ہیں۔

یہ کہنا بجا ہوگا کہ دونوں کے الزامات میں کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور تھی۔ جی ایم سید کے نزدیک سندھ کے وڈیروں اور جاگیرداروں کا طبقہ رجعت پسند، عوام دشمن اور موقع پرست تھا، اور یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں تھی کہ مسلم لیگ کی قیادت 1944ء کے بعد اس طبقے کو اپنے قریب کرتی جا رہی تھی۔ سید کا مؤقف تھا کہ سندھ کے سیاسی افق پر چھائے ہوئے جاگیردار، پیری مریدی کے سائے میں پلنے والے مفاد پرست اور انگریز حکومت کے وفادار عناصر عوام کے حقیقی نمائندے نہیں تھے۔ خاص طور پر غلام حسین ہدایت اللہ جیسے افراد، جو اپنی سیاست کو صرف اقتدار کے تسلسل کی ضمانت کے طور پر دیکھتے تھے، ان کے لیے نہ تو مسلم لیگ کوئی عقیدے کی جماعت تھی اور نہ ہی قیامِ پاکستان ان کا خواب۔

لیکن اگر ہم جی ایم سید کی سیاست کا غیر جانبدار تجزیہ کریں، تو یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ وہ خود بھی عملی طور پر سندھ کے ہاریوں اور محنت کش عوام کے مفادات کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہ کر سکے۔ وہ خود بھی سیاست میں انہی جاگیرداروں اور سرمایہ داروں پر انحصار کرتے رہے جن پر وہ مسلم لیگ کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ نوائے وقت نے شاید درست ہی لکھا تھا کہ جن لوگوں کو جی ایم سید مسلم لیگ کے ٹکٹ دلوانا چاہتے تھے، وہ خود کسی طور پر ہاری، مزدور یا عام کسان نہ تھے، بلکہ وہ بھی انہی مراعات یافتہ طبقات سے تعلق رکھتے تھے جن کے خلاف وہ اپنی تقریروں میں زہر اگلتے تھے۔

جی ایم سید کے سیاسی سفر کی سب سے بڑی کمزوری ان کی انتہا پسندی اور ضد تھی۔ وہ سیاسی حقیقتوں کو سمجھنے کے بجائے اپنے خیالات اور تصورات کو مقدم رکھتے تھے، اور اسی ضد نے انہیں اس مقام پر پہنچایا جہاں ان کے ہاتھوں سے سندھ کی سیاست مکمل طور پر جاگیرداروں کے قبضے میں چلی گئی۔ اگر وہ ہندوستان کے سیاسی منظرنامے، برطانوی حکمتِ عملی اور عالمی حالات کو زیادہ گہرائی سے دیکھتے تو شاید وہ ایسے فیصلے نہ کرتے جو ان کی اپنی سیاست کے لیے تباہ کن ثابت ہوئے۔

1937ء کے بعد برصغیر میں ہندو مسلم اختلافات کی جو خلیج پیدا ہو چکی تھی، وہ اتنی گہری تھی کہ اسے محض نعرے بازی یا آئیڈیلزم کے زور پر پاٹا نہیں جا سکتا تھا۔ قائداعظم کی قیادت میں مسلم لیگ 1937ء سے 1945ء کے دوران اس قدر مضبوط ہو چکی تھی کہ کوئی بھی سمجھدار مسلمان لیڈر اس کا مقابلہ کرنے کا نہیں سوچ سکتا تھا۔ پنجاب کے سر سکندر حیات، آسام کے سر سعد اللہ اور بنگال کے مولوی فضل الحق جیسے تجربہ کار سیاستدان بھی آخرکار جناح کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہو گئے تھے۔ جی ایم سید کی سب سے بڑی غلطی یہی تھی کہ وہ 1944-45ء میں مسلم لیگ کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو گئے، حالانکہ اس وقت تک مسلم لیگ کی سیاست پورے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک ناگزیر حقیقت بن چکی تھی۔

یہ حیرت کی بات تھی کہ ایک زیرک سیاستدان ہونے کے باوجود جی ایم سید اس حقیقت کو نہ سمجھ سکے کہ آل انڈیا کانگریس اور ہندو اخبارات کیوں ان کی کھلم کھلا حمایت کر رہے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہندو سیاست ہمیشہ ان عناصر کی پشت پناہی کرتی رہی ہے جو مسلم قیادت میں انتشار پیدا کر سکتے ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ 1944-45ء کے دوران ہندو اخبارات میں جی ایم سید کو ایک عوام دوست اور اصول پرست سیاستدان قرار دیا جاتا، جبکہ جناح کو آمریت پسند، شاہانہ مزاج کا حامل اور مسلمانوں کے مفادات کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا۔ یہ پروپیگنڈا سندھ کے عوام پر الٹا اثر ڈال رہا تھا۔

مسلم لیگ پر آمرانہ طرزِ سیاست کا الزام لگانے والے جی ایم سید شاید اس حقیقت کو نظر انداز کر رہے تھے کہ برصغیر کی سب سے بڑی سیاسی جماعت آل انڈیا کانگریس بھی مکمل طور پر ایک فردِ واحد، یعنی گاندھی کے تابع تھی۔ کانگریس میں بھی جمہوری روایات کی کوئی گنجائش نہیں تھی، بلکہ وہاں بھی گاندھی کا حکم ہی آخری فیصلہ ہوتا تھا۔ گاندھی کی آمریت کا عالم یہ تھا کہ اگر کسی کانگریسی لیڈر کو ان سے اختلاف ہوتا، تو یا تو وہ خود پیچھے ہٹ جاتا، یا پھر کانگریس میں اس کے لیے کوئی جگہ باقی نہ رہتی۔

جی ایم سید کا "سندھ سندھیوں کے لیے” کا نعرہ بھی درحقیقت ایک محدود نظریہ تھا، جو اس حقیقت کو نظر انداز کرتا تھا کہ سندھ کی سیاست پورے برصغیر کے مسلمانوں کے اجتماعی مفادات سے جڑی ہوئی تھی۔ یہ وہی مؤقف تھا جو پنجاب میں سر خضر حیات نے اپنایا تھا، کہ پنجاب صرف پنجابیوں کے لیے ہے اور یہاں کسی غیر پنجابی کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ لیکن تاریخ نے ثابت کر دیا کہ ایسے علاقائی نعرے زیادہ دیر تک نہیں چل سکتے، کیونکہ وہ اجتماعی قومی مفادات کے خلاف ہوتے ہیں۔

آخرکار جی ایم سید کی ہٹ دھرمی اور غیر حقیقت پسندانہ سیاست نے انہیں سندھ کے سیاسی منظرنامے سے آہستہ آہستہ بے دخل کر دیا۔ جناح، جنہیں وہ آمریت پسند قرار دیتے تھے، درحقیقت ایک ایسے لیڈر تھے جو زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرنا جانتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ سندھ میں درمیانے طبقے کی عدم موجودگی کے باعث انہیں جاگیرداروں پر انحصار کرنا ہوگا، کیونکہ انہیں کسی بھی قیمت پر انتخابات جیتنے تھے اور مسلم لیگ کی سیاسی ساکھ کو مضبوط کرنا تھا۔ یہ ایک حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی تھی، جس نے قیامِ پاکستان کی راہ ہموار کی۔

جی ایم سید کی مخالفت اور سیاسی غلطیوں کے باوجود تاریخ کا فیصلہ واضح ہے: جناح نے ایک بکھری ہوئی قوم کو یکجا کر کے اسے ایک آزاد مملکت دلوائی، جبکہ جی ایم سید کی سیاست انہیں تنہائی کے سوا کچھ نہ دے سکی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے