ایوانِ صدر: ایک اہم قومی علامت لیکن اس کی افادیت بڑھانے کی ضرورت ہے

پاکستان کا ایوانِ صدر نہ صرف ملک کی سب سے اہم سرکاری رہائش گاہ ہے، بلکہ یہ قومی وقار، تاریخ اور حکومتی نظام کی علامت بھی ہے۔ 2022 کو کشمیر کے موضوع پر منعقدہ ایک تقریب میں مجھے شرکت کا موقع ملا تو ایوانِ صدر کی عظمت اور اس کے دائرہ کار کو قریب سے دیکھنے کا تجربہ ہوا۔ آئیے، اس تاریخی عمارت کی حیثیت، تعمیراتی پسِ منظر، اور اس کے ممکنہ افادیت بڑھانے پر ایک طائرانہ اور جامع نظر ڈالتے ہیں۔

تاریخی پسِ منظر اور فن تعمیر

پاکستان کے قیام کے بعد، صدر مملکت کی سرکاری رہائش گاہ راولپنڈی کے "پرنس پیلس” (موجودہ فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی) میں تھی۔ 1970ء میں اسلام آباد میں جدید ایوانِ صدر کی تعمیر کا آغاز ہوا، جو تقریباً 12 سال بعد 1982ء میں مکمل ہوئی۔ سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے اس کا باقاعدہ افتتاح کیا تھا، لیکن وہ فوجی سربراہ ہونے کی وجہ سے راولپنڈی کے آرمی ہاؤس میں مقیم رہے۔ ایوانِ صدر میں باقاعدہ قیام کا سلسلہ 1988ء میں صدر غلام اسحاق خان سے شروع ہوا۔ بعد ازاں، صدر فاروق لغاری، محمد رفیق تارڑ، آصف علی زرداری، اور سید ممنون حسین نے بھی اسے اپنی رہائش کے طور پر استعمال کیا۔ تاہم، صدر پرویز مشرف نے بھی آرمی ہاؤس میں قیام کو ترجیح دی۔

تعمیراتی جمالیات اور خصوصیات

ایوانِ صدر کی تعمیر جدید فنِ تعمیر کے اعلیٰ معیارات کے مطابق کی گئی ہے۔ اس کے چار مرکزی ہالز یعنی جناح ہال، لیاقت ہال، جوہر ہال، اور نشتر ہال پاکستان کے بانیان کے ناموں پر رکھے گئے ہیں۔ عمارت کے ساتھ مغلیہ طرز کے باغات موجود اور فوارے نصب ہیں، جبکہ 2008ء میں ایک چڑیا گھر بھی قائم کیا گیا ہے، جہاں چنکارا، یوریل، طوطے، تیتر، اور دیگر اقسام کے جانور پائے جاتے ہیں۔

ماحولیاتی اقدامات اور عالمی پہچان

2018ء میں صدر عارف علوی نے "گرین پریذیڈنسی انیشی ایٹو” متعارف کرایا، جس کا مقصد ایوانِ صدر کو توانائی کے لحاظ سے خودکفیل بنانا تھا۔ 15 اکتوبر 2022ء کو اسے "ISO 50001 EnMS سرٹیفیکیشن” مل گیا، جو اسے دنیا کی پہلی "گرین پریذیڈنسی” بناتا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے ماحولیاتی تحفظ کے لیے درکار عزم کی عکاسی کر رہا ہے۔

عوامی رسائی اور قومی کردار

اپنی حساس نوعیت کی وجہ سے ایوانِ صدر عام طور پر عوام کے لیے بند رہتا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اسے دو مواقع پر کھولا گیا تھا، پہلی بار 8 دسمبر 2018ء اور دوسری بار یکم جنوری 2022ء کو۔ تاہم، یہ سوال نہایت اہم ہے کہ کیا ایوانِ صدر صرف ایک پرتعیش عمارت کے طور پر باقی رہے، یا اسے قومی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے بھی سائنسی بنیادوں پر استعمال کیا جانا چاہیے؟ میرا خیال ہے اتنی بڑی اور اہم عمارت کو محض ایک رہائش طور پر نہیں بلکہ ایک فعال اور وقیع ادارے کی صورت میں استعمال کرنا چاہیے۔

ایوانِ صدر کو ایک علمی اور تحقیقی مرکز بنانے کی اشد ضرورت

پاکستان کے 75 سالہ تاریخ میں بنیادی مسائل کے حل کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی کا فقدان رہا ہے۔ ایوانِ صدر کو صرف ایک رسمی رہائش گاہ کی بجائے علمی تحقیق، قومی، اور فلاحی منصوبوں کا مرکز بنایا جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر یہاں قومی سطح کے سیمینارز اور کانفرنسز منعقد کی جاسکتی ہیں۔ اس طرح معاشی، سائنسی، اور سماجی مسائل پر تحقیقی مراکز قائم کیے جاسکتے ہیں، اس سال میں مخصوص ایام پر عوام کو ایوانِ صدر کی ثقافتی اور تاریخی ورثے سے بھی روشناس کرایا جاسکتا ہے۔

ایوان صدر کے قومی کردار کی بحالی

ایوانِ صدر کو ایک فعال قومی ادارے کے طور پر استعمال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ صدرِ مملکت کا کردار صرف رسمی نہیں ہونا چاہیے، بلکہ وہ ایک قومی اور علمی رہنما کی حیثیت سے قومی یکجہتی، علمی تحقیق، اور عوامی خوشحالی جیسے مقاصد کے حصول کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔ موجودہ دور میں جبکہ ملک معاشی و سماجی چیلنجز کا بری طرح شکار ہے، ایوانِ صدر کو ایک مثالی ادارے کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے جو کہ عوامی خدمت اور قومی ترقی کی علامت بن سکے۔

ایوانِ صدر کی اصل عظمت اس کی عمارت میں نہیں، بلکہ اس کے قومی کردار اور عوامی خدمات میں پنہاں ہے۔ اسے ایک فعال مرکزِ علم و عمل بنانے سے نہ صرف ہمارے معاشرے کو سنورنے میں مدد ملے گی، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک بہتر پاکستان کی بنیاد رکھی جاسکے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے