عید الاضحیٰ: قربانی، محبت، معاونت اور مسرت کے ہزاروں لاکھوں رنگوں کی ایک خوبصورت بہار

گوشت کھائیں اور کھلائیں، قہقہے لگائیں اور لگوائیں، لطیفے سنیں اور سنائیں، محفلیں سجائیں اور جمائیں، ایک دوسرے کے ہاں آئیں اور جائیں ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب وہ مختلف رنگ و آہنگ ہیں جو عید الاضحیٰ کی خوشیوں کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ عید الاضحی صرف جانوروں کی قربانی تک محدود موقع نہیں، بلکہ یہ تو رشتوں کی تجدید، ہمدردی کے اظہار اور اجتماعی مسرت کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

عید الاضحیٰ کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ ہم اپنی عزیز ترین چیز اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کرنے کی صلاحیت اور عزم تازہ کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کر کے انسانوں کو یہ سبق دیا کہ محبتِ الٰہی ہر دنیاوی تعلق پر فوقیت رکھتی ہے۔ آج ہم دنبے، بکرے، گائے یا اونٹ کی قربانی پیش کرتے ہیں، لیکن اس کا مقصد صرف گوشت تقسیم کرنا نہیں، بلکہ اس عمل میں اپنے اندر کے لالچ، خودغرضی اور مادہ پرستی کی قربانی دینا بھی شامل ہے۔ اس موقع پر بھی اگر ہمارے دلوں سے کدورتیں دور اور رویوں سے کشیدگیاں ختم نہ ہو جائیں تو سمجھ لیں کہ آپ عید کا مقصد پانے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔

گوشت کی تین حصوں میں تقسیم (گھر، رشتہ داروں اور غریبوں کے لیے) درحقیقت ہمارے معاشرے کے ہر طبقے تک خوشیاں پہنچانے کا متوازن فارمولا ہے۔ جب ہم غریبوں کے گھروں میں عید کی روایتی ڈش پہنچاتے ہیں، تو ان کے چہروں پر جو دل آویز مسکراہٹیں آتی ہیں، وہی قربانی کی حقیقی برکت ہے۔ اس طرح قریبی عزیزوں کے ہاں آج ہم مہمان بن کر جائیں تو کل اپنے گھر ان کا والہانہ استقبال کے لیے موجود ہو۔

عید کی سب سے خوبصورت سرگرمی یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے گھروں میں جاتے ہیں۔ یہ وہ موقع ہوتا ہے جب دور بیٹھے رشتہ دار، مصروف دوست و احباب اور پڑوسی ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ اس موقع پر تحائف کی پیشکشیں، گرمجوشانہ مصافحے، مٹھائیوں کے تبادلے، تو کبھی چائے کے ساتھ گپ شپ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب وہ لمحے ہیں جو زندگی کو یادگار اور خوش گوار بناتے ہیں۔

آج کے دور میں جب مصروفیات نے ہمیں ایک دوسرے سے کافی حد تک دور کر دیا ہے، عید الاضحیٰ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں۔ لطیفے سنانے اور قہقہے لگانے کا یہ سلسلہ دراصل دلوں کے درمیان پائی جانے والی دوریوں اور زندگی میں در آنے والی تنہائیوں کو ختم کرتا ہے۔

عید کے دن ہمارے لیے یہ موقع ہوتا ہے کہ ہم اپنے غم اور پریشانیاں بھول کر دوسروں کو خوشیاں دیں۔ چھوٹے بچوں کے لیے نئے کپڑے اور عیدی، بزرگوں کے لیے خدمت اور احترام، غریبوں کے لیے خیرات و صدقات ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب وہ اعمال ہیں جو کہ عید کے دن کو خاص بناتے ہیں۔ جب ہم دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹیں دیکھتے ہیں، تو یہی حقیقی عید ہوتی ہے۔

عید الاضحیٰ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قربانی صرف ایک رسم نہیں، بلکہ باقاعدہ ایک طرزِ زندگی ہے۔ اگر ہم اپنے دل سے لالچ، کینہ اور خود غرضی کو ختم کر دیں، تو پھر ہر دن عید کا سماں ہوگا۔ آئیے، اس عید پر یہ عہد کریں کہ ہم صرف جانور ہی نہیں، بلکہ اپنے اندر کی تمام تر برائیوں کو بھی ذبح کریں گے۔ زندگی میں دوسروں کو خوش رکھنا، ان کی مدد کرنا اور موقع بہ موقع محبتیں بانٹنا ۔ ۔ ۔ ۔ یہی وہ اصل قربانی ہے جو ہمیں حقیقی خوشی دے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے