میں تو لندن آ کر اداس ہی ہو گیا۔ جو کچھ یہاں دیکھا، وہ نہ صرف آنکھوں کو بھلا لگا بلکہ دل کو ایک عجیب سی بے چینی بھی دے گیا۔ بسوں اور ٹرینوں کا ایسا حیران کن منظم نظام۔ ایک کے بعد ایک، بلاتاخیر ٹرین اور بس آتی ہے، دروازے کھلتے ہیں، لوگ خاموشی سے چڑھتے ہیں، اترتے ہیں، اور سفر جاری رہتا ہے۔ کوئی چیخ و پکار نہیں، کوئی دھکم پیل نہیں، کوئی بے صبری نہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر بس، ہر ٹرین بھری ہوئی ہے۔ گویا پورا لندن انہی پر رواں دواں ہے۔
یہاں کی خلق خدا کو معلوم ہے کہ نظام پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ وہ مطمئن ہیں کہ اگر وہ پانچ بجے اسٹیشن پہنچیں گے تو پانچ بج کر پانچ منٹ پر ٹرین آ جائے گی۔ ان کے روزمرہ کے معمولات، دفتر، اسکول، اسپتال، خریداری — سب کچھ اس پبلک ٹرانسپورٹ پر چلتا ہے۔ حکومت نے سہولت دی، اور عوام نے اس سہولت کو اپنایا، اس پر اعتماد کیا، اور اسے ضائع ہونے سے بچایا۔
ادھر دیکھیں تو دکانوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات مقرر ہیں، اور ان پر عمل بھی ہوتا ہے۔ نہ کوئی زبردستی دیر تک دکان کھولنے پر مجبور ہے، نہ ہی قانون سے کھیلنے کی اجازت ہے۔ وقت کی پابندی کا جو تصور ہم نے کتابوں میں پڑھا تھا، یہاں چلتے پھرتے نظر آتا ہے۔
اسلام آباد جیسا شہر، جہاں سڑکیں کشادہ ہیں، مگر وہ نظم، وہ ترتیب ندارد۔ یہاں لندن میں سڑکیں نسبتاً تنگ ہیں، پر گاڑیاں اپنی لین میں ہیں۔ کوئی کسی کی جگہ نہیں کاٹ رہا۔ کوئی ہارن سے کان نہیں پھاڑ رہا۔ پیدل چلنے والے سکون سے سڑک عبور کرتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ڈرائیور قانون کا پابند ہے۔ اور جو قانون کی خلاف ورزی کرے، وہ کسی اشرافیہ کا رشتہ دار ہو یا عام شہری، پکڑا جاتا ہے۔
صفائی جو مسلمانوں کا نصف ایمان ھے وہ تو کمال ھی ھے۔ کسی گھر کے باہر کوڑا کرکٹ نہیں۔ ہر چیز کے لیے جگہ مقرر ہے۔ صفائی ستھرائی کسی مہم یا اشتہار کا نام نہیں، ایک عادت ہے۔ ایک معمول ہے۔ایک تمدنی رویہ ہے۔
یہ سب دیکھ کر بس یہی سوچتا ھوں کہ ہمارا پاکستان کب ایسا ہو گا؟
ہم کب جانوروں جیسی زندگی سے نکلیں گے؟ کب ہمیں بھی یہ احساس ہو گا کہ شہری زندگی صرف بڑی عمارتوں کا نام نہیں بلکہ مہذب رویوں، قانون کی پاسداری، اور اجتماعی شعور کا نام ہے؟ کب ہماری اشرافیہ، جو یہاں آ کر قانون کے آگے لیٹ جاتی ہے، واپس جا کر اپنے ملک میں بھی قانون کو وہی احترام دے گی؟ کب وہ اپنے سے کم تر سمجھے جانے والے افراد کو انسان سمجھے گی؟ کب ہمارے ہاں سڑکوں کو باپ کی جاگیر سمجھنا بند ہو گا؟ کب ہم یہ مانیں گے کہ اشارہ توڑنا صرف ایک لمحے کی بے صبری اور گھمنڈ کی بات نہیں، بلکہ ایک قومی جرم ہے؟
ہم کب ترقی کریں گے؟ کب ہم قانون کی حکمرانی کو مذاق سمجھنے کے بجائے ایمان سمجھیں گے؟ اور آخر کب تک ہم یہ خواب دیکھتے رہیں گے کہ شاید اگلی نسل کچھ بہتر دیکھے گی؟ کیا ہم واقعی اگلی نسل کو کوئی بہتر نظام، کوئی بہتر معاشرہ دے سکیں گے؟ یا وہ بھی ہم ھماری طرح ہی حسرت بھری نظروں سے باہر کی دنیا کو دیکھتے رہیں گے؟
آخر بنیادی مسئلہ کیا ھے ؟ شاید فرق صرف سہولتوں کا نہیں، شعور کا ہے۔ نیت کا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اخلاقی تربیت کا ہے۔
ہمیں کب ہوش آئے گا؟ شاید جب بہت دیر ہو چکی ہو۔ یا شاید… کبھی بھی نہیں۔