11 جون 2004ء کو پاکستان ایک ایسے صاحبِ ضمیر، صاحبِ علم اور اصولی صحافی سے محروم ہو گیا جس نے اپنی پوری زندگی آزادیٔ صحافت کے لیے وقف کر دی۔ ضمیر نیازی نہ صرف ایک باخبر قلم کار تھے بلکہ وہ پاکستانی صحافت کی تاریخ کے بے مثال مؤرخ اور ضمیر کے آئینہ دار بھی تھے۔ وہ کراچی میں وفات پا گئے اور ابو الحسن اصفہانی روڈ پر واقع قبرستان میں سپردِ خاک کیے گئے۔
ضمیر نیازی کا اصل نام ابراہیم جان محمد درویش تھا۔ وہ 8 مارچ 1927ء کو بمبئی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی عملی جدوجہد کا آغاز 1942ء میں "ہندوستان چھوڑ دو” تحریک سے کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب برصغیر کے نوجوان آزادی کی نئی راہوں پر گامزن تھے۔ اس تحریک نے ان کے شعور کو جلا بخشی اور صحافت ان کے اظہار کا وسیلہ بن گئی۔
قیامِ پاکستان کے بعد وہ کراچی آ گئے جہاں انہوں نے معروف انگریزی روزنامہ ڈان سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا۔ اس کے بعد وہ مختلف اداروں سے وابستہ رہے، جن میں نئی روشنی، پاکستان پریس انٹرنیشنل، اور آخر کار روزنامہ بزنس ریکارڈر شامل ہیں۔ 1990ء میں انہوں نے صحافت کو خیر باد کہہ کر تحقیق اور تصنیف کی دنیا میں قدم رکھا۔
ضمیر نیازی کو بجا طور پر پاکستان میں آزادیٔ صحافت کی تاریخ رقم کرنے والا پہلا قلم کار کہا جا سکتا ہے۔ ان کی 1986ء میں شائع ہونے والی شہرہ آفاق کتاب "پریس اِن چینز” نے صحافتی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا۔ اس کتاب میں ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں میڈیا پر لگنے والی پابندیوں اور صحافیوں پر ہونے والے مظالم کی نہایت تحقیق اور دیانت داری سے دستاویزی صورت میں نشان دہی کی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے "پریس انڈر سیج” (1992ء) اور "ویب آف سنسر شپ” (1994ء) جیسی کتب کے ذریعے صحافت پر طاقتور حلقوں کے دباؤ اور سنسر شپ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ ان کی دیگر تصانیف میں "باغبان صحرا”، "انگلیاں فگار اپنی”، "حکایاتِ خوں چکاں”، اور ایٹمی دھماکوں کے تناظر میں لکھی گئی تحریروں کا مجموعہ "زمین کا نوحہ” شامل ہیں۔
1994ء میں حکومتِ پاکستان نے ضمیر نیازی کو "صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی” سے نوازا، مگر اگلے ہی برس جب کراچی کے چھ اخبارات پر پابندی لگائی گئی تو انہوں نے یہ ایوارڈ احتجاجاً واپس کر دیا۔ اس سے بڑھ کر انکار انہوں نے اس وقت کیا جب جامعہ کراچی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینے کا اعلان کیا، لیکن وہ گورنر ہاؤس جا کر یہ اعزاز وصول کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔
ضمیر نیازی نے صحافت میں نہ تو ذاتی شہرت کی طلب رکھی، نہ ہی اقتدار کے ایوانوں سے قربت کے خواہاں رہے۔ ان کی مزاحمت خاموش تھی، لیکن مؤثر۔ ان کی کتابیں آج بھی صحافت کے طلباء اور محققین کے لیے رہنما حیثیت رکھتی ہیں اور آزادیٔ اظہار کی تحریک کا بنیادی حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔
ضمیر نیازی ہم میں نہیں رہے، مگر ان کا قلم، ان کی تحریریں اور ان کا ضمیر آج بھی زندہ ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ صحافت صرف خبر دینا نہیں بلکہ سچ کی گواہی دینا بھی ہے، اور اس گواہی کے لیے بعض اوقات قیمت بھی چکانی پڑتی ہے۔ ان کی زندگی اور خدمات ہمارے لیے ایک مشعلِ راہ ہیں ایک ایسا چراغ جو اندھیروں میں جلتا رہا، اور آج بھی روشنی دے رہا ہے۔