ایبٹ آباد کے نواحی علاقے جھنگی سیداں میں پانی کی قلت ایک طویل عرصے سے جاری ہے، لیکن صورتحال اب بدترین ہو چکی ہے۔علاقے کے مکینوں کو روزانہ پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ پانی آتا تو ہے لیکن کبھی ہفتے میں ایک یا دو بار، وہ بھی محض چند منٹوں کے لیے۔لوگوں کو اپنی ضرورت کے لیے دور دراز علاقوں سے پانی لانا پڑتا ہے، جس سے خواتین، بزرگ اور بچے سخت مشکلات کا شکار ہیں۔
خراب ٹینکی، بیکار بورنگ، اور ہر مہینے جلنے والی مشینیں
جھنگی سیداں میں جو مرکزی پانی کی ٹینکی ہے، اس میں پانی سپلائی کرنے والا نظام مکمل طور پر ناقص ہو چکا ہے۔ پانی جس بڑی ٹینکی سے علاقوں کو مہیا کیا جاتا ہے، وہاں جو بورنگ مشینیں لگی ہیں وہ ہر مہینے خراب ہو جاتی ہیں۔
کبھی مشین جل جاتی ہے
کبھی پمپ بند ہو جاتا ہے
کبھی پانی آتا ہی نہیں
عجیب بات یہ ہے کہ ہر بار جب کوئی تہوار یا خوشی کا دن آتا ہے جیسے عید، جمعہ، یا قومی دن تب ہی بورنگ خراب ہو جاتی ہے۔
جیسے یہ خرابیاں سوچی سمجھی غفلت کا نتیجہ ہوں۔
حکومت فنڈ تو دیتی ہے، لیکن کام کیوں نہیں ہوتا؟
اہم سوال یہ ہے کہ جب بورنگ کی مرمت اور مشینوں کے لیے حکومت کی طرف سے فنڈز دیے جاتے ہیں،
تو وہ فنڈز استعمال کہاں ہو رہے ہیں؟
کیوں نئی اور بہتر مشینیں نہیں لگائی جاتیں؟
کیوں پرانی مشینیں بار بار جلنے کے باوجود بدلی نہیں جاتیں؟
یہاں کے لوگ روزانہ کی تکلیف میں ہیں، مگر انتظامیہ صرف خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
علاقے کے عوام کا مطالبہ
عوام نے حکومتِ وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ:
فوری طور پر نئی اور مضبوط بورنگ مشینیں لگائی جائیں
خراب سسٹم کی مکمل مرمت کی جائے
پانی کا باقاعدہ شیڈول دیا جائے
بورنگ مشینری کی مانیٹرنگ کے لیے مستقل ٹیم مقرر کی جائے
کیونکہ پانی صرف سہولت نہیں بنیادی انسانی حق ہے،اور جھنگی سیداں کے لوگ یہ حق مانگ رہے ہیں، بھیک نہیں۔