چین: ایک پُرامن اور خوشحال دنیا کا علمبردار

آج کی دنیا کے لیے امن اور خوشحالی کے تناظر میں چین بلاشبہ ایک خوبصورت اور ہمہ جہت مثال بن چکا ہے۔ چین نے اپنی پالیسیوں اور رجحانات سے دنیا پر یہ حقیقت بطریق احسن ظاہر کر دیا ہے کہ اگر کوئی قوم واضح مقصد، مستحکم پالیسیوں، عالمی تعاون، شفاف نظام اور مسلسل لگن سے کام کو لازم پکڑے تو کوئی وجہ نہیں کہ ترقی اور خوشحالی کی بلند ترین منازل برق رفتاری سے طے نہ ہو۔

چین نے ترقی کا جو ماڈل متعارف کرایا ہے وہ قومی اور علاقائی دائروں سے ہٹ کر بین الاقوامی اہداف کا حامل ہے۔ "خوشحال اور ترقی یافتہ عالمی مستقبل کی جانب مشترک سفر” کا تصور چین نے دیا ہے اور اسی کے مطابق وہ پوری یکسوئی اور دلجمعی سے مختلف ممالک کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر منزل کی جانب گامزن ہے۔ یہ حوصلہ اور جذبہ سب سے زیادہ صرف چین میں پایا جاتا ہے کہ وہ پوری دنیا کو ترقی اور خوشحالی کے حصول کے لیے شراکت داری اور تعاون کا ہاتھ مضبوطی سے بڑھائے۔

چین نے حالیہ عشروں میں جدت، شراکت، معاونت اور ترقی کے میدان میں وہ غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن سے نہ صرف چین ایک عالمی طاقت کے طور پر خوب ابھرا ہے بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک متاثر کن مثال بھی بن گیا ہے۔ چین کی یہ کامیابیاں اس کے مستحکم اقتصادی پالیسیوں، سائنس و ٹیکنالوجی میں بڑی سرمایہ کاری اور عالمی شراکت داری کو ہر سطح پر مسلسل فروغ دینے کی مضبوط حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ چین نے دنیا کو بہتر انداز میں بدلنے کا تہیہ کر رکھا ہے ایک ایسی دنیا جس میں جنگ کے بجائے امن ہو، دشمنی کی بجائے دوستی ہو، مزاحمت کی بجائے معاونت ہو اور یہ کہ انتشار کے بجائے استحکام ہو۔

چین نے گزشتہ دو تین دہائیوں میں جدت طرازی کے میدان میں زبردست ترقی کی ہے۔ چین کی حکومت نے مواصلاتی صنعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چین اب دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہوگیا ہے جو جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں ہر طرح سے خود کفیل ہے۔ چین کی کمپنیاں جیسے ہواوے، ٹینسینٹ، علی بابا اور بائیڈو نے نہ صرف علاقائی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ چین نے مصنوعی ذہانت، فائیو جی ٹیکنالوجی، رنگ بہ رنگ اور نوع بہ نوع روبوٹکس، اور بائیو ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں بڑی پیشرفت کی ہے۔ مثال کے طور پر، چین نے فائیو جی ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا بھر میں اپنی برتری قائم کی ہے اور اس ٹیکنالوجی کو تیزی سے ہر سطح پر اپنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح، چین کی مصنوعی ذہانت کی صنعت بھی حیران کن تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اس شعبے میں چین اب دنیا کے سب سے بڑے مراکز میں سے ایک بن گیا ہے۔ ڈیپ سیک (مصنوعی ذہانت کے ایپ) اس سلسلے کی سب سے بڑی اور تازہ پیش رفت ہے جس نے پوری دنیا کو حیران کر کے رکھ دیا ہے۔

چین نے عالمی سطح پر تجارتی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے متعدد بڑے اقدامات اٹھائے ہیں۔ چین کی "بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو” اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف چین کو دیگر ممالک اور براعظموں کے ساتھ جوڑے گا بلکہ اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و توسیع اور ثقافتی تبادلے کے بے شمار پروگراموں کو بھی فروغ دے گا۔ اس منصوبے کے تحت چین نے ایشیا، افریقہ، یورپ اور لاطینی امریکہ کے متعدد ممالک میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، جس سے نہ صرف ان ممالک کی معیشتوں کو قابل ذکر فائدہ پہنچا ہے بلکہ اس سے خود چین کو بھی عالمی سطح پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا خاطر خواہ موقع میسر آیا ہے۔ چین نے عالمی اداروں اور فورمز میں بھی ایک فعال اور موثر کردار ادا کیا ہے۔ عالمی تجارتی ادارے کے ساتھ شراکت داری ہو یا پھر اقوام متحدہ کے مختلف مشنز میں شمولیت ہو یا پھر دیگر بین الاقوامی تنظیموں میں چین کی ہمہ جہت معاونت نے اسے عالمی معاملات میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع دیا ہے۔

چین کی اقتصادی ترقی کو دنیا بھر میں ایک معجزے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں میں چین نے غربت کے خلاف کامیابی سے جنگ لڑی ہے اور کروڑوں لوگوں کو غربت کے منحوس دائرے سے نکالا ہے۔ چین کی اقتصادی ترقی کی شرح نے اسے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بنا دیا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد کو جدید تعلیم و تربیت سے بڑے پیمانے پر آراستہ کر کے اسے اپنے مختلف ملکی اور عالمی منصوبوں میں کام پر لگا دیا ہے جس سے نہ صرف قومی سطح پر روزگار کے زبردست مواقع میسر آئے ہیں، غربت میں واضح کمی ہوئی بلکہ یہ اقدام چین کی صنعتی ترقی میں بھی ایک اہم محرک ثابت ہوا ہے۔

چین نے اپنی ترقی کو پائیدار بنانے کے لیے ماحولیاتی تحفظ اور صاف توانائی کے شعبوں میں بھی بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ چین اب دنیا کا سب سے بڑا شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ کارخانے اور جنگلات یکساں رفتار اور تعداد میں لگ رہے ہیں اس کے علاوہ، چین نے الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت میں بھی بڑی پیشرفت کی ہے اور اب یہ دنیا کے سب سے بڑے الیکٹرک گاڑیوں کے مارکیٹس میں سے ایک ہے۔

آمریکہ، بھارت اور تائیوان کے ساتھ چین کے سنجیدہ معاملات میں شدید اختلافات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود چین نے ہمیشہ اپنا وزن امن کے پلڑے میں ڈال کر مذاکرات اور مفاہمت سے مسائل پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ طاقت کے باوجود تنازعات، مذاکرات کے ذریعے پُرامن طریقے سے حل کرنا چین کی امن دوستی کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔ حالیہ برسوں میں مذکورہ بالا تینوں ممالک سے چین کو جابجا پریشانیاں لاحق ہوئی لیکن چین نے ہر بار راست اقدام سے ہاتھ روکے رکھا اور اپنی واضح اور دو ٹوک موقف کے اظہار پر ہی اکتفا کیا۔

چین کی سوچ، اپروچ اور ترقی کے ماڈل سے پاکستان سمیت دنیا بھر کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔ چین سے سیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح واضح مقصد کے تحت مستحکم پالیسیوں کے ساتھ عالمی اور علاقائی تعاون و اشتراک کی روح سے ہم آہنگ ہو کر کام کرنے سے قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔ یاد رکھیں معاشی ترقی کے عمل میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل فیصلہ کن اہمیت کے حامل عوامل ہیں اور ان پر ہر صورت توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

چین ہمارا قریب ترین پڑوسی اور معتمد ترین دوست ہے۔ وہ ہمیں ہر تعاون فراہم کرنے کے لیے آمادہ اور تیار ہے اس کے باوجود ہمارا بے شمار معاشی اور صنعتی مسائل کے گرداب میں عشروں سے مبتلا رہنا ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ زبانی کلامی شور سے نکل کر عمل کے تقاضوں پر کان دھریں تاکہ اکیسویں صدی اور چین کی دوستی میں جو امکانات چاروں جانب ہمارے سامنے رقصاں ہیں ان سے استفادے کا ٹھوس موقع ہاتھ لگ جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے