روزوں کا مہینہ تھا، میں اپنے گاؤں "ممی خیل” کی مسجد میں اعتکاف کے لیے بیٹھا تھا۔ جمعہ کا دن تھا اور میں تقریر کر رہا تھا۔ اتنے میں موجودہ قیم جماعت خیبر پختونخواہ جنوبی، محترم محمد ظہور خٹک صاحب اور پروفیسر عرفان صاحب (رکنِ جماعت، کرک) مسجد میں تشریف لائے۔ میرے خیال میں انہوں نے تقریر دس منٹ سے کم یا زیادہ سُنی ہوگی۔ جب نماز فارغ ہوئی اور میں چونکہ اعتکاف میں تھا، اس لیے محترم محمد ظہور خٹک صاحب اور پروفیسر عرفان صاحب میرے ساتھ مسجد ہی میں ملے۔ وہ دراصل ہماری خالہ (مرحوم مولانا عبدالہادی، سابق امیرِ ضلع کی بیٹی) کے تعزیت کے سلسلے میں آئے تھے، جن کا کراچی میں انتقال ہوا تھا۔ لہٰذا اس کے بعد وہ ہمارے بیٹھک چلے گئے۔ یہ تو ایک موقع تھا، وہ چلے گئے۔
کچھ عرصہ بعد کرک میں ضلعی تربیتی اجتماع تھا۔ ظہور صاحب نے مجھے کال کی: "آپ نے بچوں کی تربیت کے حوالے سے عنوان پر بات کرنی ہے۔” اس وقت تک میں چونکہ کبھی جماعت جیسے تعلیم یافتہ افراد سے مخاطب نہیں ہوا تھا، اس لیے میں نے معذرت کی۔ مگر محترم ظہور خٹک صاحب نے یہ کہہ کر مجھے آمادہ کیا کہ”اللہ پر توکل کر کے” پروگرام میں آجاۓ۔اس وقت تک جماعت کے ساتھ صرف خاندان کی وجہ سے میرا تعلق تھا۔ والد محترم کی وجہ سے لٹریچر کا مطالعہ بھی کیا تھا اور مدارس میں پڑھنے کی وجہ سے اُن اعتراضات سے خوب شناسائی ہوئی تھی جو مجددِ عصر سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ پر کیے گئے ہیں۔ مدرسہ میں داخل ہونے سے پہلے، چونکہ والد صاحب کے بار بار اصرار پر لٹریچر کا مطالعہ کر چکا تھا، اس لیے جب بھی کبھی سید مودودی رحمہ اللہ کے حوالے سے کوئی اعتراض سنا، تو مجھے ان غلط فہمیوں کا شدت سے احساس ہوتا رہا جو سید مودودی رحمہ اللہ کے حوالے سے پھیلائی گئی ہیں ۔ اس دوران میں نے سید مودودی رحمہ اللہ کے لٹریچر کو دوبارہ زیادہ توجہ سے دیکھا۔
ساتھ ہی سید مودودی نے جو باتیں اپنے لٹریچر میں لکھی تھیں، وہی باتیں تفسیر، اصولِ فقہ، اصولِ تفسیر و حدیث اور احادیث کی کتب میں ملتی رہیں۔ میں اپنی درسی کتابوں پر وہ باتیں نوٹ بھی کرتا رہا، اور وہ کتابیں اب بھی میرے پاس موجود ہیں جن پر میں نے اُن باتوں کو نوٹ کیا ہے جن کی وجہ سے سید مودودی کو "ضال و مضل” قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ وہ باتیں احادیث، اصولوں کی کتابوں، تفاسیر اور عقیدے کی کتابوں میں موجود تھیں۔ اس دوران اپنے دو ہم سبق دوستوں کے ساتھ بھی یہی چیزیں شریک کرتا رہا، جس کی وجہ سے انہیں سید مودودی کے ساتھ والہانہ محبت پیدا ہوئی۔ اس کے بعد مولانا عامر عثمانی، مفتی یوسف، شیخ گوہر رحمان، ڈاکٹر معین الدین خٹک رحمہم اللہ کو پڑھا، تو خوشگوار حیرت ہوئی۔ کیونکہ سید مودودی پر اعتراضات کے سلسلے میں جن باتوں کو میں نے دروس کے دوران نوٹ کیا، اُن حوالوں میں سے مجھے ان حضرات کی کتابوں میں حوالے ملے۔ اس کے بعد پھر شیخ ڈاکٹر شمس الحق حنیف صاحب کو سنا، تو جو باتیں دروس کے دوران نوٹ کی تھیں، اُن پر اور بھی شرحِ صدر ہوا۔
بہرحال! علم و فہم کا یہ سفر نہایت کڑوا تھا۔ مگر فائدہ یہ ہوا کہ خدا کے فضل، والدین کی دعاؤں اور اساتذہ کرام کی محنت و برکت سے دو چار لفظ سیکھنے کا موقع میسر آیا۔ مگر اس فکری وابستگی کے باوجود، میں کبھی ایک دن کے لیے بھی نہ اسلامی جمعیت طلبہ کا حصہ رہا، اور نہ ہی اسلامی جمعیت طلبہ عربیہ کا حصہ رہا۔ جماعت سے میری عملی وابستگی کا حال یہ تھا۔ مگر محترم محمد ظہور خٹک صاحب نے مجھے جب پہلے مرتبہ بحیثیتِ مقرر جماعت کے تربیتی اجتماع میں شریک کرایا، تو وہاں جماعت کے لوگوں سے تعارف ہوا۔ کیونکہ ابھی تک میں جماعت کے ارکان سے واقف نہیں تھا۔ زیادہ سے زیادہ چند لوگوں سے واقفیت تھی، جیسے مولانا اسلم مرحوم، مولانا خیال محمد مرحوم، مولانا منہاج الدین مرحوم،مولانا محمود مرحوم ، مولانا سمیع الرحمان، حاجی رحیم الدین مرحوم وغیرہ۔
مگر ان حضرات سے یہ تعارف نانا مرحوم یا والد محترم کے دوستوں کے حوالے سے تھا، نہ کہ ارکانِ جماعت کے حوالے سے۔ بہرحال! محترم حالیہ قیم صوبہ خیبر پختون خواہ جنوبی ظہور خٹک صاحب نے پھر مسلسل اپنے ضلعی امارت کے دوران پروگراموں میں شریک کرایا۔ بعد میں حالیہ نائبِ امیرِ جماعت، مولانا تسلیم اقبال صاحب نے بھی پروگراموں میں شریک کرایا۔ البتہ مولانا صاحب نے مجھے جماعت کے مظاہروں میں شریک کرنا شروع کیا، جن میں میں پہلے رکن نہ ہونے کی وجہ سے شریک نہیں ہوتا تھا۔ محترم قیمِ صوبہ نے مجھے ایک دن فون کر کے بتایا:
"شوریٰ میں رکنیت کے حوالے سے آپ کا نام رکھتا ہوں، آپ کی کیا رائے ہے؟” میں نے اپنی مصروفیات اور عملی زندگی میں اپنے کردار کی کمزوریوں کے پیشِ نظر معذرت کی۔ ظہور صاحب نے نہایت حکمت و بصیرت (جس میں شاید زیادہ حصہ اُن کے اخلاص کا تھا) سے مجھے غیر محسوس طور پر قائل کیا۔ میں نے ان سے کہا: "حالات تو میرے یہ ہیں، باقی آپ ہی یہ فیصلہ کریں جو آپ کی مرضی ہو۔” بہرحال! شوریٰ سے ظہور صاحب نے میری رکنیت کو کب منظور کروایا، اس کا مجھے آج تک علم نہ ہو سکا۔ البتہ مولانا تسلیم اقبال صاحب نے ایک دن "مدر پلازہ” میں منعقدہ پروگرام میں اچانک سٹیج سے اعلان کیا: "حلفِ رکنیت کے لیے آئیں!” میں حاضر ہوا اور حلف لیا۔ اسی طرح جماعت کے نظم سے شناسائی ہوئی۔ محترم محمد ظہور خٹک صاحب نے غیر محسوس طور پر پتہ نہیں کون سی دوا پلائی کہ میں جو جماعت کے نظم کے ساتھ چلنے سے گھبراتا تھا، اسی کے ساتھ چلنے لگا۔
جماعت کے حلقے میں مجھے محترم محمد ظہور خٹک صاحب نے متعارف کرایا۔ یہ محترم محمد ظہور ہی کے متعارف کرانے کی برکت تھی اور ہے کہ بنوں میں لوگوں نے مجھے سٹڈی سرکلز میں، مختلف غیر سیاسی تحریکوں اور تنظیموں نے اپنے پروگراموں میں بحیثیتِ سپیکر بلانا شروع کیا۔ آپ ہی کے دیے ہوئے حوصلے کی وجہ سے مجھے سوشل میڈیا پر لکھنے اور بولنے کا حوصلہ ملا۔ محترم ظہور صاحب ہی کی وجہ سے مجھے سوشل میڈیا پر پڑھنے اور سننے والے ملے۔ سب سے بڑھ کر جو للّٰہیت، اخلاص اور فِنا فی التحریک کا درس مجھے ظہور صاحب نے دیا، اس کا ذکر کرنا شاید میرے لیے ممکن نہیں۔ مگر آپ نے میری یہ تربیت اس انداز سے کی کہ مجھے محسوس بھی نہ ہونے دیا کہ میں آپ کو کچھ سیکھا رہا ہوں۔ بلکہ عملاً ہمیشہ مجھ جیسے عام انسان کو یہ احساس دلایا کہ میں آپ سے سیکھتا ہوں۔ مجھے اپنی ذات پر ظہور خٹک کی تربیت کا اثر اُس وقت محسوس ہوا، جب کبھی میرے ذات سے اس ضمن میں کسی فعل کا صدور ہوا۔
ظہور خٹک صاحب نے جہاں میری روحانی تربیت میں کردار ادا کیا، مجھے بڑے بڑے پلیٹ فارمز پر بولنے، لکھنے اور مباحثے کا حوصلہ دیا، وہیں مجھے تحریک کی خاطر مثبت تنقید سہنا اور کرنا بھی سکھایا۔ یہ خوبی کوئی آسان کام نہیں۔ بہرحال! میں نے اِسے نسبتاً ظہور صاحب میں زیادہ محسوس کیا ہے۔ جب سے میں رکن بنا ہوں، ظہور خٹک صاحب ہی کی تربیت کی وجہ سے میں نے بحیثیتِ رکنِ جماعت جب ووٹ کا استعمال کیا، تو یہ سوچ کر کِیا کہ فلاں عہدے کے لیے کون سا فرد سب سے زیادہ اہل ہے۔ اگرچہ اس میں غلطی کا امکان بھی ہے، مگر جتنا میں مکلف ہوں، اتنا ہی اپنے ووٹ کے حق کو استعمال کرتا ہوں۔ باقی معاملہ خدا پر چھوڑ دیتا ہوں۔ اس سلسلے میں میں نے کبھی یہ پرواہ نہیں کی کہ فلاں میرا بھائی ہے یا فلاں میرا دوست، بلکہ ہمیشہ جماعت کے "بلٹ پیپر” پر ہدایات کو پڑھ کر ہی رویہ اپنانے کی کوشش کی ہے۔ مجھے یہ تربیت تحریک میں اگر کسی نے دی ہے تو وہ ظہور خٹک ہی ہیں۔
الغرض! ممی خیل کے گمنام پہاڑوں میں رہنے والے آصف اقبال کو اِس شخصیت اور کمزوریوں اور اُس پر عائد ذمہ داریوں کا احساس دلانے والے محترم محمد ظہور خٹک ہی رہے۔ اس موقع پر مجھے کوہاٹ کیڈٹ کالج کے پرنسپل افتخار صاحب (جو کہ کرنل تھے، بریگیڈیئر) کی ایک بات یاد آئی۔ غالباً ۲۰۰۷ء میں سی پی ایس اسکول کے ایم ڈی کے ساتھ کیڈٹ کالج کوہاٹ جانا ہوا، تو افتخار صاحب سے حادثاتی طور پر ملاقات ہوئی۔ بغیر کسی شناسائی کے باتوں باتوں میں اُنہیں معلوم ہوا کہ میں مولانا عبدالہادی مرحوم (سابق امیرِ ضلع) کا نواسا ہوں۔ تو وہ اپنی سیٹ سے میرے پاس صفے پر آ کے بیٹھ گئے اور آبدیدہ ہو کے کہنے لگے: "یہ جو کچھ افتخار ہے، یہ سب مولانا عبدالہادی مرحوم ہی کے ذریعے خدا نے عطا کیا ہے۔
” پھر اپنی کہانی بتائی کہ کیسے مولانا عبدالہادی مرحوم نے میرے یہاں آنے میں کردار ادا کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا: "یہ ایک افتخار نہیں، بلکہ مولانا عبدالہادی مرحوم کے گلشن میں بہت سارے افتخار آپ کو ملیں گے۔” جس کی تصدیق جب میں ہنگو گیا، تو فدا سعدی جیسے عظیم مجاہد اور ولیِ وقت کی شکل میں مجھے ہوئی۔ یہی خوبی محترم محمد ظہور خٹک میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ محترم ظہور خٹک صاحب نے صرف آصف اقبال کو راہ نہیں دکھائی، بلکہ محترم پروفیسر عرفان خٹک، جناب عصمت اللہ خٹک جیسے کارآمد اور تحریک سے مخلص لوگوں کے محسن بھی محمد ظہور خٹک ہیں۔
جزاک اللہ، ظہور بھائی! اللہ آپ کو ہمیشہ آباد رکھے۔