امریکہ کے زیرِ اثر چین اور روس نے ایران پر دباؤ ڈال کر جنگ بندی کرائی

اگرچہ چین نے سرکاری طور پر اس بات پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان صدر ٹرمپ کی نافذ کردہ جنگ بندی میں اُس کا کوئی کردار ہے، لیکن صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ “چین اب ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھ سکتا ہے۔” [“China can now continue to purchase oil from Iran”]، ایک غیر مبہم اشارہ ضرور ملا ہے کہ چین نے ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ امریکہ نے عالمی سطح پر ایران سے لین دین پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، لیکن بعض ممالک کو، جو ایرانی تیل درآمد کرتے ہیں، انھیں امریکہ خود ہی ان پابندیوں سے استثنیٰ دیتا رہا ہے۔

اب جبکہ امریکہ اور اسرائیل دونوں کو یہ ادراک ہو گیا کہ ان کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے — یعنی اسرائیلی شدید بمباری ایران کو ناک ڈاؤن کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی اور ایرانی جوابی کارروائی نے اسرائیل کو شدید نقصان پہنچایا — تو مداخلت کی راہ اختیار کی گئی۔ مغربی تجزیہ کار عام طور پر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اسرائیلی وزیر اعظم کا منصوبہ تھا کہ وہ امریکہ کو اس جنگ میں گھسیٹیں، جیسا کہ کئی تجزیاتی اداروں نے لکھا کہ [“Israel aimed to drag the U.S. into the war by provoking Iran”] (اسرائیل نے ایران کو اُکسا کر امریکہ کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی)۔

لیکن شواہد سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے کا منصوبہ بہت پرانا تھا، اور یہ امریکی دفاعی حکمت کاروں (defense strategists) کی شمولیت سے طے پایا تھا، جیسا کہ پینٹاگون کے ذرائع کے مطابق [“Contingency plans for strikes on Iran had been under joint review for months”] (ایران پر حملے کی ہنگامی منصوبہ بندی کئی مہینوں سے مشترکہ جائزے میں تھی)۔ لہٰذا “امریکہ کو گھسیٹنے” کی بات لغو ہے۔

البتہ، اس منصوبے کی سب سے بڑی کمزوری اُس وقت آشکار ہوئی جب اسرائیل کی مکمل منصوبہ بندی، شدید بمباری، اور جنگ کے پہلے دن ہی ایرانی فوجی قیادت کو نشانہ بنانے کے باوجود نہ ایرانی نیوکلیئر تنصیبات تباہ ہوئیں اور نہ ہی حکومت کا کوئی ستون ہلا۔ خود امریکی انٹیلی جنس رپورٹوں نے اعتراف کیا کہ [“U.S. strikes only set Iran’s nuclear programme back by months, not years”] (امریکی حملوں نے ایرانی نیوکلیئر پروگرام کو صرف چند مہینے پیچھے دھکیلا، برسوں نہیں)۔

ایران اس دھچکے سے غیر معمولی سرعت سے سنبھل گیا، اور صرف 36 گھنٹوں میں اپنے مرکزی کمانڈ و کنٹرول سسٹم کو جزوی نقصان کے باوجود دوبارہ فعال کیا۔ اسرائیلی حملے میں تہران کے قریب واقع خاتم الانبیاء ایئر ڈیفنس ہیڈکوارٹر اور سپاہِ پاسداران کی بعض بیرونی شاخوں کے دفاتر کو نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن ایران نے ایک مربوط بیک اپ نیٹ ورک کے ذریعے اپنے کمانڈ سٹرکچر کو بحال کیا۔ ابتدائی جوابی حملے میں ایران نے فاتح 110 (Fateh-110) اور ذوالفقار (Zolfaghar) جیسے قریبی فاصلے کے بیلسٹک میزائل استعمال کیے، جبکہ تیسرے دن سے وہ خرمشہر-4 (Khoramshahr-4) اور قدر (Qadr) جیسے میڈیم رینج میزائلوں پر منتقل ہو گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے خود اعتراف کیا کہ “ایرانی میزائل فائر کی شدت اور رفتار نے آئرن ڈوم کی حقیقی وقت میں روکنے کی صلاحیت کو پیچھے چھوڑ دیا۔” [“the volume and velocity of Iranian missile fire exceeded Iron Dome’s real-time engagement capacity”]۔ پانچویں دن ایران نے ہائپرسونک طرز کے پے لوڈ سے لیس خرمشہر-4 میزائل فائر کیے جن کی رفتار Mach 8 سے زیادہ تھی، اور یہ میزائل حیفہ اور اشدود کے صنعتی مراکز میں گہرائی تک گھس گئے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، “کم از کم چار حملے جنہیں غالباً ہائپرسونک ہتھیار قرار دیا جا رہا ہے، تل نوف ایئربیس کے قریب زیرِ زمین بنکروں کو چیر گئے۔” [“at least four strikes by presumed hypersonic weapons penetrated underground bunkers near Tel Nof airbase”] یہ حملے ایران کے فضائی اور میزائل کمانڈ کی غیرمعمولی مربوطی، وقت کے تعین، اور ٹارگٹنگ کی درستگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو امریکی سائبر وارفیئر کے حملے کے باوجود برقرار رہی۔

جنگ کے پہلے ہفتے کے دوران ایران نے تقریباً 480 میزائل داغے، جن میں سے 70 فیصد اسرائیلی ڈیفنس سسٹمز کو چکمہ دینے میں کامیاب رہے۔ امریکی دفاعی ذرائع نے CNN کو بتایا: “ایران کی میزائل درستگی اور حملے کے پہلے جھٹکے کے باوجود مزاحمتی صلاحیت نے امریکی اور اسرائیلی منصوبہ سازوں کو حیران کر دیا۔” [“Iran’s missile precision and resilience under first-strike conditions surprised both U.S. and Israeli planners”]

اسرائیل میں میڈیا اور سوشل میڈیا پر سخت سنسرشپ عائد ہے، لہٰذا وہاں سے نقصانات کی آزاد خبریں کم آ رہی ہیں۔ تاہم کئی غیر جانب دار تجزیہ کار اسرائیل میں ہونے والی تباہی کی مالیت 250 ارب ڈالر سے لے کر نصف ٹریلین ڈالر تک بتا رہے ہیں۔ ایک یورپی انشورنس کمپنی Marsh McLennan کے ایک ماہر، Marcus Baker، کے مطابق، “صرف ایک ہفتے میں اسرائیل کو ہونے والا فزیکل اور اکنامک نقصان 400 ارب ڈالر سے زیادہ ہو سکتا ہے”۔ [“The physical and economic damage to Israel in just one week may exceed $400 billion”]۔ لیکن اب ٹرمپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ اسرائیل کی بہت پٹائی اور بربادی ہوئی۔

چاہے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کچھ بھی دعوے کرے، لیکن اسرائیلی شہروں کا جس تیزی سے خالی ہونا شروع ہوا، وہ اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ اسرائیل کے لیے یہ جنگ ناقابل برداشت ہو چکی تھی۔ ایرانی میزائل حملوں کی وجہ سے تل ابیب، اشدود، حیفا، اور بئر شبع کے شہریوں نے بے مثال رفتار سے انخلا کیا۔ الجزیرہ، بی بی سی، اور رائٹرز سمیت کئی عالمی میڈیا اداروں نے اس انخلا کی تصدیق کی ہے۔ امریکی تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسز گروپ نے انخلا کی شدت کو غیر معمولی قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر تل ابیب اور حیفا سے وائرل ہونے والی ویڈیوز میں شہریوں کی بھگدڑ اور حفاظتی پناہ گزینی دکھائی گئی۔ یہ تمام شواہد واضح کرتے ہیں کہ ایرانی میزائل حملوں نے اسرائیلی شہروں میں خوف اور شدید دباؤ پیدا کیا، جس کی وجہ سے شہریوں نے بڑے پیمانے پر شہر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

ایران میں بھی ایسی ہی تباہی ہوئی، لیکن ایران کو اسرائیلی اور امریکی حملوں کو سہنے کے لیے جس جغرافیائی گہرائی (geographical depth) کا فائدہ حاصل ہے، وہ اسرائیل کے پاس نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی کی اصل ضرورت اسرائیل کو تھی۔ ایران کے میزائل روکنے کے لیے اسرائیل کے ائیر ڈیفنس سسٹمز کی میزائل سپلائی تیزی سے ختم ہو رہی تھی۔ امریکی ملٹری لاجسٹکس ذرائع کے مطابق، “آئرن ڈوم کا میزائل ذخیرہ اتنی تیزی سے ختم ہوا کہ دوبارہ فراہمی ممکن نہ رہی-“ [“The Iron Dome’s interceptor stockpile was depleted faster than resupply could be arranged”] اگرچہ امریکہ یہ سپلائی جاری رکھے ہوئے تھا، لیکن ان میزائلوں کی مینوفیکچرنگ کی بھی ایک حد ہے۔

اگر اسرائیل مزید جنگ جاری رکھنے کی سکت رکھتا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کبھی بھی ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر براہ راست حملہ نہ کرتے، اور جنگ اسی طرح جاری رہتی جیسے غزہ میں آج بھی جاری ہے۔ لیکن ٹرمپ نے پہلے ایران پر بمباری کر کے اسرائیل کی مدد کی، اور پھر مزید حملوں کی دھمکی دے کر جنگ بندی کے لیے کوششیں شروع کر دیں، جن کے لیے انہوں نے چین اور روس کے رہنماؤں سے رابطے کیے۔ ٹرمپ جانتا ہے کہ ایران اُس پر اعتبار نہیں کرے گا۔

چین نے ایران سے تیل کی خریداری پر امریکی پابندیوں کے باوجود اپنی پالیسی میں استثنیٰ رکھا ہوا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 24 جون 2025 کو اعلان کیا کہ چین ایران سے تیل کی خرید جاری رکھ سکتا ہے جو چین کے لیے ایک ریلیف ہے۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ چین امریکی تیل کی خریداری میں اضافہ کرے گا۔ یہ بیان اس وقت آیا جب ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی، جو چین کے لیے بھی اہم تجارتی راستہ ہے۔ اس اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً 6 فیصد کمی آئی۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے 23 جون 2025 کو ماسکو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پوتن نے امریکی فضائی حملوں کو “غیر متوقع جارحیت” قرار دیا اور ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایران کے عوام کی مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی، حالانکہ اس مدد کی نوعیت واضح نہیں کی۔ عراقچی نے ایران کی خودمختار دفاعی کارروائی کا دفاع کیا اور روس کے موقف کی تعریف کی۔

چین نے اسرائیل کے حملوں کی سخت مذمت تو کی، جیسا کہ اس کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا: “خطے میں اچانک بگڑتی صورت حال کسی کے فائدے میں نہیں، ہم فوری تحمل کا مطالبہ کرتے ہیں۔” [“The sudden escalation in the region benefits no one, and we call for immediate restraint”]، لیکن نہ اس نے ایران کو اسلحہ فراہم کیا، نہ لڑاکا طیارے، اور نہ ہی ائیر ڈیفنس سسٹم۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ چین ایران کے ساتھ امریکہ کی پابندیوں کی حدود میں رہتے ہوئے تجارت کرتا ہے۔ چینی سفارتی ذرائع کے مطابق، “چین کا ارادہ نہیں کہ وہ ایران کو فوجی سازوسامان دے کر امریکی پابندیاں توڑے۔” [“China has no intention of breaching U.S. sanctions for military exports”]۔ چین کو امریکی استثنیٰ درکار تھا، اور اُس نے خفیہ طور پر ایران کو یہ پیغام دیا کہ اگر ایران جنگ بندی پر آمادہ نہ ہوا تو چین اس کا تیل خریدنے سے قاصر ہو جائے گا۔ چین کی وضاحت اور دباؤ اس لیے مؤثر ثابت ہوا کیونکہ ایران اس وقت اپنی تیل کی برآمدات کا تقریباً 90 فیصد حصہ چین کو فروخت کر رہا ہے، اور اس انحصار نے بیجنگ کو تہران کی پالیسی پر براہِ راست اثرانداز ہونے کا لیوریج دیا۔

اگرچہ روس اور ایران کے درمیان اب گہرے جغرافیائی اور سٹریٹیجک معاہدے موجود ہیں، لیکن روس بھی امریکہ کی طے کردہ حدود سے باہر نہیں جانا چاہتا۔ اس جنگ کے دوران روس نے صرف بیانات دیے، جیسا کہ “ہم کسی خودمختار ریاست پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، لیکن فریقین کو سفارتی حل کی دعوت دیتے ہیں۔” [“We condemn aggression against a sovereign nation, but urge all parties to resolve through diplomacy”]۔ لہٰذا تجزیاتی طور پر یہ نتیجہ نکالنا بالکل منطقی لگتا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اصل سبب چین اور روس کا دباؤ تھا، نہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارت کاری۔

روس اور چین امریکہ کے سامنے اس حد تک جھکے ہوئے ہیں کہ نہ تو جنگ سے پہلے اور نہ جنگ کے دوران انہوں نے ایران کو کوئی اسلحہ فراہم کیا۔ صرف سوشل میڈیا پر تہران کی جانب چینی امدادی پروازوں کی غیر مصدقہ خبریں چلتی رہیں۔ بہرحال روس سے ایران کی مایوسی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ شاید SU-35 لڑاکا طیاروں کا معاہدہ منسوخ کر دے۔ یاد رہے کہ ایران نے 2007 میں روس کو S-300PMU-1 ائیر ڈیفنس سسٹم کے لیے 800 ملین ڈالر ادا کیے تھے، لیکن روس نے S-300PMU-2 کا پہلا بیچ تقریباً اصل معاہدے کے 17 سال بعد فراہم کیا۔ اور ابھی تک مکمل دلیوری نہیں ہوئی ہے۔

ممکن ہے اب ایران چین سے فائٹر جیٹس اور ائیر ڈیفنس سسٹم حاصل کرنے کی کوشش کرے، لیکن چین کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ اگر اس نے ایسا کیا تو امریکہ اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ یہ ہیں وہ دو بڑی طاقتیں جو ابھی تک امریکہ کے سامنے سر اٹھانے کا سوچ ہی رہی ہیں — مگر سر اٹھا نہیں۔ ٹرمپ نے انھیں لائن حاضر کر کے انھیں ان کی اوقات بتا دی۔ بہرحال اب گلوبل ساؤتھ کے پاس بہتر سٹریٹیجی بنانے کا موقع ہے۔ چین اور روس سمیت امریکہ سے تعلقات بنائیں مگر بھروسہ کسی پر مت کریں۔

گلوبل ساؤتھ (Global South) اپنی بقا اُن طاقتوں کے سہارے نہیں چھوڑ سکتا جو بالآخر امریکی بالادستی والے نظام (U.S.-dominated system) کی محتاط شریکِ کار (cautious stakeholders) ہیں۔ جب چین اصولوں کے بجائے تجارتی رسائی کو ترجیح دیتا ہے اور روس صرف علامتی موقف (symbolic posturing) تک محدود رہتا ہے، تو نئی سٹریٹیجیز اپنانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اصل متبادل غیر مرکزیت پر مبنی مزاحمت (decentralized defiance) ہے: خودمختار تکنیکی ڈھانچے (sovereign tech infrastructure) کی تعمیر، بیرونِ ملک پھیلی برادری (diasporic wealth) کی دولت کا استعمال، غیر مغربی ممالک سے دفاعی معاہدے، اور ایک مشترکہ مزاحمتی نظریے (shared doctrine of resistance) کا قیام جو بیجنگ یا ماسکو پر منحصر نہ ہو۔

آزادی حریف سلطنتوں (rival empires) سے نہیں، اندر سے آئے گی — اتحاد (unity)، خودانحصاری (self-reliance)، اور اخلاقی و سیاسی اصولوں کی کلیریٹی (moral-political clarity) کے ذریعے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے