پختونوں نے ہمیشہ ان لوگوں کا ساتھ دیا ہے جنہوں نے ان کو تباہ کیا

ایرانی صفوی حکومت جنہوں نے 1501 تا 1736 اس خطے میں تخریب اور ظلم وستم کا ریکارڈ قائم کیا تھا ۔ مذہبی کاز کو لے کر پہلے اس خطے میں اور پھر پوری دنیا میں شیعہ ازم اثنا عشری کے ترویج کیلئے وہ سب کچھ کیا جو اس سے پہلے شاید کسی نے کیا ہو ۔

شاہ اسماعیل صفوی نے اس خطے کے عوام جو تقریبا سارے سنی تھے زبردستی شیعہ بنانے کی خوب کوشش کی ۔ اس مقصد کیلئے مغربی افغانستان ، قندھار ، ہرات میں صفوی فوج کے ساتھ آیا ساتھ میں افغانستان کے بارڈر پر پاڑاچنار آیا اور وہاں کے قبائل کو زبردستی شیعہ بنایا جس نے انکار کیا اس کو قتل کیا اور اس کی عورتوں کو ساتھ لے گیا ۔

جن علاقوں میں لوگ شیعہ بننے کو تیار ہوئے وہاں شیعیت کے تعلیم کیلئے شیعہ علماء و واعظین کو مقرر کیا ، شیعیت قبول کرنے والوں سرداران کو صفوی حکومت میں اعلی عہدے دیئے گئے ساتھ میں سرداران کو شاہی خاندان سے رشتے دیئے گئے جن سے عوام میں تشیع کا اثر بڑھتا گیا ۔

بنگش قبیلے میں سنی اور شیعہ دونوں کا ہونا اتفاق نہیں بلکہ یہ اس حقیقت کے نتیجے میں بعض کو زبردستی شیعہ بنایا گیا اور کچھ سنی رہ گئے ۔ آج وہی لوگ اپنے تاریخ سے ناواقف ہے اور اپنے پشتونوں کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔

آج کے دور میں بھی پختونوں کی ایرانی نوازی دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ یہ اپنے حقیقی دشمنوں کو فراموش کرتے ہیں ۔

پاڑاچنار کے تمام تر مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے ۔ کچھ دنوں پہلے فوت ہونے والے سابقہ شیعہ عالم علی شرف الدین بلتستانی نے جب اس کا اقرار کیا تو اس کو نظر بند کیا گیا ۔ کافر کہا گیا اور اس کی سر کی قیمت مقرر کی گئی ۔

یہ تو کروڑ رحمتیں ہو خواجہ محمود ہوتک کے قبر پر جس نے اس بڑھتے ہوئے سرطان کو روکا اور بھاگنے پر مجبور کیا ۔ آج اکثر پختون خواجہ محمود ہوتک کے نام سے واقف بھی نہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے