میرے موضوعات

میں نے اپنی قلمی زندگی کو ہمیشہ اُن موضوعات کے لیے وقف رکھا ہے جو براہِ راست ہمارے معاشرے، سماج اور نسلِ نو کی فکری و عملی رہنمائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ میں بالعموم معاشرتی اقدار، سماجی ہم آہنگی، امنِ عامہ، تعلیم، کیریئر کونسلنگ، نوجوانوں کی فکری تربیت، اور دینی و اصلاحی موضوعات پر قلم اٹھاتا ہوں، اور ان تمام موضوعات کو بالخصوص گلگت بلتستان کے تناظر میں دیکھتا اور پیش کرتا ہوں، تاکہ میرے علاقے کے لوگ اپنے مسائل کو اپنی ہی زبان اور ماحول میں سمجھ سکیں۔

علاوہ ازیں، میں نے مختلف اوقات میں اپنے مشاہدات و تجربات پر مبنی سفرنامے بھی تحریر کیے ہیں، جو دل و دماغ کو وسعت دینے کے ساتھ ساتھ قاری کو بصیرت اور آگاہی فراہم کرتے ہیں۔

رہی بات عالمی سیاست، عالمی مذہبی معاملات، عسکری حکمتِ عملی، پروکسی جنگوں، یا بین الاقوامی معیشت جیسے پیچیدہ اور ہمہ جہت موضوعات کی، تو میں ان سے شعوری طور پر اجتناب برتتا ہوں۔ اس کی ایک بڑی اور سادہ وجہ یہ ہے کہ میرا مطالعہ اور فہم ان میدانوں میں واجبی اور سطحی سا ہے، اور میں اس بات کو اپنی علمی دیانت اور اخلاقی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ ایسے موضوعات پر لب کشائی نہ کروں جن پر میرے پاس نہ تو کامل فہم ہے اور نہ ہی تحقیقی رسائی۔

میں اپنے ہزاروں قارئین کو محض ظاہری تجزیوں یا ناقص فہم کی بنیاد پر کسی غلط سمت میں دھکیلنے کا مرتکب نہیں بننا چاہتا۔ میرے نزدیک ایسا کرنا نہ صرف ایک علمی خیانت ہے بلکہ ایک خطرناک حماقت اور سنگین جہالت بھی ہے، جس سے بچنا ہر سنجیدہ لکھاری کا فرض ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے