العُدید ائر بیس: امریکی کا منفرد فوجی اڈّہ جس کا خرچا میزبان ملک قطر خود اُٹھاتا ہے!

مشرقِ وسطیٰ جیسے خطے میں، جہاں رسمی اتحادی تعلقات اور خطرناک سیاسی دشمنیاں بیک وقت موجود ہیں، قطر نے امریکہ کے ساتھ ایک غیرمعمولی دفاعی شراکت قائم کر رکھی ہے، جو کسی باقاعدہ باہمی دفاعی معاہدے (Mutual Defense Pact) کے بغیر وجود رکھتی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، اس تعلق کی بنیاد العدید فضائی اڈہ (Al Udeid Air Base) ہے، جو امریکی سینٹرل کمانڈ یا “سینٹ کام” (CENTCOM) کا اہم فارورڈ ہیڈکوارٹر ہے، اور جس کی تعمیر و توسیع پر اٹھنے والے اخراجات کا بڑا حصہ قطر خود اٹھاتا ہے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ دفاعی بندوبست “سٹریٹیجک ایمبیگیوٹی” (Strategic Ambiguity) کے پردے میں کام کرتا ہے، تاکہ دونوں فریقین اپنے اپنے سیاسی اور سٹریٹجک مفادات کی حفاظت کر سکیں۔

العدید میں امریکی موجودگی کے بدلے قطر نے واشنگٹن سے نہ صرف اپنی جیوپولیٹیکل پوزیشن کو مستحکم کیا ہے بلکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے حریفوں کے ممکنہ خطرات سے بھی ایک موثر دفاع حاصل کیا ہے۔ کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ سیکیورٹی کا ایک ایسا بندوبست ہے جس میں نہ تو امریکہ نے رسمی حفاظتی ذمہ داری لی ہے اور نہ ہی قطر نے رسمی فوجی اتحاد کا لبادہ اوڑھا ہے — مگر عملی نتائج رسمی معاہدے سے کہیں زیادہ موثر اور مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔

اس کےبر عکس جرمنی یا جاپان جیسے اتحادی ممالک میں، جہاں امریکی افواج کی میزبانی معاہدوں کے تحت مشروط ہوتی ہے، قطر کی جانب سے العدید پر ہونے والے اخراجات نہ صرف یکطرفہ ہیں بلکہ “رضاکارانہ” بھی۔ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹیجک اسٹڈیز (IISS) کے تخمینے کے مطابق، قطر نے العدید کی توسیع اور اپگریڈیشن پر اب تک 8 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے، جس میں جدید رن وے، بی-52 بمبارز کے لیے ٹھوس چھتوں والے شیلٹرز، اور 10,000 سے زائد امریکی و اتحادی افواج کے لیے مکمل رہائشی سہولیات شامل ہیں۔

فوربز اور ڈیفنس نیوز کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ امریکی حکومت نے کبھی العدید پر اخراجات کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی، مگر ماہرین کا اندازہ ہے کہ قطر سالانہ سینکڑوں ملین ڈالر صرف اڈّے کی مرمت، ایندھن، لاجسٹکس، اور بنیادی سیکیورٹی پر خرچ کرتا ہے۔ بعض تخمینوں کے مطابق قطر العُدید ائر بیس کی دیکھ بھال اور اخراجات کے لیے 600 ملین ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے۔ رینڈ کارپوریشن کے ایک سابق مشیر کا کہنا ہے کہ دنیا میں کہیں بھی اور کسی میزبان ملک نے اس سطح کی مالی “سخاوت” کا مظاہرہ نہیں کیا — وہ بھی بغیر کسی قانونی یا معاہداتی پابندی کے۔

نیویارک ٹائمز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق، قطر میں امریکی فوجی موجودگی کا اصل مقصد نہ صرف اسرائیل کا دفاع اور ایران پر نظر رکھنا ہے، بلکہ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے فوجی کارروائیوں کی صلاحیت برقرار رکھنا بھی ہے۔ العدید میں قائم مشترکہ فضائی آپریشنز مرکز (Combined Air Operations Center) پورے خطے میں امریکی فضائی طاقت، انٹیلیجنس، اور لاجسٹکس کی نگرانی کرتا ہے۔ واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی (Washington Institute for Near East Policy) کا کہنا ہے کہ یہ اڈّہ ایران کے خلاف امریکی تیاریوں کا بنیادی ستون ہے۔

اگرچہ امریکی سینٹ کام (CENTCOM) کا رسمی ہیڈکوارٹر فلوریڈا کے ٹیمپا شہر میں ہے، مگر عملی لحاظ سے اس کا قلب قطر کے العدید اڈّے میں دھڑکتا ہے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے سیکیورٹی اسٹڈیز پروگرام کے مطابق، 2000 کی دہائی کے آغاز سے العدید نہ صرف عراق، شام اور افغانستان میں آپریشنز کا لاجسٹک مرکز رہا ہے، بلکہ یہ میزبان ملک کی طرف سے دی جانے والی بے مثال مدد کی وجہ سے بھی منفرد ہے۔ قطر امریکہ سے نہ کرایہ لیتا ہے، نہ اخراجات کی تقسیم کا مطالبہ کرتا ہے — بلکہ خود ہی اس تمام اخراجات کو خوشی سے برداشت کرتا ہے۔

امریکی تحقیقی ادارے کارنیگی انڈوومنٹ (Carnegie Endowment) کے مطابق، یہ سارا نظام 1992 میں دستخط شدہ دفاعی تعاون کے معاہدے (Defense Cooperation Agreement – DCA) پر مبنی ہے، جس کی تفصیلات خفیہ ہیں۔ اس معاہدے کی نوعیت نیٹو جیسے اتحادی معاہدوں سے مختلف ہے: یہ امریکہ کو قطر میں مکمل رسائی دیتا ہے، مگر امریکہ پر قطر کے دفاع کی کوئی قانونی ذمہ داری عائد نہیں کرتا۔ رینڈ کارپوریشن کے تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ “غیر رسمی ڈیٹیرینس” (Implicit Deterrence) کا ایک ماڈل ہے جو خلیج میں کسی بھی حملہ آور کو قطر پر حملے سے باز رکھتا ہے۔

ایسا بھی نہیں کہ قطر امریکی موجودگی کو مکمل قانونی دائرے میں لاتا ہے۔ گلوبل سیکیورٹی ڈاٹ آرگ کی رپورٹ کے مطابق، قطر نے امریکی فورسز کو قطری قانون سے خاص استثنیٰ دے رکھا ہے، جیسا کہ غیر ملکی افواج کی تعیناتی والے “فورسز کی حیثیت کے معاہدوں” (Status of Forces Agreements—SOFAs) میں ہوتا ہے۔ امریکی افواج پر قطر کے قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا ہے، انھیں اپنے فرائض کی انجام دہی میں استثنیٰ حاصل ہے۔ اگر کوئی امریکی فوج کا کتا کسی قطری کو کاٹ لے تو قطری قانون کے تحت کتے یا اس کے مالک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی ہے۔

ڈیفنس ون کے مطابق، “ڈی سی اے” معاہدے کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ قطر نہ صرف اڈّے کو مفت میں مہیا کرتا ہے بلکہ مکمل جنگی تیاری، مرمت، ایندھن، اور بنیادی ڈھانچے کا خرچ بھی خود ہی اٹھاتا ہے — اور وہ بھی بغیر کسی قانونی پابندی یا بین الاقوامی دفاعی ضمانت کے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ جاپان اور جرمنی کی قانونی طور پر لازم مالی شراکتیں قطر کی “رضاکارانہ” سخاوت کے سامنے معمولی دکھائی دیتی ہیں۔

فارن افیئرز کے مطابق، قطر نے نہ صرف امریکہ کو فوجی رسائی دی ہے بلکہ آپریشنل انضمام، ٹریننگ، اور انٹیلیجنس شئیرنگ کو بھی ایک ایسے انداز میں انجام دیا ہے کہ قطر کو خطے میں آزاد سفارتکاری کا دائرہ حاصل رہتا ہے، خاص طور پر ایران، طالبان، اور حماس جیسے عناصر سے رابطے رکھنے میں۔

جرمنی یا جاپان میں امریکی فوجی اڈّوں کے برعکس، جہاں امریکی موجودگی عوامی دباؤ اور پارلیمانی منظوری سے مشروط ہوتی ہے، قطر نے العدید کو جان بوجھ کر ایک “رسمی” رازداری کے پردے میں رکھا ہوا ہے۔ رائٹرز کے مطابق، اڈّے پر کوئی امریکی جھنڈا نہیں لہرایا جاتا، نہ ہی امریکی فوجی کارروائیوں کی مقامی میڈیا کو بریفنگ دی جاتی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ یہ حکمت عملی قطر کو اسرائیل مخالف عوام کے سامنے بھی “غیر جانبدار” رکھتی ہے۔

2017 کے خلیجی بحران میں، جب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کا بائیکاٹ کر دیا تھا، امریکہ نے قطر میں اپنی فوجی موجودگی کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ کسی بھی قسم کی کمی کا اشارہ بھی نہ دیا۔ امریکی دفتر خارجہ “سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ” کے سابق عہدیداروں کے مطابق، یہ قطر کے لیے ایک غیر رسمی تحفظ کا اشارہ تھا، جس نے سعودی جارحیت سے اس کی سلامتی یقینی بنائی — وہ بھی بغیر کسی رسمی دفاعی معاہدے کے۔

فارن پالیسی میگیزین کے مطابق، قطر اور امریکہ کا یہ تعلق دونوں کے “مفادات کی شادی” (Marriage of Convenience) ہے: قطر نے اپنی علاقائی آزادی اور سفارتی استثنیٰ کو محفوظ رکھتے ہوئے ایک غیر معمولی فوجی اڈّے کی میزبانی کی ہے، اور امریکہ نے بغیر معاہدے کی پابندی کے مشرق وسطیٰ میں اپنا سب سے طاقتور قدم جما رکھا ہے۔

ایران، میزائل حملہ، اور سفارتکاری

حال ہی میں ایران نے قطر کے علاقے میں واقع امریکی فوجی اڈے العديد (Al Udeid Air Base) پر میزائل حملہ کیا جس نے اس خاموشی میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ رائٹرز کے مطابق، ایران نے اس حملے میں دو مرحلوں میں کل چودہ بیلسٹک میزائل داغے۔ یہ حملہ ایران کا امریکی بمباری کا ایک علامتی جواب تھا، مگر ان میزائلوں کو قطر اور امریکہ کے فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا، دو یا تین میزائل ائر پورٹ پر گرے، جس کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایران نے یہ حملہ کرنے سے پہلے قطر کو اطلاع دے دی تھی تاکہ شہری آبادی کو کسی خطرے سے بچایا جا سکے، جیسا کہ دی گارڈین اور رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ‌ای نے اس کارروائی کو امریکہ کو “عزت دار جواب” قرار دیا، اور کہا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ کوئی حملہ کیا تو ایران مزید میزائل حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لیکن اس حملے کی نوعیت علامتی اور محدود تھی۔ ایران نے جان بوجھ کر اس بات کو یقینی بنایا کہ کسی امریکی فوجی کو نقصان نہ پہنچے اور نہ ہی کسی فوجی تنصیب کو تباہ کیا جائے۔ اسی لیے اس اقدام کو ایک مکمل جنگ کی شروعات کے بجائے ایک سخت سفارتی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ حملہ ایک نازک توازن یا “سٹریٹجک پیریٹ” (strategic parity) کو ظاہر کرتا ہے۔ ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا، لیکن ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھا کہ معاملہ کسی بڑی جنگ میں نہ بدل جائے۔ حملے کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امکان کا اشارہ دیا کہ فائر بندی کے راستے کھل سکتے ہیں، اور کہا کہ چونکہ ایران نے حملے سے پہلے اطلاع دی تھی، اس لیے یہ ایک “ذمہ دارانہ طرز عمل” کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

میزائل حملے کے اثرات

یہ واقعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ قطر اور امریکہ کے تعلقات صرف معیشت یا سیاست تک محدود نہیں، بلکہ ان کی بنیادیں عسکری اشتراک پر بھی قائم ہیں۔ ایران کے میزائل حملے نے یہ ظاہر کیا کہ العدید کا اڈہ کتنا اہم ہے۔ دوسری طرف یہ بھی دکھائی دیا کہ قطر اور امریکہ کے درمیان جو دفاعی بندوبست (DCA – Defense Cooperation Agreement) موجود ہے، وہ ایران جیسے مخالف ملک کے لیے بھی کسی حد تک تحفظ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس صورتحال میں ایران اور امریکہ کے بیچ جو کشیدگی اور سفارتی پیچیدگیاں ہیں، وہ بھی نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔

ایک اور بات یہ بھی واضح ہوئی کہ خلیجی خطے میں جاری عسکری کشیدگی کے باوجود، قطر نے امریکہ کو اپنی سرزمین پر ایک بڑے فوجی اڈے کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی ہے، حالانکہ ان کے درمیان کوئی واضح دفاعی معاہدہ موجود نہیں۔ ایران کا پیغام یہ تھا کہ اگرچہ اس نے حملہ کیا، لیکن وہ نہیں چاہتا کہ معاملات کسی بڑے تصادم تک پہنچیں۔ اس طرح ایران نے اپنی طاقت کا مظاہرہ تو کیا، لیکن جنگ کی فضا پیدا کیے بغیر — اور یہی ایک قسم کی “پرامن طاقت” کی مثال بن گئی، جس نے اس کی مجموعی سفارتی پالیسی کو متاثر نہیں ہونے دیا۔

امریکی فوجی اڈّے العُدید ائر بیس پر امریکی B-2 مبارز کی بمباری کے جواب میں ایران کے میزائلوں کے علامتی حملے کو عرب حکمرانوں نے ایک عرب ملک کی سوورینٹی پر حملہ قرار دیا ہے لیکن اس اڈّے کی قانونی اور ملٹری اور سٹریٹجک حیثیت پر کوئی سوال نہیں اُٹھایا۔ اب یہ ایک نئی بحث بن سکتی ہے کہ کیا ایک ایسا امریکی فوجی اڈّا جس کی میزبان ملک میں قانونی حیثیت مبہم ہے اس پر حملہ میزبان مل کی سوورینٹی پر حملہ تصور ہوگا یا مہمان ملک کی عسکری تنصیبات پر!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے