ششی تھروڑ نے ہندوستان میں برطانوی نو آبادیاتی نظام کی سفاکی پر بہت اچھا لکھا۔ سوال یہ ہے کیا وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی نو آبادیاتی ہتھکنڈوں پر بھی کچھ لکھیں گے؟
کشمیر ریلوے ہی کو دیکھ لیجیے، اپنی نوعیت کے اعتبار سے کیا یہ ہندوستان میں برطانوی نو آبادیاتی نظام کے متعارف کردہ ریلوے کے نظام سے سنگین واردات نہیں۔ ریلوے کو بالعموم، متحدہ ہندوستان میں برطانوی حکومت کا ایک شاندار منصوبہ تصور کیا جاتا ہے۔لیکن ششی تھروڑ اس کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ ہندوستان کے عوام کی بہتری کے لیے نہیں تھا بلکہ اس سے برطانوی سامراجی نو آبادیاتی نظام کے اپنے مفادات جڑے تھے۔ مجھے ان کی اس رائے سے اتفاق ہے۔ یقینا ایسا ہی تھا۔
ہندوستان میں برطانیہ نے ریلوے یہاں کے لوگوں کی بہتری کے لیے متعارف نہیں کرائی تھی۔ مقامی لوگوں کو اس سے کچھ فائدہ ہا تو وہ ایک ضمنی چیز تھی۔ اصل ہدف یہاں کے خام مال کو تیزی سے برطانوی منڈی تک لے جانا، جنگ عظیم میں گھوڑوں کی ترسیل، یہاں سے فوجیوں کو مختلف محاذوں پر لے جانا اور برطانوی افواج کی نقل و حرکت کو تیزی کے ساتھ یقینی بناناتھا۔ ان اہداف کی تکمیل میں کہیں مقامی لوگوں کو کچھ فوائد حاصل ہوئے توہ ایک ثانوی اہمیت کا عمل تھا۔
یہی کام کیا اب بھارت، مقبوضہ کشمیر میں نہیں کر رہا؟ کشمیر ایکسپریس کا بنیادی ہدف کیا ہے؟ بھارتی افواج کو کشمیر تک نقل و حرکت میں آسانی اسلحہ و گولہ بارود کی ترسیل میں آسانی،، بھارت کی تزویرانی پوزیشن کا استحکام، مقبوضہ کشمیر میں فوجی تسلط کی سہولت کاری، مقامی آبادی کو سیفرنائز کرنا۔ ہندوستان کی عمومی ہندو تہذیب کی کشمیر میں شدت سے داخلے کی راہ ہموار کرنا۔ کیا ششی تھروڑ بھارت کے اس نئے سیٹلر کالونیل ازم پر کچھ لکھیں گے؟
کشمیر ریلوے پراجیکٹ کی نوعیت فلاحی نہیں ہے۔ نہ ہی اس کا مقصد کشمیریوں کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ جس بھارت کو کشمیر تک رسائی کے آسان اور قدرتی راستے دستیاب ہی نہیں تھے اس بھارت کو ایک ایسا آسان راستہ دیا جائے تو کہ اسے کشمیر کو ہندتوائز کرنے میں آسانی رہے۔
کشمیر ریلوے کے لیے جو رنگ چنا گیا ہے اس رنگ کا ہندو شاؤنزم سے گہرا تعلق ہے۔ سیفرون رنگ کے انتخاب کی کیا وجہ تھی؟ یہ اصل میں ہندو تہذیب کا رنگ ہے اور کشمیر میں جانیو الی ٹرین کو سیفرون رنگ دینا اس بات کا اعلان ہے کہ بھارت کی ہندو تہذیب اب کشمیر کی تہذیب پر یلغار کر رہی ہے۔ یہ مقامی مسلم تہذیب پر، تہذیبی اور ثقافتی حملہ ہے۔
یہ بات محض گمان کے دائرے میں نہیں کہ یہ کشمیر کی مسلم شناخت پر حملہ ہے۔ اس کے بہت سارے شواہد موجود ہیں۔کشمیر کے اندر مسلم تہذیب کو مسخ کرنے کے لیے ایک مسلسل عمل جاری ہے۔ اور یہ اس سے ملتا جلتا ہے جو طریقہ فلسطین میں اسرائیل نے اختیار کیا۔
مثال کے طور اسرائیل نے مقبوضہ فلسطین کے تہذیبی تشخص کو ختم کرنے کے لیے وہاں ہیبریونائزیشن کی پالیسی متعارف کرائی۔ دھیرے دھیرے مقامی عرب ناموں کی جگہ عبرانی نام اور عبرانی اصطلاحات استعمال کی جانے لگیں۔الخیل ہیبرون ہو گیا، القدس یروشلم بن گیا، صفوریہ کو زپوری کہا جانے لگا، دیر یاسین کا نیا نام گیوت شاؤل رکھ لیا گیا۔ یہ ایک طویل فہرست ہے کہ کس طرح اسرائیل نے فلسطینی کلچر کو ہبریونائز کیا۔
یہی کام بھارت مقبوضہ کشمیر میں کر رہا ہے۔ شیر کشمیر سٹیڈیم کو سردار پٹیل سٹیڈیم کہا جانے لگا، سکولوں میں گیتا پڑھائی جانے لگی ہے، صوفی ازم کی جگہ ویدک تعلیمات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے تہاروں پر پابندیاں ہیں، نماز جمعہ تک کی ادائیگی مشکل بنا دی گئی ہے لیکن امر ناتھ یاترا کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے جاتے ہیں۔
کشمیر کے خلاف ایک تہذیبی یلغار جاری ہے۔ ڈومیسائل کے قوانین بدل دیے گئے ہیں۔ اب بھارت کے شہری بھی یہاں کا ڈومیسائل لے سکتے ہیں کیونکہ شرائط بہت نرم کر دی گئی ہیں۔ اس عمل سے کشمیر کی پوری ڈیموگرافی تبدیل ہو جائے گی۔
صرف ایک سال کے اندر بیالیس لاکھ پچھتر ہزار تین سو اکاون بھارتی شہریوں کو کشمیر کے ڈومیسائل جاری کیے گئے۔ یہ بیالیس لاکھ بھارتی اب کشمیر کے رہائشی تصور ہوں گیا ور یہاں ووٹ دیں گے اور یہاں کے کوٹے سے ملازمتیں حاصل کریں گے۔ اندازہ کر لیجیے کہ اب کشمیریوں کے ساتھ کیا ہو گا۔
اور یاد رہے کہ یہ تعداد صرف ایک سال میں کشمیر میں لائے گئے بھارتیوں کی ہے۔ چند سال اور اسی طرح گزر گئے تو کچھ بعید نہیں کہ وادی میں بھی مسلمان اقلیت میں چلے جائیں۔
اس سے پہلے بھارتی نہ مقبوضہ کشمیر کے شہری بن سکتے تھے نہ یہاں جائیداد خرید سکتے تھے۔ اب وہ یہاں کے شہری بھی بنائے جا رہے ہیں اور ان پر جائیداد کی خریداری کی پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے۔ جبر سے خوف سے اور ڈرا دھمکا کر ہندتوا کے سیوم سیوک اور انتہا پسند ہندو تنظیمیں یہاں بڑی تعداد میں زمینیں خرید رہی ہے۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو کشمیر کا حلیہ بدل جائے گا۔کیا اس سے بد ترین کالونیل ازم بھی کوئی ہو سکتا ہے؟
کشمیر میں مسلمانوں کے عید جیسے تہواروں کی تعطیلات کم کر دی گئی ہیں اور ہنددتہواروں کی تعطیلات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے تہوار بندوقوں اور سنگینوں کے سائے میں گزرتے ہیں جب کہ ہندو تہواروں کو حکومتی سرپرستی میں منایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے تہوار سوتلے بنا دیے گئے ہیں جب کہ ہندو تہواروں کو ایک ریاستی اور حکومتی سرگرمی بنا دیا گیا ہے۔
نصاب میں مسلمانوں کے مشاہیر کا تذکرہ کم کیا جا رہا ہے اور قومی یگانگت کے نام پر نصاف کو ہندتوائز کر دیا گیا ہے اور ہندو شائنزم نے نصاب کا حلیہ ہی بدل دیا ہے۔
یہ بھارت کا سیٹلز کالونیلزم ہے۔ جو اپنی سنگینی میں برطانوی نو آبادیاتی جبر سے زیادہ سنگین ہے۔
سوال یہ ہے کیا ششی تھروڑ، ہندو شاؤنزم کا مقدمہ ہی لڑتے رہیں گے یا وہ اس بھارتی سیٹلرز کالونیل ازم کے خلاف بھی کچھ لکھیں گے۔ششی تھروڑ صاحب سے پوچھا جاناچاہیے کہ جس مودی ازم کا مقدمہ لے کر وہ دنیا میں گھومتے پھرتے ہیں کیا وہ مودی ازم اور اس کا ہندتوا، برطانوی نو آبادیاتی سامراج سے بڑا سامراج نہیں؟
کیسا تضاد ہے کہ جو سامراج بوریا بستر لپیٹ کر جا چکا اس کے خلاف تو ششی تھروڑ ’قلم زن‘ ہیں لیکن اس سے بد تر اورا س سے سفاک ہندو سامراج کی واردات پر وہ خاموش ہیں ن۔ نہ صرف خاموش ہیں بلکہ وہ اس کی وکالت کر رہے ہیں۔