قطر جزیرہ نما عرب میں ایک اہم تجارتی اور سمندری مرکز رہا ہے۔ 18ویں صدی عیسوی تک یہ خطہ مختلف قبائل اور سلطنتوں (جیسے بنی خالد اور خلافت عثمانی) کے زیر اثر رہا ہے۔ جبکہ موجودہ شاہی خاندان "آل ثانی” کا تعلق موجودہ سعودی عرب سے ہے۔ قطر کی موجودہ ترقی، خوشحالی، فلاح و بہبود اور موثر بین الاقوامی ثالثی کردار میں "آل ثانی” خاندان کا وژن، خلوص، جذبہ، سفارت کاری، تحمل اور بصیرت کو خاص عمل دخل حاصل ہے۔ دنیا میں جب بھی کہیں بدامنی، کشیدگی، جنگ و جدل اور جبر و استبداد کا مظاہرہ ہوتا ہے تو قطر فوری حالات درست کرنے کے لیے متحرک ہوتا ہے اور تب تک چین سے نہیں بیٹھتا جب درپیش مسائل حل نہ ہو۔
آل ثانی خاندان کا تعلق عرب کے مشہور زمانہ بنی تمیم قبیلے سے ہے، جو 18ویں صدی عیسوی میں موجودہ سعودی عرب کے علاقے نجد سے قطر آکر آباد ہوا۔ آل ثانی خاندان میں شیخ محمد بن ثانی (1850-1878) پہلے قابل ذکر رہنما تھے جنہوں نے 1868 میں برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جس سے قطر کو بحرین کے اثر سے آزاد کروایا گیا۔ 1916 میں شیخ عبداللہ بن جاسم آل ثانی نے برطانیہ کے ساتھ "محفوظ ریاست” کا معاہدہ کیا، جس کے تحت قطر بیرونی حملوں سے محفوظ ہوا لیکن خارجہ امور میں برطانیہ کا تابع فرمان بنا رہا۔ 1939 میں تیل کی دریافت نے قطر کی معیشت اور تقدیر بدل کر رکھ دیا۔
1971 میں برطانیہ کے انخلا کے بعد شیخ خلیفہ بن حمد آل ثانی نے قطر کو مکمل آزادی دلائی۔ اس طرح 1995 میں شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے ایک پرامن سیاسی عمل کے ذریعے اقتدار سنبھالا اور قطر کو جدید ترین بنیادوں پر استوار کیا۔ ان کے دور اقتدار میں الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک اور قومی ترقی کے ہمہ جہت پروگرام نے قطر کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔
2013 میں شیخ تمیم بن حمد آل ثانی (موجودہ امیر، پیدائش، 3 جون 1980) نے اقتدار سنبھالا، جو دنیا کے سب سے کم عمر حکمرانوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے دور میں قطر نے 2022 FIFA ورلڈ کپ کی میزبانی کی اور علاقائی سطح پر ایک اہم کردار ادا کیا۔ آل ثانی خاندان قطر پر ڈیڑھ سو سال سے حکمران چلا آ رہا ہے۔ قطر ایک امارت ہے، جہاں امیر مطلق العنان اختیارات رکھتا ہے تاہم حالیہ برسوں میں سیاسی اصلاحات بھی ہوئی ہیں۔
گیس کی دریافت سے قطر دنیا کا امیر ترین ملک بن گیا ہے۔ اپنی امن پسندی، صلح جوئی، رواداری، متحمل مزاجی اور تمام تر قوتوں سے افہام و تفہیم کے ذریعے درپیش مسائل پر قابو پا کر مشترکہ کوششوں سے نت نئے امکانات پیدا کرنا قطر کی خاص ترجیحات رہی ہیں۔
طاقت اور دولت کو تخریب کاری اور جبر کے لیے استعمال کرنے کی مثالوں سے دنیا بھری پڑی ہے لیکن امن، استحکام، تعمیری امکانات اور عمومی خوشحالی کے لیے ان وسیلوں کو بروئے کار لانا ایک نایاب حکمت عملی ہے جس کو قطر نے سوچی سمجھی پالیسی کے تحت اختیار کیا ہے بلاشبہ قطر کئی اعتبارات سے دنیا کا محسن ہے۔
قطر ہمیشہ فعال سفارت کاری کے ذریعے عالمی اور علاقائی تنازعات میں صلح جوئی کے لیے مقدور بھر اپنی کوششیں پورے خلوص اور تندہی سے بروئے کار لا رہا ہے۔ قطر کا 2017 میں کچھ وجوہ سے سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ سفارتی بحران پیدا ہوا تھا لیکن 2021 میں دو طرفہ کوششوں سے اس مسئلے پر کامیابی سے قابو پا لیا گیا۔ یہ حقیقت ہے آل ثانی خاندان نے قطر کو ایک چھوٹی سی ریاست سے ایک بااثر عالمی اور اقتصادی طاقت میں تبدیل کر دیا ہے۔
خلیج کے اس چھوٹے سے ملک نے اپنی بہترین حکمت عملی، دور اندیشی اور متوازن پالیسیوں کے ذریعے دنیا بھر میں امن، رواداری اور ثقافتی ہم آہنگی کی ایک مثالی تصویر پیش کی ہے۔ جغرافیائی طور پر ایک چھوٹا سا ملک ہونے کے باوجود قطر نے اپنی سفارتی پختگی، معاشی استحکام اور ثقافتی کشادہ دلی سے بین الاقوامی سطح پر ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ آج قطر نہ صرف خلیجی تعاون کونسل (GCC) کا اہم رکن ہے بلکہ عالمی امن کی بحالی میں بھی ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
قطر نے ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی ہے۔ اس سلسلے کا سب سے بڑا ثبوت افغانستان میں طالبان اور امریکہ کے مابین مذاکرات کی میزبانی ہے، جس کے نتیجے میں 2020ء میں دوحہ معاہدہ وجود میں آیا۔ یہ تاریخی معاہدہ قطر کی غیر جانبدارانہ پالیسی اور عالمی سطح پر بھرپور اعتماد کی عکاسی کر رہا ہے۔ اسی طرح قطر نے لبنان، سوڈان اور یمن میں بھی امن کے قیام کی کوششوں میں ثالثی کی ہے۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کو بھی متعدد مرتبہ مذاکرات کے میز پر بیٹھایا ہے۔ چند روز قبل قطر نے انکشاف کیا کہ جلد ہی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک دیرپا امن معاہدہ طے ہو جائے گا۔
انسانی بنیادوں پر امن کی بحالی قطر کے خارجہ پالیسی کا ایک اہم ترین ستون ہے۔ قطر کی خیراتی تنظیموں جیسا کہ”قطر چیریٹی” اور "Education Above All” فاؤنڈیشن کے ذریعے دنیا بھر میں تعلیم، صحت اور بنیادی انسانی حقوق کے فروغ کے لیے بھرپور انداز میں کام کر رہی ہیں۔ شام، فلسطین اور روهنگیا کے پناہ گزینوں کی امداد میں قطر کا کردار ہمیشہ قابل ستائش رہا ہے۔ مزید برآں، غزہ کی بحالی اور فلسطینی عوام کی مدد کے لیے قطر کے اربوں ڈالر کے منصوبے اس کی انسان دوستی اور گہری ہمدردی کی واضح مثال ہیں۔
قطر ثقافتی تنوع کو فروغ دینے میں پیش پیش ہے۔ دوحہ میں "امن کے لیے تہذیبوں کا اتحاد” جیسے فورمز کا انعقاد، بین المذاہب مکالمے کو تقویت دینے کی ایک مؤثر کوشش ہے۔ قطر نے عالمی سطح پر اسلاموفوبیا کے خلاف موثر انداز میں آواز اٹھائی ہے اور مغرب میں اسلام کے مثبت تصور کو اجاگر کرنے کے لیے "مسلم ڈیلیوژنز” جیسے منصوبے متعارف کروائے ہیں۔ اس کے علاوہ، دوحہ میں ایک وسیع و عریض عجائب گھر کا قیام عمل میں آیا ہے جو کہ اسلامی فنون، عرب تہذیب اور عالمی ثقافتوں کا ایک حسین و جمیل امتزاج پیش کرتا ہے۔
قطر نے ہمیشہ شدت پسندی کی بجائے اعتدال، افہام و تفہیم اور برداشت کو فروغ دیا ہے۔ ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ دوحہ میں متعدد گرجا گھر اور مندر موجود ہیں، جو قطر کی رواداری اور ہم آہنگی کی واضح علامتیں ہیں۔ 2022ء کے فیفا ورلڈ کپ کے دوران قطر نے دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک پرامن، خوش گوار اور دوستانہ ماحول فراہم کیا تھا، جس نے عالمی سطح پر اس کی مثبت امیج کو مزید مضبوط کیا۔
قطر نے ہر سطح پر ثابت کیا ہے کہ طاقت کا اصل استعمال جنگ اور جبر نہیں بلکہ امن، تعلیم، صحت، خوشحالی اور انسانی ترقی میں سرمایہ کاری ہے۔ آج قطر نہ صرف خلیجی خطے بلکہ پوری دنیا میں امن اور رواداری کا بہت بڑا علمبردار ہے۔ اگر تمام ممالک قطر کی طرز کی پرامن اور متوازن پالیسیاں اپنائیں، تو قوی امید ہے کہ دنیا سے دیرینہ تنازعات کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ قطر کی کامیابی دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ حقیقی طاقت جدید ترین اسلحوں میں نہیں، بلکہ انسانیت کے احترام اور باہمی مفاہمت میں پنہاں ہے۔
قطر اپنی ترقی یافتہ معیشت، جدید ترین پالیسیوں اور موثر بین الاقوامی سفارت کاری کی بدولت دنیا بھر میں اپنی خصوصی پہچان رکھتا ہے۔ اس ترقی کے پیچھے قطر کے موجودہ حکمران شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی دوراندیش قیادت اور تعمیری سوچ کار فرما ہے۔ وہ نہ صرف قطر کو معاشی اور سیاسی اعتبار سے مضبوط بنانے میں کامیاب رہے ہیں، بلکہ انہوں نے ملک کو ایک جدید ریاست کے طور پر متعارف کرانے میں بھی اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔
شیخ تمیم بن حمد آل ثانی 3 جون 1980 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے برطانیہ کے معروف تعلیمی اداروں سے تعلیم و تربیت حاصل کی، جس نے ان کے فکری اور سیاسی شعور کو بخوبی نکھارا۔ وہ کھیلوں کے بھی بے حد شوقین ہیں نیز قطر میں کھیلوں کی ترقی کے لیے ان کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی عاجزی، انکساری، خندہ روئی، دوراندیشی اور اپنی قوم سے شدید محبت جیسے اوصاف نمایاں ہیں، جو انہیں عرب دنیا کے دیگر حکمرانوں سے ممتاز کر رہے ہیں۔
2013 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد شیخ تمیم نے قطر کو ایک جدید، بااثر اور خودکفیل ریاست بنانے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرائیں۔ مثلاً ان کے دور میں، معیشت میں تنوع پیدا کیا گیا، جس میں توانائی کے شعبے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی، اعلی تعلیم اور سیاحت پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اس طرح تعلیمی انقلاب برپا کیا گیا، جس میں قطر فاؤنڈیشن اور Education City جیسے منصوبوں نے ملک کو علم و تحقیق کا مرکز بنایا۔ اس طرح مجموعی انفراسٹرکچر کو ترقی اور وسعت دی گئی، جس کی عمدہ مثال 2022 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی ہے، جس نے قطر کو عالمی سطح پر خوب متعارف کرایا۔ اس طرح خواتین کی خودمختاری پر زور دیا گیا، جس کے تحت خواتین کو سیاست، ملازمتوں اور کاروبار میں واضح کردار دیا گیا۔
شیخ تمیم نے قطر کو ایک متوازن اور غیرجانبدار خارجہ پالیسی پر گامزن کیا۔ ان کی کوششوں سے قطر نے امن مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا، جیسا کہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ مذاکرات۔ اس طرح انسانی امداد کے شعبے میں نمایاں کام کیا، خاص طور پر جنگ زدہ ممالک کی مدد۔
خلیجی بحران (2017-2021) کے دوران قطر نے نہ صرف اپنی خودمختاری کا دفاع کیا بلکہ اقتصادی طور پر مزید مضبوط ہوا۔
شیخ تمیم بن حمد آل ثانی ایک ایسے حکمران ہیں جنہوں نے قطر کو عالمی سطح پر ایک باوقار مقام دلایا۔ ان کی تعمیری پالیسیوں، روشن خیال اقدامات اور عوامی فلاح و بہبود کے مختلف اور متنوع منصوبوں نے قطر کو ایک مثالی اسلامی ریاست بنا دیا ہے۔ ان کی قیادت میں قطر نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پوری دنیا میں ایک مثبت اور ترقی یافتہ کردار ادا کر رہا ہے۔ میں علی وجہ البصیرت سمجھتا ہوں کہ امن نوبل انعام کے حقیقی مستحق شیخ تمیم بن حمد آل ثانی ہیں۔ شیخ تمیم کے سیاسی کردار، مصالحانہ کوششوں، تعمیری اپروچ اور بین الاقوامی روادارانہ اقدامات میں وہ استحقاق بدرجہ اتم موجود ہے جس کی بنیاد پر اگر نوبل امن انعام انہیں ملا تو بلاشبہ یہ عین انصاف کے مطابق ہوگا اور مجھے یقین ہے اس سے مذکورہ اعزاز کی وقعت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔