سوات میں ایک ہی خاندان کے 17 افراد پانی میں ڈوب گئے۔
پانی میں پھنسے ہوئے ان افراد نے موت کو اپنی جانب بڑھتے دیکھا ہوگا، بے بسی سے ہاتھ پاؤں مارے ہوں گے، چلائے ہوں گے، روئے ہوں گے۔ یہ سوچ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
اور پھر جب اس الم ناک حادثے پر لوگوں کے تبصرے پڑھے۔۔۔
“وہاں گئے ہی کیوں تھے؟ اپنے گھر میں بیٹھے رہتے۔”
“اگر گئے بھی تھے تو پانی میں کیوں گھسے؟”
“یہ سیاح خود قصوروار ہیں!”
اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے تو کمال ہی کر دیا:
"ہم نے تمام انتظامات کر رکھے ہیں۔ ضروری نہیں کہ میں خود وہاں موجود رہوں یا میں نے خود تمبو دینے ہوں۔ میری ٹیم نیچے موجود ہے۔”
نیچے؟ کہاں نیچے؟ پانی کے نیچے؟ یا اخلاقیات کے نیچے؟
اس طرح کے بیانات اور تبصرے آپ کی جہالت، درندگی اور بے حسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
کچھ سال پہلے مجھے بھی ناران، کاغان اور سیف الملوک جانے کا اتفاق ہوا۔ ناران میں کوئی اے ٹی ایم نہیں تھی۔ اگر آپ کو ایمرجنسی میں پیسوں کی ضرورت پڑے تو 70 کلومیٹر پیچھے بالاکوٹ جانا پڑتا ہے۔ سیف الملوک جانے والا راستہ موت کا راستہ تھا — جیسے برف کی چادر پر لپٹا ہوا ایک لاشوں بھرا ٹریک۔ خوبصورتی اپنی جگہ، مگر حفاظت کہیں نظر نہیں آتی تھی۔
اسی وقت میں نے خیبرپختونخوا کے وزیرِ سیاحت کو تفصیلی واٹس ایپ پیغام لکھا۔ ان مسائل کی نشاندہی کی، ہمدردی سے، سنجیدگی سے، بغیر غصے کے۔ جواب میں رسمی شکریہ آیا اور پھر مستقل خاموشی۔
یہ سانحہ پہلا نہیں۔ اس سے پہلے بھی ہم کئی حادثے گن چکے ہیں۔ ہر سال سیلاب آتا ہے، ہوٹل بہہ جاتے ہیں، فیملیاں لاپتہ ہو جاتی ہیں۔ ہر بار وہی سکرپٹ دہرایا جاتا ہے:
"غیر معمولی بارشیں تھیں”،
"لوگ احتیاط نہیں کرتے”،
"ایسے موسم میں نہیں آنا چاہیے تھا”۔
جیسے یہ جگہیں صرف تصویروں کے لیے بنی ہوں، اصل انسانوں کے لیے نہیں۔

2020 میں درجنوں سیاح سوات اور کوہستان میں بہہ گئے۔
2021 میں سیف الملوک کی سڑک پر چار سیاح حادثے کا شکار ہوئے۔
2022 میں کالام میں ایک ہوٹل دریائی پانی میں بہہ گیا۔
2023 میں ہزارہ میں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی۔
2024 میں ناران میں گاڑیاں برف میں پھنس گئیں۔
ہر بار مسئلہ قدرتی آفت نہیں تھا — انتظامی غفلت تھی۔
ہمارے ہاں سیاحت صرف ایک نعرہ ہے، ایک فیس بک پوسٹ، ایک میلہ۔ عملی میدان میں کچھ نہیں۔ نہ وارننگ سسٹم، نہ ریسکیو انتظام، نہ کسی ہنگامی صورتِ حال میں کام آنے والا نظام۔ اگر کوئی مسئلہ ہو جائے تو حکومت کے پاس جواب یہی ہوتا ہے کہ "عوام کو شعور نہیں”۔
کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ حکومت کا کام صرف تصویریں بنوانا ہے یا کسی کی جان بچانا بھی؟
اب سوال یہ نہیں کہ لوگ وہاں کیوں گئے۔
سوال یہ ہے کہ جو گئے، ان کے لیے وہاں کیا تھا؟ صرف پانی، موت اور بے بسی؟
اگر ہم نے اس سانحے کو بھی اگلی خبر آنے تک بھلا دینا ہے، تو ہم دراصل خود کو مارتے جا رہے ہیں — تھوڑا تھوڑا کر کے، ہر سال، ہر سیلاب میں، ہر پتھریلے راستے پر، ہر گرتی لاش کے ساتھ۔
بعض اوقات خاموشی بھی شور مچاتی ہے — مگر یہاں تو وہ بھی نہیں۔
یہاں تو صرف لاشیں گرتی ہیں اور تبصرے اٹھتے ہیں۔
جیسے حادثہ نہیں، تماشا ہو۔
جیسے انسان نہیں، قصوروار مرے ہوں۔
یہ معاملہ صرف پانی میں ڈوبنے کا نہیں — یہ اس نظام میں غرق ہونے کا ہے، جو ہر سال ہمیں بتاتا ہے کہ مرنے والوں کا قصور تھا، بچانے والوں کی کوئی غلطی نہیں۔
اور جب ہر بار یہی بتایا جائے —
تو پھر اگلی لاش کا انتظار مت کیجیے۔
بس یہ دیکھیے کہ وہ لاش کس کی ہوگی۔
کسی اور کی… یا آپ کی اپنی۔