چکوال، پوٹھوہار کی گود میں بسی ہوئی وہ سرزمین ہے جو شہیدوں، غازیوں، علماء، بیوروکریٹ افسران، تاجروں ، محب وطن نوجوانوں، اور اہل ہنر کی پہچان رکھتی ہے۔
یہاں کی فضا حب الوطنی سے مہکتی ہے، یہاں کی مٹی قربانیوں کی گواہ ہے، اور یہاں کے لوگ اپنے کردار، خلوص اور خدمت کے جذبے میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ایسے علاقے کی ترقی اور خوشحالی صرف اس کے قدرتی وسائل یا جغرافیہ پر منحصر نہیں بلکہ یہاں کے صاحب اختیار، نمائندگان، اور اعلیٰ عہدیداروں کے ویژن اور نیت پر بھی منحصر ہوتی ہے۔ ہر وہ شخص جو عوامی منصب پر فائز ہے، اس کی بنیادی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرے، مسائل کے حل کی راہیں تلاش کرے، اور وہ فیصلے کرے جو آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار بنیں۔
یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ ماضی میں چند ایسے افراد صاحب اختیار بنے جن کے فیصلوں نے چکوال کی ترقی کو جمود میں ڈال دیا۔ چکوال، جو کسی زمانے میں ریلوے ٹریک کا حامل شہر تھا، اسے اس عظیم سہولت سے محروم کر دیا گیا۔ یہ کوئی معمولی نقصان نہیں تھا۔ ٹرین کی آمد و رفت صرف سفر کا ذریعہ نہیں بلکہ روزگار، تجارت، تعلیم اور ثقافتی ہم آہنگی کا ذریعہ تھی۔ بدقسمتی سے، اس سہولت کو بغیر کسی عوامی مدد کے ایک خود ساختہ فیصلے کے ذریعے ختم کیا گیا اور یوں چکوال کے لیے ترقی کے دروازے بند ہوتے گئے۔
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ چکوال میں ہر گاؤں، قصبے، اور شہر میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افسران، بیوروکریٹس، آرمڈ فورسز کے اعلیٰ افسران، وکلا، انجینئرز، اور ماہرین موجود ہیں جنہوں نے ہر دور میں پاکستان کے لیے خدمات انجام دیں۔ کئی شخصیات ایسی بھی آئیں جنہوں نے نہ صرف اپنی ذمے داریوں کو عبادت سمجھ کر نبھایا اور اہل علاقہ کے لیے سہولیات پیدا کیں۔ بلکہ اپنی ذمے داریوں سے بڑھ کر خدمت خلق کی، لیکن ساتھ ہی ایسے بھی افراد رہے جو نہ صرف بے حسی کا شکار رہے بلکہ انہوں نے علاقے کو شعوری طور پر پسماندگی کی جانب دھکیلا۔
آج کی صورتحال میں خصوصاً حالیہ بجٹ کے بعد اگر ایک شخصیت کو ڈسکس کیا جا رہا ہے، تو وہ ایم پی اے سلطان حیدر ہیں۔ وہ اس وقت پارلیمانی سیکرٹری بھی ہیں اور ضلع چکوال کے لیے انہوں نے حالیہ بجٹ میں خاصی توجہ دی ہے۔ اس بجٹ میں الیکٹرک بسوں کا منصوبہ، انفراسٹرکچر کی بہتری اور دیگر اہم عوامی منصوبے شامل کیے گئے ہیں، جو قابلِ ستائش اقدام ہے۔
چکوال جیسے ضلع کے لیے جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان رہا ہے اور ہے، بلکہ ہم یہ کہیں کہ اسلام آباد چکوال سے ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پہ ہے۔ لیکن ترقی و ٹیکنالوجی میں اسلام آباد سے پچاس سال پیچھے ہے۔
تو ایسی صورت حال میں اگر کسی منتخب نمائندے کی طرف سے عملی بجٹ اقدامات سامنے آئیں تو یہ بلاشبہ خوش آئند بات ہے۔ مگر ترقی صرف منصوبے پیش کرنے سے نہیں ہوتی، بلکہ ان پر عملدرآمد اور بروقت تکمیل ہی اصل کامیابی ہے۔
تاہم، جب بات چکوال کے ایک انتہائی اہم روڈ، ”بھون روڈ“ (شاہ ملتانی سے اسلامیہ چوک تک) کے بارے میں، ایم پی اے صاحب نے اپنے حالیہ انٹرویو اور بیانات میں کوئی واضح فیصلہ نہیں بتایا، بلکہ گول مول کر گئے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے روڈ کی حالتِ زار کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے ذمہ داری سابقہ حکومت، پی ڈبلیو ڈی، اور دیگر محکموں پر ڈال دی۔ سلطان حیدر صاحب یہ کوئی حل نہیں ہے، عوام کے بنیادی مسائل پر اگر پچھلی حکومت نے کوتاہی کی تو اس کا احتساب ہونا چاہیے، لیکن موجودہ نمائندے کی اولین ذمہ داری ہے کہ تمام اداروں کو ایک میز پر بٹھا کر مسئلے کا فوری حل نکالیں۔ آپ حکمران جماعت کے ایم۔پی اے ہیں آپ وزیر اعلیٰ کو درخواست کر کے تمام اداروں کو ایک میز پہ بیٹھا کر اس مسئلہ کا فوری حل نکالیں۔
اس وقت بھون روڈ کا حال یہ ہے کہ ساون کے موسم میں وہ مختلف جگہ پہ ایک ندی کا منظر پیش کرتا ہے۔ گندے پانی کے جوہڑ، کھڈے، ٹوٹا ہوا سڑک کا ڈھانچہ، اور عوام کی بے بسی، کیا یہ صورتحال کسی بھی شہری کے لیے قابل قبول ہے؟ قطعاً نہیں۔ ایم پی اے صاحب کو چاہیے کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب کو اس مسئلے کی سنگینی سے آگاہ کریں اور تمام متعلقہ محکموں کا اجلاس بلا کر فیصلہ لیں۔ تحقیقات، آڈٹ، رپورٹیں یہ سب اپنی جگہ، لیکن عوام کو سڑک، سہولت اور سکون آج چاہیے، دو سال بعد نہیں۔
منتخب نمائندوں کے بعد اگر کسی پر ذمے داری عائد ہوتی ہے تو وہ اعلیٰ سرکاری و عسکری افسران ہیں۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا، جو اس وقت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ہیں، چکوال کے فرزند ہیں۔ ان کی موجودگی ضلع کے لیے فخر کا باعث ہے۔ ان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ فوجی قیادت اور فلاحی اداروں کی مدد سے چکوال میں صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں انقلابی اقدامات کی راہ ہموار کر سکتے ہیں، عوام، سول سوسائٹی اور چکوال کے دانشوروں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی آواز بلند کریں اور منتخب نمائندوں کے ذریعے ملٹری قیادت تک یہ درخواست پہنچائیں کہ:
چکوال میں سی ایم ایچ یا ایم ایچ راولپنڈی طرز کا ایک مکمل فوجی اسپتال قائم ہو، تمام تحصیلوں میں سرکاری و نیم سرکاری صحت و تعلیم کی سہولیات میں اضافہ ہو۔
نوجوانوں کے لیے ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ قائم کیے جائیں۔
یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ وہ لوگ جو اپنے اختیار، اثر و رسوخ یا تعلقات کو عوامی خدمت کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہی اصل میں عظیم ہوتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو دوسروں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتا ہے، جو اداروں کے دروازے کھٹکھٹاتا ہے، جو اہل لوگوں کے لیے سفارش اور درخواست کو امانت سمجھ کر آگے بڑھاتا ہے، وہی اصل رہنما ہوتا ہے۔
اسلامی تعلیمات بھی ہمیں یہی درس دیتی ہیں کہ:
(لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہو۔) ضلع چکوال کے صاحب اختیار، افسران، اور نمائندگان کو چاہیے کہ وہ سیاست سے بالا ہو کر صرف اور صرف عوامی مفاد کو ترجیح دیں، تاکہ آنے والا وقت چکوال کے لیے خوشحالی، ترقی اور امیدوں کا پیامبر بن سکے۔