سید عابد شاہ: ایک اچھا، سچا، میٹھا، کھرا اور نکھرا انسان

سید عابد شاہ میرے کزن ( پھوپی زاد بھائی) ہیں۔ انہوں نے ہائیر سیکنڈری اسکول لعل قلعہ (میدان، ضلع دیر لوئر) سے میٹرک اور جہانزیب کالج سوات سے بی ایس سی (فزکس) کی ڈگری لی ہیں۔ 1995ء سے قومی اسمبلی کا حصہ ہیں۔ آج کل بطورِ سینئر سٹاف آفیسر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ موصوف نہایت خوش اخلاق، خوش مزاج، خوش گفتار، خوش آواز، خوش اطوار، خوش لباس، خوش رو اور یہ کہ خوشگوار انداز میں زندگی بسر کرنے والے ایک ذمہ دار اور حد درجہ باوقار انسان ہیں۔

سید عابد شاہ ذوق و شوق اور محبت سے اللّہ تعالیٰ کی عبادت بجا لاتے ہیں۔ خدا کے بندوں سے اچھے طریقے سے ملتے ہیں۔ معاشرے میں معروف آداب کا نہ صرف خود اچھی طرح پاسداری کرتے ہیں بلکہ دوسروں سے بھی برابر یہی توقع رکھتے ہیں۔ دل آویز مسکراہٹ سے ملنے والوں کا استقبال کرتے ہیں۔ توجہ اور انہماک سے مخاطب کی بات سنتے ہیں۔ کسی کا کوئی کام ہو اور وہ بس میں بھی ہو تو ضرور کرتے ہیں۔ سماجی اور خاندانی تقریبات میں پورے اہتمام سے شریک ہوتے ہیں۔ کب ان کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ یہ ان کو یاد دلانے کی قطعاً ضرورت نہیں پڑتی۔ بہترین ذوق و مزاج کے حامل ہیں اپنی شیرین آواز سے بہترین قومی، سیاسی اور سماجی قسم کی نظمیں پڑھیں ہیں لیکن ایک عرصے سے یہ مشغلہ بند کیا ہے۔

سید عابد شاہ اپنی شخصیت اور خوبیوں کی بدولت مجھے بے حد عزیز ہیں جبکہ میں بھی کسی وجہ سے ان کو آچھا لگتا ہوں۔ وہ اکثر اوقات سماج میں موجود عمومی بے حسی، بے ایمانی، جھوٹ، خیانت اور ناکارہ پن پہ شدید دکھ درد کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ صاف گو اور جرآت مند انسان ہیں۔ درست بات لاگ لپیٹ کے بغیر زبان پہ لاتے ہیں، مخاطب خواہ اطمینان کرلیں یا کسی اذیت میں مبتلا ہو۔ ہاں ایک بات اور بھی ہے وہ علم کے بے حد قدر دان انسان بھی ہیں۔ وہ اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے ہمیشہ متلاشی اور متحرک رہتے ہیں۔

سید عابد شاہ نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی بدولت بے شمار ممالک کے دورے کیے ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ ایسے سارے مواقع پر انہوں نے صرف "سیر سپاٹے” ہی روا نہیں رکھے بلکہ مختلف ممالک اور معاشروں سے بے شمار کام کی باتیں اور چیزیں بھی سیکھ لیے ہیں۔ کہتے ہیں "میں نے سینکڑوں لوگوں سے مذہب، نبوت اور الہیات کے موضوع پر کھل کر تبادلہ خیال کیا ہے۔ کہتے ہیں "ایسے بہت سارے مواقع پر مجھے اپنے مخاطبین (زیادہ تر عیسائی اور یہودی) یہ اقرار کرتے نظر آئیں ہیں کہ محمد بن عبداللہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں لیکن جب بحث اس کی حیثیت متعین کرنے (یعنی آخر الزماں اور پوری انسانیت کی جانب مبعوث ہو کر آنا) کے مرحلے میں آجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ "محمد عربی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تو بے شک ہیں لیکن آخر الزماں نہیں نہ ہی پوری انسانیت کے لیے مبعوث ہیں” مخاطبین مزید کہتے ہیں کہ "وہ ایک خاص خطے کے لیے اللہ تعالٰی کا نبی بن کر آئے تھے پوری دنیا کے لیے نہیں دوسرے خطوں میں دوسرے نبی آئیں تھیں جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام وغیرہ”۔

سید عابد شاہ کی شخصیت اور مزاج مایوسی، بددلی، بوریت، سردمہری، نفرت، تکبر اور انتہا پسندی ایسے عیوب سے یکسر پاک ہے۔ وہ ایک بھرپور سماجی اور اجتماعی کردار کے حامل انسان ہیں۔ وہ خیر و شر کے درمیان موجود کشمکش میں صرف تماشائی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ "سٹک ہولڈر” ہے۔ وہ اپنی باتوں اور کاموں سے ایسا انسان لگ رہا ہے کہ گویا اس کے سینے میں، احساس سے بھرا ایک بے قرار دل موجود ہے۔ وہ ایک بیدار، حساس، فرض شناس، سنجیدہ اور عملی شہری ہے۔ اس کے قہقہے زندگی سے بھرپور، مشورے خیر خواہی سے بھرے ہوئے اور احساسات غیرت و حمیت سے لبالب ہیں۔ خود غرضی اور بے حسی کے موجودہ عمومی نفسیات میں ایسے لوگ معاشرے کے لیے، یقین کریں کسی بہت بڑی نعمت سے کم نہیں۔

یہ 97ء سے 2000ء کا درمیانی زمانہ تھا۔ موصوف تلاش علم کے شوق میں غلام احمد پرویز کو متوجہ ہوئے۔ اس کی کتابیں دلچسپی سے پڑھنا شروع کیے اور اس کے "وسیع العلمی” سے بری طرح متاثر ہوگیے۔ میرے ساتھ بحث مباحثہ بھی کرتے رہتے تھے۔ میرے لیے یہ انتخاب بے حد حیرت بلکہ تشویش کا باعث بنا کیونکہ میں نے پرویز کو بھی تھوڑا بہت پڑھا تھا اور اس کے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ پڑھتا رہتا تھا۔ اس کی "قرآنی نظام ربوبیت” کے سر ہے نہ پیر، وجود ہے نہ روح اور منزل ہے نہ نشان منزل۔ میں مقدور بھر پرویز کے گمراہ کن خیالات کی نشان دہی کرتا وہ چونکہ مخلص طالب علم ہیں لہذا جلدی سنبھل گئے، اللہ تعالیٰ نے ان کی درست راہنمائی فرمائی، بعد میں وہ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ اور ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ کی جانب متوجہ ہوئے۔ آج کل پروفیسر احمد رفیق اختر کو توجہ اور محبت سے سنتے اور استفادہ کرتے ہیں۔

اگر چہ سید عابد شاہ اس سیاسی سوچ کا حامل نہیں جس کی جماعت اسلامی عالم بردار ہے لیکن پھر بھی جماعت کو ایک بہتر سیاسی، نظریاتی اور سماجی تحریک سمجھتے ہیں۔ مقدور بھر جماعت سے ہمدردی رکھتے ہیں، مجھے بارہا مخاطب کرتے ہوئے کہا عنایت! "جماعت کب ٹریک پر آئی گی؟”۔ میں دل ہی دل میں جواب دیتا ہوں جب”سب” ٹریک پر آجائیں” وہ کہتے ہیں "جماعت کے دامن میں کامیابی کے زبردست امکانات موجود ہیں (یعنی ایمان دار لیڈر شپ، مخلص کارکن، بہترین نظم و ضبط، ٹھوس بیانیہ، متاثر کن لیٹریچر، ہمہ وقت خدمت و حرکت، دینی و اخلاقی تربیت، نوجوانوں کی اکثریت وغیرہ) لیکن عملاً وہ کامیابی کی جانب پیش قدمی کرتے نظر نہیں آرہی”۔ میری وساطت سے کئی بار انہوں نے "الخدمت فاؤنڈیشن” سے تعاون بھی کیا ہیں۔ ایسے لوگوں کو جماعت کی "ٹرمنالوجی” میں ہمدرد کہتے ہیں۔

ملک کے مختلف سیاسی، سرکاری، سماجی اور صحافتی زعماء سے ان کے بھرپور ذاتی مراسم قائم ہیں جبکہ محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ اور جناب اسفند یار ولی خان کے تو وہ لاڈلا ہیں۔ سید عابد شاہ میرے لیے بڑے بھائی جیسے ہیں ایک مہربان اور دلچسپ انسان وہ خاندان بھر کے لیے بہ منزلہ سائبان کے ہیں جب بھی کوئی کڑا وقت آتا ہے تو وہ اپنے مہربان چھاؤں پھیلا دیتے ہیں۔ مجھے ان سے جو جمعیت خاطر ہے وہ خارج از بیان ہے۔ ویسے تو سارے بھائی میرے دوست ہیں۔ سارے محبت سے پیش آتے ہیں سب کے سب مجھے دل سے عزیز ہیں۔ میں اپنے ماضی اور حال احوال کے تناظر میں اپنے انہیں کزنز کے زیادہ قریب رہا ہوں۔ اللّہ تعالیٰ ان ساروں کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں اور اپنی بے پایاں رحمتوں کا سایہ ان پہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دراز رکھے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے