قدرتی آفت یا حکومتی نا اہلی؟ سوات کی سیاحت

ہر سال خوبصورت وادی سوات، جسے بجا طور پر مشرق کا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے، تباہ کن سیلابوں کی لپیٹ میں آتی ہے۔ یہ کوئی اچانک یا غیر متوقع حادثہ نہیں، بلکہ ایک تسلسل سے دہرایا جانے والا سانحہ ہے، جو گزشتہ دو دہائیوں سے شدت اختیار کر چکا ہے۔ ہر سال قیمتی جانیں ان سانحات کی نظر ہو جاتی ہیں .افسوسناک امر یہ ہے کہ اس تمام تباہی کے باوجود حکومتی سطح پر مؤثر منصوبہ بندی، پیشگی تیاری اور فوری ردعمل کا شدید فقدان ہے۔

مجھے آج بھی 2007-08کا سیلاب ایک ناقابلِ فراموش تجربے کی صورت یاد ہے۔ ان دنوں میں سوات میں تعینات تھا، جہاں ہم دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں میں راشن تقسیم کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ لیکن اس منصوبے سے صرف ایک رات قبل اچانک موسلادھار بارش اور بادل پھٹنے کا ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پوری وادی کو تہس نہس کر دیا۔

اگلی صبح جب ہم نکلے، تو کانجو کو مینگورہ سے ملانے والا واحد پل مکمل طور پر سیلاب کی نذر ہو چکا تھا۔ ہم مکمل طور پر کٹ کر رہ گئےنہ کوئی راستہ، نہ کوئی امداد۔مگر ہم نے ہار ماننے سے انکار کیا۔ ہم نے طے کیا کہ کسی بھی قیمت پر متاثرہ خاندانوں تک پہنچنا ہے۔ حکومتی سطح پر کسی مدد یا متبادل انتظام کا کوئی وجود نہ تھا۔

تب ہم نے مقامی ماہرین سے رابطہ کیا، جو ہاتھ سے بنائی گئی ٹیوب کشتیوں کے ذریعے دریا عبور کرنے کا ہنر رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ، سیکیورٹی اہلکاروں اور مقامی رضاکاروں نے بھی ہمارے ساتھ تعاون کیا۔ جان ہتھیلی پر رکھ کر ہم نے وہ تند و تیز دریا عبور کیا اور آخرکار امدادی سامان متاثرہ لوگوں تک پہنچایا۔

بدقسمتی سے، یہ صرف ایک واقعہ نہیں .ایسی کہانیاں اب ہر سال دہرائی جاتی ہیں۔ بارش کے ہر موسم میں وہی مناظر سامنے آتے ہیں: بہتے ہوئے پل، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، اور بے یار و مددگار عوام۔

اصل سوال یہ ہے: کیا ہم نے اس مسلسل المیے سے کچھ سیکھا؟ بدقسمتی سے، جواب ہے: نہیں۔

آج تک نہ کوئی جامع فلڈ مینجمنٹ پالیسی بن سکی، نہ ہی دریا کے کناروں کو پختہ کیا گیا۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی جاری ہے، اور خطرناک علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات پر کوئی روک ٹوک نہیں۔ انفراسٹرکچر کی مرمت تو ہوتی ہے، مگر پائیداری اور مستقبل بینی سے عاری۔ ہر سال نقصانات کا تخمینہ لگتا ہے، وزیروں کے فوٹو سیشن ہوتے ہیں، میڈیا کوریج ہوتی ہے، لیکن مستقل اور مؤثر حکمتِ عملی کہیں نظر نہیں آتی۔

سوات کے عوام محنتی بھی ہیں اور صابر بھی، مگر صبر اور حوصلے کو ایک دن پالیسی، تحفظ اور سہولت میں بدلنا ہوگا۔ سوات کے ہزاروں افراد کا روزگار سیاحت پر منحصر ہے. اور سیاحوں کی اکثریت دوسرے صوبوں بلخصوص پنجاب سے گرمیاں گزارنے ان علاقوں کا سفر کرتی ہے. خدشہ ہے کہ ایسے واقعات جاری رہے تو اس سے سیاحت کے شعبے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے.

اب ضرورت ہے کہ حکومتیں صرف ہمدردی کے بیانات سے آگے بڑھیں اور عملی اقدامات کریں۔
ضرورت ہے:

✅ سیلاب سے محفوظ اور پائیدار انفراسٹرکچر کی
✅ دریا کناروں کی مضبوطی اور دوبارہ شجرکاری کی
✅ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے مؤثر اور فوری نظام کی
✅ اور سخت قانون سازی و اس پر عملدرآمد کی

یہ سیلاب اب محض قدرتی آفات نہیں رہے۔ جب خطرات معلوم ہوں، نقصانات کی پیشگی پیش گوئی ممکن ہو، اور پھر بھی کوئی حفاظتی اقدام نہ کیا جائے—تو یہ دراصل انسانی غفلت، مجرمانہ نااہلی اور اجتماعی بےحسی کی علامت بن جاتے ہیں۔

سوات کو اب وقتی ہمدردی نہیں، بلکہ مستقل، سنجیدہ اور ترجیحی حکومتی توجہ کی ضرورت ہے۔ صرف اسی صورت میں یہ وادی دوبارہ اپنی اصل خوبصورتی اور سکون حاصل کر سکتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے