کیا آپ امریکہ کے خلاف ہیں؟
کیا آپ امریکہ کے طرفدار ہیں؟
میرے جیسے ایکٹیوسٹس کو اس سوال کا زندگی میں کئی بار، مختلف ادوار میں، مختلف حوالوں سے سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اوائل عمری سے مجھے لفظ ambivalence میں اس کا جواب ملا۔ میرا، بلکہ ہمارا (آپ کی مرضی ہے “ہمارا” میں جس جس کو چاہیں شامل کر لیں)، امریکہ کے ساتھ رشتہ شاید کسی محبت بھرے مگر پیچیدہ تعلق جیسا ہے۔ ایک ایسا تعلق جس میں کشش بھی ہے اور کڑواہٹ بھی۔ ہم اسے سراہتے بھی ہیں اور شاکی بھی رہتے ہیں۔
یہی دوہرا جذبہ، جسے انگریزی میں ambivalence کہتے ہیں، شاید وہ سب سے بہتر لفظ ہے جو ہمارے اجتماعی شعور میں امریکہ کے مقام کو بیان کرتا ہے۔ ہم اس کے خواب دیکھتے ہیں، اس کی آزادیوں کو سراہتے ہیں، اور پھر بھی اکثر اس پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ مگر سچ یہ ہے کہ یہ رشتہ کبھی ختم نہیں ہوتا، کیونکہ یہ صرف سیاسی نہیں، جذباتی بھی ہے۔ کبھی کبھی کوئی ملک، ایک تصور بن جاتا ہے۔ میرے لیے امریکہ ہمیشہ ایک ایسا تصور رہا ہے جو ہالی ووڈ یا پینٹاگون سے آگے کی چیز ہے.وہ امریکہ جو آزادی، جاگتی آنکھوں کے خواب، اختلافِ رائے، اور قابلیت کو جگہ دیتا ہے۔
ہاں، اس میں تضادات بھی ہیں۔ امتیازات بھی، زخم بھی، زہر بھی۔
مگر پھر بھی، امریکہ میں ایک عجیب سی گنجائش باقی ہے.سچ بولنے کی، سر اٹھانے کی، اور اپنی پہچان کے ساتھ جینے کی۔ یہی وہ جذبہ ہے جس نے مجھے آج یہ بلاگ لکھنے پر مجبور کیا۔
کیا واقعی لوگ امریکہ سے محبت کرتے ہیں؟
ارے ہاں!
اگر دل پر ہاتھ رکھ کر پوچھیں، تو ہمارے گلی محلوں، یونیورسٹیوں، اور گاؤں کے نوجوانوں کا پہلا خواب کیا ہوتا ہے؟
— ویزا لگ جائے!
— فل برائٹ اسکالرشپ مل جائے!
— گرین کارڈ نصیب ہو جائے!
اور صرف نوجوان ہی نہیں، ان کے والدین بھی، چاہے کسی بھی مکتبہ فکر سے ہوں، امریکہ کے دیوانے ہیں۔ ہمارے اساتذہ، شاعر، صحافی، دینی اسکالرز، کمیونسٹ، سوشلسٹ، لبرل، انسانی حقوق کے علمبردار—سب ہی امریکہ جانا چاہتے ہیں اور امریکہ کو، چاہے تنقید میں ہی سہی، اپنی سوچ کا حصہ بنائے رکھتے ہیں۔
ہمارے کئی قدآور اکابرین عوام کو تو امریکہ کے خلاف سیاسی طور پر اشتعال دلاتے ہیں، مگر خود ان کے مراسم قائم ہیں—یا جن کے نہیں ہیں، ان کی آرزو ضرور ہے۔ یقین نہ آئے تو امسال 4 جون کو اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں 4 جولائی (یومِ آزادی امریکہ) کے حوالے سے ہونے والی تقریب کے حاضرین کی تصویریں دیکھ لیں۔
امریکہ، کئی ترقی پذیر ملکوں بشمول پاکستان کے لوگوں کے لیے، آج بھی طاقت، آزادی، مواقع، اور صلاحیت کی شناخت کا استعارہ ہے۔
اس کی ایک بہترین اور تازہ ترین مثال ہیں ظہران کوامے ممدانی۔
ایکٹیوسٹس امید کو ختم نہیں کرتے، اس لیے میں بھی دنیا کے دھوکوں کو برتنے اور سمجھنے کے باوجود انسانیت کی خوبصورتی اور وقار کے مکمل طور پر ختم ہونے کے امکان کو رد کرتی ہوں۔ سٹیٹس کو کو بدلنے اور سماجی انصاف کے خواب دیکھنے میں کیا حرج ہے؟
ظہران کوئی فلمی ہیرو نہیں، نہ ہی بظاہر کوئی پروپیگنڈا پروڈکٹ۔ وہ نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے ایک نوجوان رکن ہیں، جنہوں نے سیاست میں صرف قدم ہی نہیں رکھا، بلکہ وہ قدم اپنے تگڑے اصولوں کے ساتھ رکھا۔
وہ بھارتی نژاد یوگنڈن-امریکی دانشور پروفیسر محمود ممدانی اور معروف فلم ساز میرا نائر کے بیٹے ہیں۔
ظہران مسلم، سوشلسٹ، اور صاف گو ہیں۔ اور یہی تینوں شناختیں آج کل “خطرناک” سمجھی جاتی ہیں۔
لیکن یہ بلاگ ظہران کے لیے نہیں—بلکہ امریکہ کے لیے ہے۔ ظہران صرف ایک مثال ہے۔
ذرا سوچیے، یہ نوجوان کتنی غیر معمولی، بلکہ "خطرناک” باتیں کر رہا ہے—وہ باتیں جو صرف ظہران کہہ سکتا ہے (اور زندہ بھی رہ سکتا ہے!)، کیونکہ وہ امریکی ہیں اور امریکہ میں ہیں، جہاں شخصی آزادی کا کسی حد تک بھرم تو ہے۔
"مجھے نہیں لگتا ہمیں ارب پتی چاہیے”
“I don’t think we should have billionaires because, frankly, it is so much money in a moment of such inequality.”
(Zohran Mamdani, NBC)
ظہران کی یہ بات سیدھی دل پر جا لگتی ہے—کیونکہ اس وقت دنیا کی 1٪ آبادی کے پاس باقی 99٪ سے زیادہ وسائل ہیں۔
وہ ارب پتیوں کو نظام کا بگاڑ سمجھتے ہیں، اور سرمایہ داری کے پردے چاک کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"رہائش، علاج اور تعلیم یہ سہولیات انسان کا حق ہیں، کاروبار کا موقع نہیں!”
"اسرائیل کا دورہ؟ شکریہ، نہیں”
ظہران نے واضح اعلان کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کسی دورے میں شریک نہیں ہوں گے۔
انہوں نے فلسطینیوں کی حالتِ زار کو انسانی مسئلہ قرار دیا اور کہا:
“From New York to Palestine, occupation is a crime.”
یہ جملہ صرف نعرہ نہیں، بلکہ ایک اخلاقی مؤقف ہے—جو امریکہ میں کہنا بھی کبھی خطرناک مانا جاتا ہے۔
اور یہی امریکہ کی خوبی ہے کہ ظہران جیسے لوگ نہ صرف کہہ سکتے ہیں، بلکہ الیکشن جیت بھی سکتے ہیں!
"نریندر مودی کو ہم کیسے خوش آمدید کہیں؟”
ظہران نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بھی کھلے عام تنقید کا نشانہ بنایا:
“Narendra Modi helped orchestrate what was a mass slaughter of Muslims in Gujarat … we should view him like Netanyahu — a war criminal.”
(Washington Post, 2025)
یہ الفاظ، پسے ہوئے کرپٹ ممالک کے بیشتر سیاست دانوں کے لیے ناممکنات میں سے ہیں۔ وہ ایسا کہہ کر چین کی نیند نہیں سو سکتے۔ اور جو تھوڑا بہت واویلا امریکی جارحیت کے خلاف ہوتا ہے، تو امریکہ کا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ خود ہی انکشاف کر دیتا ہے کہ سب ہمارے ساتھ ہی ملے ہوئے ہیں۔
مگر امریکہ میں، ظہران اب بھی اسمبلی ممبر ہیں، اور ممکنہ میئرشپ کی دوڑ میں شامل بھی۔
کاش! فلسطینی نژاد ملکہ رانیہ فلسطینی بچوں کے لیے ظہران جیسے الفاظ استعمال کرنے کی سکت رکھتیں، اور اپنا قیمتی وقت بہتر سرگرمیوں کی نذر کرتیں۔
کاش! ملالہ، جو لڑکیوں کی تعلیم کی علمبردار ہیں، غزہ کے اسکولوں کی بربادی پر بھی ظہران کی طرح کھل کر بولتیں۔
کاش! آن سان سوچی سے امن کا نوبل انعام واپس لے لیا جاتا—کیونکہ ظلم کا دفاع، امن کی تذلیل ہے۔
اور کاش! ہر مظلوم قوم اور برادری کے پاس ایک ظہران ہوتا جو اپنے نام، نسل، اور مذہب کے ساتھ کھڑا ہو کر کہتا:
"ہم ظلم کے خلاف ہیں چاہے وہ کہیں بھی ہو!”
یزید تھا، حسین ہے
یزید تھا، حسین ہے…
مگر میرے ملک میں تو آج بھی حسینؑ کے ساتھ کھڑے ہونا ایک مسلکی مسئلہ بن جاتا ہے۔
یہاں ظالم کے خلاف آواز، پہلے مسلک کی عینک سے دیکھی جاتی ہے، پھر ضمیر کی۔
"منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک”
پھر بھی ہم بٹے ہوئے ہیں—سچ کہنے سے پہلے مسلک، برادری، سیاست، اور طاقت کا حساب لگاتے ہیں۔
اور شاید اسی لیے ہمیں آج بھی ظہران جیسے لوگ باہر سے یاد دلانے آتے ہیں:
کہ ظلم، ظلم ہوتا ہے
چاہے کسی کے ہاتھ ہو، اور کسی پر ہو۔