پاکستان کی سیاست ہمیشہ سے ایک ایسا تماشا رہی ہے جس میں چہرے بدلتے رہے، مگر کھیل وہی پرانا رہا۔ اقتدار کی کرسی کبھی عوام کی مرضی سے نہیں، بلکہ مقتدرہ کی رضا سے آباد ہوتی رہی ہے۔ آج بھی منظر مختلف نہیں، مگر ایک واضح تبدیلی محسوس کی جا سکتی ہے، پہلی بار عوام نے کسی ایک سیاسی سوچ، ایک جذبے اور ایک قیادت پر غیر معمولی اتفاق ظاہر کیا ہے، اور اس کا نام ہے عمران خان۔
جو نظام اس وقت اقتدار پر قابض ہے، اس کی بنیاد کسی آئینی یا عوامی مینڈیٹ پر نہیں بلکہ ایک جعلی فارم 47، ایک مصنوعی بندوبست اور طاقت کے زور پر رکھی گئی ہے۔ ایسا نظام جو بظاہر شاندار لگتا ہے مگر اندر سے کمزور اور عارضی ہے جیسے پھولوں کے ہار پر رکھا گیا ایک شیشے کا تاج، جو ذرا سی حرکت پر گر کر چکناچور ہو سکتا ہے۔
عمران خان نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عوام کو مایوسی، خوف اور لاتعلقی کی کیفیت سے نکال کر ایک شعور دیا، ایک امید دی، اور سب سے بڑھ کر غیرت کا وہ احساس دلایا جو "لا الہ الا اللہ” کی روح ہے، وہ کلمہ جو انسان کو غلامی کی ہر شکل سے آزاد کرتا ہے۔ یہی وہ نظریاتی روشنی ہے جس نے تحریک انصاف کو محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک عوامی بیداری کی علامت بنا دیا ہے۔
یہی وہ تبدیلی ہے جو روایتی طاقت کے مراکز کو سب سے زیادہ غیر محفوظ محسوس کرا رہی ہے۔ مقدمات کی قطار، سیاسی پابندیاں، میڈیا سنسرشپ، اور ہر طرح کی ریاستی مشینری کے استعمال کے باوجود عمران خان کا پیغام عوام کے دلوں میں گونج رہا ہے۔ ان مقدمات کی حیثیت آج ایک تماشے سے زیادہ نہیں، کیونکہ ان میں نہ شواہد کی طاقت ہے، نہ سچائی کی پختگی۔
ملک کے ہر شعبے میں بیچینی ہے کسان، تاجر، ڈاکٹر، مزدور، طالبعلم سب محرومی، مہنگائی اور بے بسی کا شکار ہیں۔ پرانی جماعتیں جن کا نام کبھی عوامی سیاست سے جوڑا جاتا تھا، اب قصہ پارینہ بن چکی ہیں۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے پاس اب نہ نظریہ باقی رہا ہے، نہ ہی ساکھ۔ سیاسی میدان میں اگر کوئی ایک شخصیت باقی ہے، تو وہ عمران خان ہے. مرکز کا مرکز، بیانیے کا محور، اور عوامی اعتماد کی واحد علامت۔
مقتدرہ کی طرف سے جو نظام ترتیب دیا گیا ہے، وہ اندر سے اتنا ہی کھوکھلا ہے جتنا باہر سے دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کے سفارتی حلقے بھی صرف مفادات کے تابع ہوتے ہیں، اور مفادات بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اسی لیے کوئی عالمی سہارے ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتے اور جب اندر سے حمایت ختم ہو جائے تو بیرونی سہارے بھی بیکار ہو جاتے ہیں۔
8 فروری کے انتخابات نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کا اصل مینڈیٹ کہاں ہے۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک قومی بیداری کا لمحہ تھا اور جب قوم جاگ جائے، تو پھر کوئی بھی نظام، چاہے وہ جتنا بھی جکڑ والا ہو، زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکتا۔
اس جعلی حکومت کا زوال اب محض وقت کی بات ہے۔ جب دھوکے کا یہ تاج گرے گا، تو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے چہرے ایسے غائب ہوں گے جیسے کبھی موجود ہی نہ تھے۔ نادان عناصر ابھی تک اقتدار کی عارضی روشنی میں خود کو دائمی سمجھ رہے ہیں۔
سیاست کا اصل محور اب صرف عمران خان ہے باقی سب غیر متعلق ہو چکے ہیں۔ ریاستی طاقت، سرکاری عہدے، جعلی مقدمے، یا خوف کی فضاء،کوئی بھی چیز عوام کے اندر پیدا ہونے والے اس سیاسی، فکری اور روحانی انقلاب کو روک نہیں سکتی۔ وقت کا فیصلہ بہت قریب ہے اور وہ فیصلہ عوام کا، تاریخ کا اور سچائی کا ہو گا۔