“بلاسفیمی بزنس گینگ”، این جی اوز کی فنڈنگ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا کردار

ایک فوجداری وکیل کا مشاہدہ، تجزیہ اور چند تلخ سوالات

اسلام آباد ہائی کورٹ میں مختلف آئینی درخواستیں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کی عدالت میں زیرِ سماعت ہیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ توہینِ رسالت کے قوانین کا بعض افراد یا گروہ غلط استعمال کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی بے گناہ لوگ پابندِ سلاسل ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایک مبینہ “بلاسفیمی بزنس گروپ” ہنی ٹریپنگ کے ذریعے لوگوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر رقم بٹور رہا ہے۔

درخواست گزاروں نے اپنے الزامات کے ساتھ ویڈیوز اور بعض دستاویزی شواہد بھی عدالت میں پیش کیے ہیں، جن میں راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ اور دیگر مدعیان کی جانب سے نوجوانوں کو پھنسانے کی کوششیں دکھائی گئی ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایک غیر جانب دار اور خودمختار کمیشن تشکیل دیا جائے، جو ان مقدمات کی تفتیش اور اندراج کے طریقہ کار کا جائزہ لے۔

ان درخواستوں میں ایمان مزاری ایڈووکیٹ اور ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ نمایاں قانونی نمائندے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

دوسری طرف “لیگل کمیشن آن بلاسفیمی” ان مقدمات کی پیروی کر رہا ہے، جس کی قیادت راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ کے پاس ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ تمام درخواستیں پاکستان کے اسلامی تشخص کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق بعض غیر ملکی فنڈڈ این جی اوز اور لابیز ان قوانین کو متنازع بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ صرف اسلامی اقدار کے دفاع اور قانون کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

یہ تمام عدالتی کارروائیاں یوٹیوب پر براہِ راست نشر کی جا رہی ہیں، جنہیں دیکھ کر عوام میں فریقین، خصوصاً مدعیان (لیگل کمیشن آن بلاسفیمی) سے متعلق شدید تحفظات جنم لے رہے ہیں۔ کچھ خدشات فوجداری نظامِ انصاف سے ناآشنائی کا نتیجہ ہیں، جبکہ بعض حقیقی اور توجہ طلب ہیں۔

میں گزشتہ دس سال سے اسلام آباد میں فوجداری وکالت سے وابستہ ہوں۔ ان برسوں میں قتل، ریپ اور دہشت گردی جیسے حساس اور پیچیدہ مقدمات کی پیروی کر چکا ہوں۔ توہینِ رسالت کے مقدمات ان میں سب سے زیادہ جذباتی، قانونی اور سماجی طور پر نازک ہوتے ہیں۔

دو سال قبل مجھے راؤ عبدالرحیم ایڈووکیٹ سے ملاقات کا موقع ملا۔ ان سے بلاسفیمی کیسز سے متعلق جو کچھ جانا، وہ ان کے انٹرویوز میں بھی آ چکا ہے، لہٰذا اسے دہرانا ضروری نہیں سمجھتا۔ میں نے فریقین کو بغور سنا، کچھ مبینہ کیسز کی فائلیں پڑھیں، اور جسٹس اعجاز اسحاق خان کی کھلی عدالت میں سماعت کا مشاہدہ کیا۔ اسی تناظر میں اپنی قانونی رائے پیش کر رہا ہوں، جو کسی نظریاتی یا جذباتی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک پیشہ ور وکیل کے طور پر میرے مشاہدات، عدالتی کارروائی، فریقین کے بیانات اور بعض مقدمات کی فائلوں کے مطالعے پر مبنی ہے۔

1: کیا واقعی “بلاسفیمی بزنس گروپ” نے ہنی ٹریپنگ کے ذریعے جھوٹے کیسز بنا کر پیسے بٹورے؟

میری رائے میں ایسا بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔ راؤ عبدالرحیم اور ان کے ہمراہ بیشتر وکلا اپنے حلقوں میں باعزت سمجھے جاتے ہیں، چاہے وہ پیشہ ورانہ ہو یا ذاتی زندگی۔ یہ تصور کہ یہ سب مل کر ایک منظم گروہ بنا کر جھوٹے کیسز بنائیں گے، عملی طور پر قرینِ قیاس نہیں لگتا۔

البتہ، بعض پہلوؤں پر لگنے والے الزامات کو نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ان الزامات سے قطع نظر، اگر کوئی نالائقی، غفلت یا قانونی سقم واقع ہوا ہے تو اسے بھتہ خوری سے تعبیر کرنا درست نہ ہو گا۔ آج تک کسی متاثرہ فریق نے یہ الزام نہیں لگایا کہ اس سے پیسے لے کر کیس واپس لیا گیا۔ اگر مالی فائدہ مقصود نہیں تھا، تو اجتماعی طور پر جھوٹے کیسز بنانے کی کوئی ٹھوس وجہ بھی نظر نہیں آتی۔

ہمارا فوجداری نظام اتنا زوال پذیر ہو چکا ہے کہ کسی بھی ملزم کے خلاف قانونی کارروائی خود ایک دشوار مرحلہ بن چکا ہے۔ ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر تفتیش اور گرفتاری تک ہر مرحلے پر پیسے اور اثرورسوخ کا عمل دخل ہے۔ ایسے میں اگر بلاسفیمی کے مقدمات میں ٹریپنگ کا کوئی پہلو ہے تو وہ ہمارے نظام کی عملی مجبوری کا اظہار بھی ہو سکتا ہے۔

تاہم یہ سوالات بہرحال اہم ہیں:

• کیا خفیہ جرائم کی نشان دہی اسی طریقے سے کرنا ضروری تھی؟
• کیا ان جرائم کو بے نقاب کرنے کا کوئی قانونی، محفوظ اور کم نقصان دہ طریقہ ممکن نہ تھا؟
• جب کیسز خود وکلا کی نگرانی میں تیار ہوئے تو ان میں سنگین قانونی غلطیاں کیوں ہوئیں؟

مثلاً:
• ایک کیس میں راؤ صاحب کی گاڑی کسی ملزم کو بغیر کسی مجاز اہلکار کے گرفتار کرتی دکھائی گئی۔
• ایک ہی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو دو مختلف افراد نے اپنا کہہ کر مدعی بننے کی کوشش کی۔
• راؤ صاحب کا نمبر کسی گروپ کا ایڈمن ظاہر کیا گیا۔

ایسے سقم وکلا کی زیرِ نگرانی تیاری میں غیر معمولی غفلت یا کرمینل نیگلیجنس کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح، ایف آئی اے کی تفتیش میں بھی شدید کمزوریاں پائی گئی ہیں: اگر کوئی سم برآمد ہوئی تو اس کی ملکیت کی قانونی حیثیت واضح کیوں نہ کی گئی؟ اگر موبائل ملا تو اس کا مالکانہ ریکارڈ کہاں ہے؟

2: کیا غیر ملکی فنڈڈ این جی اوز اور لابیز ملزمان سے بلاسفیمی کروانے میں ملوث ہیں؟

مدعیان کا بیانیہ ہے کہ یہ سب کچھ پاکستان کے اسلامی تشخص کے خلاف ایک بین الاقوامی سازش ہے، جسے این جی اوز اور فنڈنگ لابیز چلا رہی ہیں۔ لیکن سینکڑوں کیسز میں سے کیا کوئی ایک بھی ایسا ہے جہاں اس الزام کو عدالت میں عملی طور پر ثابت کیا گیا ہو؟ اگر یہ لوگ ان کیسز کی پیروی اتنی شدت سے کر رہے تھے تو ان کی اولین ذمہ داری تھی کہ کم از کم کسی ایک کیس میں ہی مکمل شواہد کے ساتھ الزام کی زنجیر مکمل کرتے۔ اب تک ایسا کوئی ثبوت عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔

3: کیا ملزمان واقعی توہینِ رسالت میں ملوث تھے؟

اس سوال کا حتمی جواب تو عدالت ہی دے سکتی ہے۔ لیکن مقدمات میں جو سنگین قانونی کوتاہیاں، ثبوتوں میں تضاد، اور تفتیشی نقائص دیکھے جا رہے ہیں، ان کی موجودگی میں کسی بھی ملزم کو سزا یافتہ سمجھنا قبل از وقت اور غیر منصفانہ ہوگا۔

جج پر اعتراض کیوں؟

کچھ لوگ جسٹس اعجاز اسحاق خان پر تنقید کر رہے ہیں کہ وہ ان کیسز کی سماعت کیوں کر رہے ہیں۔ میرے نزدیک یہ تنقید نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ فہم و فراست سے بھی عاری ہے۔ جب مقدمات میں اتنے شدید قانونی سقم موجود ہوں تو ایک غیر جانبدار جج کے لیے ان پر کارروائی کرنا نہ صرف ان کا اختیار ہے بلکہ فرض بھی۔

نتیجہ: قانون کا وقار یا استحصال؟

توہینِ رسالت کے قوانین کا تحفظ ہماری مذہبی اور آئینی شناخت کا بنیادی جزو ہے۔ لیکن اگر عدالت واقعی ایک آزاد کمیشن تشکیل دیتی ہے، تو یہ ان تمام مقدمات پر براہِ راست اثر ڈالے گا جو کمزور بنیادوں پر قائم کیے گئے۔ اس کے بعد بلاسفیمی کے کسی بھی سنجیدہ مقدمے کو رجسٹر کروانا اور آگے بڑھانا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ اس نقصان کا ذمہ دار کون ہو گا؟

کیا سارا ملبہ این جی اوز اور لابیز پر ڈال کر جان چھڑائی جا سکتی ہے؟

یا پھر وہ تمام عوامل، جنہوں نے ان کیسز کی تیاری میں غفلت، غیر ذمہ داری اور شاید بدنیتی کا مظاہرہ کیا، انہیں بھی جوابدہ ہونا چاہیے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے