ایسا پاکستان دو صورتوں میں

پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے ایک نازک، مگر فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام، معاشی زوال، اداروں میں عدم توازن، اور عوامی اعتماد کا بحران ملکی بقاء کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ کیا ’’ایسا پاکستان‘‘ بن سکے گا جس کی بنیاد جمہوریت، انصاف، خودمختاری، اور عوامی رائے کے احترام پر ہو؟ اس سوال کا جواب صرف دو ممکنہ راستوں میں پوشیدہ ہے ۔ایک آئینی و جمہوری، دوسرا غیر آئینی و مزاحمت شکن۔

پہلی صورت: آئینی اداروں کی خودمختاری اور جمہوری تسلسل

پاکستان میں ’’ایسا پاکستان‘‘ اسی وقت ممکن ہے جب آئین کو بالادستی حاصل ہو، ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں، اور عوامی مینڈیٹ کو اصل وقعت دی جائے۔ اس ماڈل میں دو ستون مرکزی حیثیت رکھتے ہیں:

1. عدلیہ کی مکمل آزادی:

آزاد عدلیہ کسی بھی جمہوری معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے عدلیہ ہمیشہ طاقتور حلقوں کے زیر اثر رہی ہے، جس کی وجہ سے سیاسی فیصلے عدالتوں سے کروائے گئے، اور انصاف کا معیار ہمیشہ متنازع رہا۔ اگر ملک کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہے تو عدلیہ کو مکمل طور پر انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ سے آزاد کرنا ہوگا۔ ججز کے تقرر، تبادلوں اور ریٹائرمنٹ کے نظام کو شفاف بنانا ہوگا، اور عدالتی فیصلے صرف اور صرف قانون اور آئین کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔

2. الیکشن کمیشن کی خودمختاری:

جمہوریت کی بقاء کا انحصار شفاف اور آزادانہ انتخابات پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں انتخابات ہمیشہ تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ کبھی دھاندلی، کبھی مداخلت، اور کبھی انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے کے الزامات نے ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن واقعی غیر جانبدار اور خودمختار ہو، تو عوامی رائے کی عزت ہوگی اور جو جماعت مقبول ہو، وہ اقتدار میں آئے گی۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔

دوسری صورت: مزاحمتی سیاست کا خاتمہ

یہ وہ راستہ ہے جس پر بظاہر ملک کی مقتدر قوتیں پچھلے دو سال سے عمل پیرا ہیں۔ اس ماڈل کے تحت، جو جماعتیں یا سیاسی رہنما اسٹیبلشمنٹ کے بیانیے یا پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہیں، انہیں ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کمزور کر کے سیاست سے باہر نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پی ٹی آئی کی مثال:

پاکستان تحریک انصاف کو اس وقت ایسی ہی مزاحمت پسند جماعت سمجھا جا رہا ہے، جو اپنے بیانیے، مقبولیت، اور عوامی تحریک کی طاقت کی بنیاد پر ایک ادارہ مخالف بیانیہ رکھتی ہے۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد ریاستی کریک ڈاؤن، سینئر قیادت کی گرفتاریاں، میڈیا بلیک آؤٹ، اور پارٹی پر پابندیوں کے امکانات اسی منصوبے کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔ اس عمل کا مقصد یہ ہے کہ ایک ایسی سیاسی جماعت جو "نوٹس نہیں مانتے”، "سلیکٹ ہونے کو تیار نہیں”، اور "سوال اٹھاتے ہیں”، انہیں بتدریج مٹا دیا جائے۔

مگر سوال یہ ہے: کیا یہ ممکن ہے؟

ریاستی طاقت وقتی طور پر دباؤ ڈال سکتی ہے، مگر نظریاتی جماعتوں کو ختم کرنا تاریخ میں شاید ہی کبھی ممکن ہوا ہو۔ جب کوئی جماعت صرف شخصیات پر نہیں بلکہ عوامی جذبات اور نظریات پر کھڑی ہو، تو اسے دبانا آسان نہیں ہوتا۔ موجودہ حکمت عملی سے نہ صرف پی ٹی آئی کا بیانیہ مزید مضبوط ہوا ہے بلکہ عوام میں اداروں پر اعتماد بھی متزلزل ہو چکا ہے۔

دونوں ماڈلز کا موازنہ

پہلو آئینی خودمختاری ماڈل مزاحمت شکن ماڈل

جمہوریت مضبوط کمزور
اداروں کا توازن قائم بگڑا ہوا
عوامی رائے مقدم نظر انداز
سیاسی استحکام ممکن ناممکن
عالمی ساکھ بہتر خراب

نتیجہ: قوم کے سامنے فیصلہ

اب وقت ہے کہ پاکستان کی ریاست، ادارے، اور اشرافیہ یہ فیصلہ کریں کہ ملک کو کون سا راستہ درکار ہے۔ ایک وہ راستہ جو قانون، انصاف، اور عوامی رائے پر استوار ہے، یا وہ جس میں صرف طاقت اور مداخلت کے بل بوتے پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔

پہلا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر پائیدار ہے۔ دوسرا بظاہر آسان ہے، مگر ملک کو مزید گہرے بحرانوں کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اختتامی نوٹ:

پاکستان کو اگر واقعی ایک ایسا ملک بنانا ہے جو دنیا میں باوقار مقام حاصل کرے، تو ہمیں اداروں کی اصلاح، سیاسی برداشت، اور آئینی بالا دستی کو یقینی بنانا ہوگا۔ مزاحمت کو دبانے سے نہیں بلکہ اختلاف کو سننے سے ہی جمہوریت پروان چڑھتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے