کیا ہمارے حکمرانوں میں احساسِ جرم مر چکا ہے؟

پاکستان آج ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں صرف معیشت ہی نہیں، ضمیر بھی دیوالیہ ہو چکے ہیں۔ حکمرانی کا حق کبھی عوام کے ووٹ سے نہیں ملا اکثر کسی نہ کسی سازش، مداخلت یا "سیاسی انجینئرنگ” کے ذریعے اقتدار مسلط کیا گیا اور اب یہ حکومتی ٹولہ صرف اقتدار کے نشے میں خود کو ناقابلِ احتساب سمجھنے لگا ہے۔ اُنہیں نہ اپنے فیصلوں کا احساس ہے، نہ اُن کے نتائج کا۔ لگتا ہے جیسے ان کے اندر احساسِ جرم ہی دفن ہو چکا ہے۔

جب کوئی طاقتور طبقہ جان بوجھ کر ایسے فیصلے کرے جو صرف چند سالوں کا وقتی فائدہ دیں، لیکن اُن فیصلوں کی قیمت ہماری آنے والی نسلوں کو دہائیوں تک چکانی پڑے، تو یہ صرف نااہلی نہیں بلکہ مجرمانہ سنگدلی ہے۔ انصاف کے نظام کو ایگزیکٹو کے تابع کر کے، پارلیمان کو ایک ربڑ اسٹیمپ میں بدل کر، آئین و قانون کو جوتے کی نوک پر رکھ کر اگر حکومتیں بچتی ہیں تو یہ جیت نہیں، ایک شرمناک شکست ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ عدلیہ کو جب ماتحت بنایا جائے، جب فیصلے "کہیں اور” لکھے جائیں، جب ججوں کی عزت، ان کا وقار، ان کا قلم ایک بند کمرے کے اشارے پر جھک جائے، تو عدل دفن ہو جاتا ہے۔ یہی عدل کل کو انہی حکمرانوں کے خلاف درکار ہوگا، لیکن وہ ملے گا نہیں۔

میڈیا پر جب سچ بولنے پر قدغن لگے، تو کل جب یہی حکمران مشکل میں ہوں گے تو یہی میڈیا ان کی سچائی بھی چھپا لے گا۔ اگر آج میڈیا عوام کی چیخ و پکار سننے سے قاصر ہے تو کل یہ خود اپنی فریاد بھی نہ سنا پائے گا۔

وہی پولیس جو آج نوجوانوں پر، عورتوں پر، معصوم طلبہ پر وحشیوں کی طرح ٹوٹ پڑتی ہے، کل انہی ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے دروازوں پر بھی اسی طرح بے رحمی سے گرجے گی اور تب چیخیں ایوانوں تک پہنچتی ہیں۔

کیا کسی نے سوچا کہ ہم کس پاکستان کی بنیاد رکھ رہے ہیں؟ جو نوجوان کل کا خواب تھا، آج کا سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے حکمرانوں کے لیے۔ جو نسل کتابیں پڑھتی تھی، آج جیلیں کاٹ رہی ہے۔ جو مائیں دعائیں مانگتی تھیں، آج اپنے بچوں کے لیے ضمانت کی درخواستیں لیے عدالتوں کے دھکے کھا رہی ہیں۔

اس سب کے درمیان ایک شخص کھڑا ہوا ہے اور وہ ہے عمران خان!
ایک ایسا قومی ہیرو، جس نے اِسی فرسودہ نظام، مافیاز اور سوداگر نما سیاستدانوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔
لیکن افسوس! ہم نے اس کے دو سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے ضائع کر دیئے۔ دو سال جو اس ملک کی تعمیر نو کے لیے فیصلہ کن ہو سکتے تھے، وہ ہم نے ذاتی انتقام کی بھینٹ چڑھا دیئے۔

اب سوال یہ ہے کہ عمران خان کے اور کتنے سال ہم ضائع کرینگے؟
کیا یہ ملک مزید اتنا وقت، اتنی برداشت، اتنی بے حِسی افورڈ کر سکتا ہے؟
کیا پاکستان واقعی ایسے چل سکتا ہے جہاں ایک ہیرا جیل میں ہو اور نقلی زیور تاج پہنے حکمرانی کرتے رہیں؟

پاکستان کی سیاست میں رات سونے کے بعد کوئی یقین نہیں ہوتا کہ صبح حکومت وہی ہوگی یا نہیں۔ یہی بے یقینی ہمیں کھا گئی ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش نہ کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وہ کہیں گی کہ ہمارے بزرگوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے سچ کا گلا گھونٹا، انصاف کو بیچا، اور ایک ایسا نظام چھوڑ گئے جو نہ زندہ رہنے دیتا ہے نہ مرنے دیتا ہے۔

وقت کم ہے، مگر مکمل ختم نہیں ہوا۔ بس شرط یہ ہے کہ احساسِ جرم کو جگایا جائے۔ دل کی آواز سنی جائے، اور قوم کو وہی لوٹایا جائے جو اس کا حق ہے یعنی سچ، انصاف، آئین اور عمران خان!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے