یکم جولائی 2025 کو اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنی ہمشیرگان سے گفتگو نے پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال پر ایک ایسا آئینہ رکھ دیا ہے جو ریاستی نظام کی مکمل تصویر عوام کے سامنے پیش کرتا ہے۔ یہ محض ایک قیدی کی آواز نہیں، بلکہ ایک مزاحمتی رہنما کی وہ للکار ہے جو ظلم کے سائے میں بھی عدل کی صبح کی نوید دے رہی ہے۔
عمران خان کا یہ موقف نہایت واضح، اصولی اور نظریاتی ہے کہ "غلامی پر قید کو ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ رہائی اُس وقت بامعنی ہوتی ہے جب انسان آزاد ہو۔”
پاکستان کی بنیاد “لا الہ الا اللہ” پر رکھی گئی تھی، جو محض مذہبی اعلان نہیں بلکہ سیاسی آزادی اور انسانی مساوات کا ایک انقلابی منشور ہے۔ یہی کلمہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ کوئی انسان، کسی دوسرے انسان کا غلام نہیں بن سکتا۔ مگر آج، عمران خان کے بقول، ایک منظم مافیا نے قوم کو دوبارہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے، ایک ایسی غلامی جو ووٹ کے تقدس، قانون کی بالادستی، اخلاقیات اور میڈیا کی آزادی کو نگل چکی ہے۔
سابق وزیراعظم نے چھبیسویں آئینی ترمیم کو پاکستان کے جمہوری ڈھانچے پر “آئینی شب خون” قرار دیا، جس کے بعد ستائیسویں ترمیم کی تیاری گویا آئین کو مکمل دفن کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے طنزاً کہا کہ اگر ایسی ترامیم کے ذریعے بادشاہت نافذ کرنی ہے تو پھر اس کا کھل کر اعلان کر دیا جائے کیونکہ جو کچھ اس وقت ہو رہا ہے وہ "آئین” نہیں بلکہ آمرانہ سوچ کی حکمرانی ہے۔
عمران خان نے چار بنیادی جمہوری ستونوں کی نشاندہی کی جنہیں ریاستی جبر نے منہدم کر دیا ہے:
1: ووٹ کا حق ایک تماشا بنا دیا گیا ہے عوام کے ووٹ کی تذلیل اُس وقت ہوئی جب فارم 47 کے ذریعے ایسی اسمبلیاں تشکیل دی گئیں جن میں منتخب نمائندوں کی جگہ من پسند چہرے بٹھائے گئے۔ اب مخصوص نشستوں کی بندر بانٹ نے واضح کر دیا ہے کہ عوامی رائے کی کوئی قدر باقی نہیں رہی عمران خان نے سوال اٹھایا کہ جب حکومتیں ووٹ سے نہیں بلکہ طاقت سے بنتی ہوں تو پھر یہ کون سی جمہوریت ہے؟
2: عدلیہ جو کسی بھی جمہوری نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، اسے صرف "نوٹیفکیشن جاری کرنے والا شعبہ” بنا دیا گیا ہے۔ بااختیار ججز کو خاموش کر دیا گیا ہے، اور کمزور یا فرمانبردار ججز کو آگے لایا جا رہا ہے۔ انصاف اب "درخواست” نہیں بلکہ "مراعات” کے تابع ہو چکا ہے۔
3: جب اسمبلیوں میں وہ لوگ داخل ہوں جو نہ عوام کے ووٹ سے آئے ہوں، نہ عوام کی نمائندگی کا دعویٰ رکھتے ہوں، اور نہ ہی ضمیر کی آواز پر کھڑے ہو سکیں، تو وہ معاشرہ اخلاقی طور پر بانجھ ہو جاتا ہے یہ صرف قانونی بحران نہیں، اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
4: آزاد میڈیا کا خاتمہ ہو چکا ہے اور یہ زبان بندی کا دور ہے، اظہارِ رائے کی آزادی جو جمہوریت کا شہہ رگ ہوتی ہے، اسے آج قید میں ڈال دیا گیا ہے۔ صحافی یا تو خاموش کرا دیے گئے ہیں، یا زیر اثر کر دیئے گئے ہیں۔ سچ بولنے والا صحافی یا تو جیل میں ہے یا بےروزگار۔ باقی وہی دکھا رہے ہیں جو دکھانے کا حکم ہے۔
جب پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے 26 اراکین نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی تو انہیں معطل کر دیا گیا یہ جمہوریت نہیں، فرعونیت ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ایسے وقت میں احمد بھچر جیسے بہادر ارکان قابلِ تحسین ہیں، اور باقی ارکان کو بھی چاہیے کہ وہ اسمبلی کے باہر ہی سہی، عوام کی نمائندگی جاری رکھیں۔
عمران خان نے عاشوراء کے بعد ظلم کے نظام کے خلاف ملک گیر عوامی تحریک کا اعلان کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ جب ایک قوم خوف کے باعث خاموش ہو جائے، تو اس کی روح مر جاتی ہے۔ وہ جیل میں رہنے کو ترجیح دیں گے لیکن اس نظام کو تسلیم نہیں کریں گے۔
عمران خان نے مزید کہا کہ ان کی آواز ہر ممکن طریقے سے دبائی جا رہی ہے، لیکن وہ یقین رکھتے ہیں کہ رب کے انصاف سے ظلم کا خاتمہ ضرور ہو گا۔ ان کی یہ للکار نہ صرف ان کے کارکنوں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ یا آزادی، یا قید، لیکن غلامی نہیں۔
یہ کالم کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کی مدح سرائی نہیں بلکہ اُن اصولوں کی بازگشت ہے جن پر پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ آج، ان اصولوں کی بازیابی کی جدوجہد صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔