ایم ایم عالم: وہ پاکستانی بہاری پائلٹ جو 30 سیکنڈ میں آسمان جیت گیا

میں نے آج کی یہ کسی حد تک جذباتی، مگر پھر بھی معلوماتی بلاگ خاص طور پر پاکستان کی نئی نسل کے لیے لکھا ہے اور آئی ایس پی آر کی توجہ مبذول کروانے کے لیے۔

آپ میں سے بہت سے لوگ شاید عنوان پر بھی اعتراض کریں، مگر جو میری اس بے نام اور ناکام جدوجہد سے واقف ہیں جو دھتکارے ہوئے بہاری پاکستانیوں کے حوالے سے ہے، وہ شاید میرا دکھ اور الجھن سمجھ سکیں اور اسے تعصب نہیں بلکہ تعلق کا درد جان کر تسلیم کر لیں یا برداشت کر لیں۔

(ایم ایم عالم 6 جولائی 1935 کو کلکتہ، ہندوستان میں پیدا ہوئے، اور 18 مارچ 2013 کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ اُس وقت ان کی عمر 77 برس تھی۔)

اس ناتواں تحریر کا مقصد:

بہت سی معلومات آپ کو انٹرنیٹ پر حاصل ہیں لیکن کچھ احساسات اور کچھ معلومات آپ کو گوگل نہیں دے سکتا — اس ناتواں تحریر کا مقصد ایم ایم عالم کی، ایک اصول پسند نوجوان ہیرو کی کہانی کو سامنے لانا ہے تاکہ نوجوانوں کو سچائی، قربانی اور اصول پسندی کے حقیقی مفہوم سے روشناس کرایا جا سکے۔

ایک غلط فہمی: "وہ بنگالی تھے”

انٹرنیٹ پر موجود بیشتر مواد یا سوشل میڈیا پر تبصروں میں ایم ایم عالم کو اکثر “بنگالی” لکھا جاتا ہے۔
یہ غلط ہے۔
وہ متحدہ ہندوستان کے صوبہ بہار سے تعلق رکھتے تھے۔ کلکتہ میں پیدا ہوئے، قیامِ پاکستان کے بعد مشرقی پاکستان ہجرت کی، اور وہیں کے کوٹے سے پی اے ایف سرگودھا میں کمیشن حاصل کیا۔

30 سیکنڈ کا کارنامہ

نوجوانو، آپ پانچ سیکنڈ کے ریلز دیکھتے ہیں، آج آپ 30 سیکنڈ کا کارنامہ مجھ سے جان لیں .

7 ستمبر 1965 کی صبح، لاہور کے آسمان پر ایک پاکستانی ایف-86 سیبر پائلٹ نے صرف 30 سیکنڈ میں چار بھارتی ہنٹر فائٹر طیارے مار گرائے۔ ایک منٹ کے اندر پانچ دشمن طیارے زمین بوس کر دیے۔
یہ کسی ویڈیو گیم، ہالی ووڈ فلم یا بالی ووڈ کی بات نہیں، یہ حقیقت ہے۔

یہ جادوئی پائلٹ تھے ایئر کموڈور محمد محمود عالم (ایم ایم عالم)، جنھیں دوستوں کے حلقے میں "لٹل ڈریگن” بھی کہا جاتا تھا۔

عالم نے ایئر فورس میں سروس کے دوران چند نان پروفیشنل رویوں اور روایت پر لب کشائی کی تھی اور اس کی انھیں سزا بھی ملی۔
مگر نوجوانو، آپ کو یہ سب کیوں نہیں بتایا گیا؟
عالم صرف ایک ہیرو جنگجو پائلٹ نہیں تھے بلکہ وہ تلخ ترین اور قبیح ترین سچ بولنے والے انسان تھے — اور سچ کی سزا ہمیشہ زہر کا پیالہ ہی رہی ہے۔

انہوں نے نہ صرف دشمنوں کے جہاز گرائے، بلکہ کرپشن کو پہچانا بھی، اور اسے للکارا بھی۔ اور یہی بات انہیں ناقابلِ قبول بنا گئی۔

حقائق جو آپ کو کبھی نہیں بتائے گئے
انہوں نے ضیاء الحق کے سامنے کرپشن کی بات کی۔
انہیں چپ کرانے کی کوشش کی گئی۔
انہیں قبل از وقت ریٹائر کر دیا گیا۔
انہوں نے پنشن لینے سے انکار کر دیا۔

بار بار لکھ رہی ہوں کہ ایم ایم عالم کی پرواز محض ایف-86 تک محدود نہ تھی۔
وہ ضمیر کا پائلٹ تھا۔ ان کا اصل ہتھیار ایمانداری تھی۔
وہ کوئی میم یا ٹرینڈنگ ہیش ٹیگ نہیں، ایک اصل ہیرو تھے .
جس سے عام آدمی قربت محسوس کرتا ہے۔
بہت کھرا — جیسے آپ ہیں، ابھی معصوم .
غلط کو غلط کہنے اور سمجھنے والے۔

عالم اور جنرل ضیاء الحق کے درمیان اختلاف – ایک نظر

وہ ایک ایسے سچے افسر تھے جو اختلافِ رائے کو اپنی پیشہ ورانہ دیانت کا حصہ سمجھتے تھے۔
The Nation میں 6 ستمبر 2013 کو شائع مضمون کے مطابق، جب ایم ایم عالم نے ایئر فورس کی پالیسیوں اور جنگی طیاروں (خصوصاً ایف‑16) کی خریداری پر تکنیکی اعتراضات اٹھائے، تو یہ معاملہ بالا سطح تک جا پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں فیصلے صرف وقتی حکمتِ عملی نہیں بلکہ طویل المدتی قومی سلامتی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کرنے چاہییں۔
اس پر، صدر جنرل ضیاء الحق نے نہ صرف ناگواری کا اظہار کیا بلکہ ان کی نیت اور باتوں کو چیلنج کیا۔
مضمون کے مطابق، جنرل ضیاء نے ان کی فائل میز پر پھینکتے ہوئے کہا:
"یہ سب کچھ تمہاری سوچ سے بالاتر ہے۔”

نتیجتاً، ایم ایم عالم کو 1982 میں قبل از وقت ریٹائر کر دیا گیا۔
انہوں نے پنشن لینے سے انکار کر دیا اور گوشہ نشینی اختیار کر لی۔

ایک اور حوالہ

A Hero for Ever (ڈیفنس جرنل، 10 اپریل 2013) کے مطابق، عالم نے ایئر چیف مارشل انور شمیم کی قیادت میں پاک فضائیہ کے اندر موجود اخلاقی مسائل، بشمول کرپشن، کو براہِ راست کمانڈر اِن چیف سے اٹھایا۔

اس کی قیمت انہیں ریٹائرمنٹ کی صورت میں چکانی پڑی۔

پھر کیا ہوا؟

عالم نے 1982ء میں اپنی اصول پسندی کی قیمت ادا کر دی، مگر 2002ء میں ایک نیا باب رقم ہوا۔

روزنامہ The Nation کے مضمون “Knowing M.M. Alam” (6 ستمبر 2013) کے مطابق:

“An exclusive two‑bedroom guesthouse was inaugurated by the living legend Air Cdre M.M. Alam on January 22, 2002.”

یہ گیسٹ ہاؤس کراچی کے اے ٹی ڈبلیو میس میں بنایا گیا تھا۔
ایئر چیف مارشل عباس خٹک نے یہ اقدام کیا تاکہ ایم ایم عالم کو عزت اور سہولت دی جائے۔

ایکسپریس ٹریبیون میں ایئر مارشل (ر) ریاض الدین شیخ نے لکھا:

“During [his] retirement … he was accommodated at the TW PAF Officers Mess in Chaklala … he subsequently moved to the PAF Officers Mess Faisal where he spent his last few days.”

یہ ثابت کرتا ہے کہ فضائیہ نے بالآخر ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا اور انہیں باعزت ماحول فراہم کیا۔
یہ لمحہ نہ صرف عالم کی عزتِ نفس کی بحالی تھا بلکہ عسکری قیادت کی بالغ نظری کا مظہر بھی۔ یہ بعد از مایوس کن خاموشی ایک سنہری لمحہ تھا — ادارہ جاتی عزت کی واپسی۔

ماضی سے حال کی جانب
میں آپ نوجوانوں کے لیے فکر مند ہوں .
خاص طور پر ان کے لیے جو اسی وطن میں ہیں اور ملک نہیں چھوڑ سکتے۔
شاید ان کے پاس فیلوشپ نہیں ہے، شاید ان کے ذاتی حالات انھیں ایسا نہ کرنے دیں،
شاید ان کے پاس اسپانسرشپ نہیں ہے، یا
شاید وہ بھی میری نسل کے کئی لوگوں کی طرح دنیا کے بہترین اداروں سے تعلیم اور ہنر سیکھ کر بھی اپنے دیس میں ہی رہنا اور بسنا چاہتے ہیں۔ اور ایمانداری سے جینا چاہتے ہیں۔
مگر یاد رکھیں — ایسا کرنے کے لیے آپ کو اس ملک سے غیر مشروط اور حقیقی محبت کرنی ہوگی۔
راستہ کٹھن ہے۔
یہاں پورا سچ پسند نہیں کیا جاتا، اور یہاں سچ بولنے والے تنہا ہو جاتے ہیں یا بیوقوف گردانے جاتے ہیں۔

کیا آپ اصولوں کو مراعات پر ترجیح دے سکتے ہیں؟
کیا آپ نام نہیں، کام سے پہچانے جانا چاہتے ہیں؟
اگر ہاں… تو آپ میں ایم ایم عالم زندہ ہے۔

نوجوانوں سے اپیل:

اس پوسٹ کو شیئر کریں
ایم ایم عالم کا نام ٹرینڈ کریں تاکہ اس قوم کو وہ آئینہ دیکھنے کو ملے جو ہم نے خود توڑ دیا۔

آئی ایس پی آر سے چند عاجزانہ گزارشات:

6 جولائی (یومِ پیدائش) کو "یومِ ایم ایم عالم” قرار دیا جائے۔
آئی ایس پی آر ان کے بارے میں پھیلائے گئے زہر آلود مواد کے ازالے کے لیے اقدامات کرے۔
اگر وہ افغان جہاد کے حامی تھے تو یہ ان کی مکمل شناخت نہیں۔ ہمیں ان کی پوری زندگی کا تناظر سمجھنا چاہیے۔

اسٹریٹ تھیٹر اور یوتھ مراکز گاؤں کی سطح تک لائے جائیں۔
زمین سے جڑے ہوئے، اچھے ریکارڈ والے لوگوں اور سول سوسائٹی کے گروپس کو مرکزی دھارے میں شامل کریں۔
پبلک تعلیمی اداروں میں سیاست کے بجائے پبلک پالیسی اور پیٹریاٹک تھنک ٹینکس کو فروغ دیا جائے۔
فکری طور پر خودمختار، متوازن آوازوں کو پلیٹ فارم دیا جائے۔
آئی ایس پی آر کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے لیے ڈرامہ سیریز، اینیمیٹڈ فلم، یا دستاویزی فلم بنائے، جیسا کہ ایک زمانے میں اس نے پی ٹی وی کے اشتراک سے نشانِ حیدر جیسی شاندار سیریز پیش کی تھی۔
اسکولوں، کالجوں میں کریٹیکل تھنکنگ کو فروغ دے کر ہی وطن سے اصلی محبت کرنے والی نسل تیار ہوگی .
نہ کہ خوشامدی اور چاپلوسی میں ماہر اوسط درجے کے نام نہاد لیڈران سے،
جن کی بیان بازی اور پھکڑ پن نے غلط ترجیحات کو جنم دیا .
اور مکھن بازی کے فوائد کے ثبوت کے طور پر ایک خاص طرز کے لوگ میڈیا، سوشل میڈیا اور تھنک ٹینکس میں اپنا تسلط جمائے ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کو ایسے کھوکھلے موقع پرستوں کے بجائے فکری طور پر خودمختار اور متوازن آوازوں کو ترجیح دینی چاہیے۔
مجھے احساس ہے کہ یہ سطریں نہ صرف میرے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں بلکہ کئی دوست بھی اسے اپنے آپ پر بے جا تنقید سمجھیں گے .
میں یا آپ اہم نہیں ہیں، ملک اور اس کی سلامتی اہم ہیں۔
درست سمت میں بیانیے بنانے کے لیے فکری استقامت اور خطرہ مول لینے کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ لفاظی اور قصیدہ گوئی کی۔

اگر ہم ایم ایم عالم جیسے سچ کہنے والوں کو خراجِ تحسین دینے سے بھی کترائیں،
تو ہم اپنے محب وطنوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟

میری یہ تحریر شاید کسی اسکول کے نصاب میں شامل نہ ہو،
نہ کسی ٹی وی پینل کا موضوع بنے، نہ کسی لٹریری فیسٹیول کا مرکز۔
لیکن اگر یہ کسی ایک سویلین یا فوجی افسر کو یہ سمجھا دے
کہ سچ بولنا، جینا اور اس کی قیمت چکانا ایک ہی بات ہے .
تو سمجھ لیجیے کہ ایم ایم عالم کی روح اور ہمارے شہداء کی روح شادماں ہے۔

یہ وطن تمہارا ہے
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے

اس چمن کے پھولوں پر رنگ و آب تم سے ہے
اس زمیں کا ہر ذرّہ آفتاب تم سے ہے
یہ فضا تمہاری ہے، بحر و بر تمہارے ہیں
کہکشاں کے یہ جالے، رہگزر تمہارے ہیں

اس زمیں کی مٹی میں خون ہے شہیدوں کا
ارضِ پاک مرکز ہے قوم کی امیدوں کا
نظم و ضبط کو اپنا میرِ کارواں جانو
وقت کے اندھیروں میں اپنا آپ پہچانو

یہ زمیں مقدّس ہے ماں کے پیار کی صورت
اس چمن میں تم سب ہو برگ و بار کی صورت
دیکھنا! گنوانا مت دولتِ یقیں لوگو
یہ وطن امانت ہے اور تم امیں لوگو

میرِ کارواں ہم تھے، روحِ کارواں تم ہو
ہم تو صرف عنواں تھے، اصل داستاں تم ہو
نفرتوں کے دروازے خود پہ بند ہی رکھنا
اس وطن کے پرچم کو سربلند ہی رکھنا

یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے، تم ہو نغمہ خواں اس کے
(شاعر: کلیم عثمانی)

پسِ تحریر:

ان سطروں سے اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں معذرت خواہ ہوں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے