تبوک یونیورسٹی: سعودی عرب کے تعلیمی منظر نامے پر ایک ابھرتا ہوا ستارہ

مجھے جہاں بھی جانے کا موقع ملتا ہے میں وہاں یونیورسٹیاں، لائبریریاں، مساجد، پارکس، تاریخی اہمیت کے حامل مقامات اور کاروباری مراکز تلاش کرتا رہتا ہوں کیونکہ انہیں جگہوں میں زندگی کے اپنے اصل رنگ و آہنگ اور لطف و رونق محسوس کرنے کو ملتے ہیں اور یہی وہ آئینے قرار پاتے ہیں جن میں کسی بھی ملک اور معاشرے کا نظارہ آسانی اور وضاحت سے کیا جا سکتا ہے۔

سعودی عرب سے ہمارا تعلق نسل در نسل دراز ہے ہمارے علاقے کا معاشی انحصار زیادہ تر خلیجی ممالک میں کام پر ہے۔ میرے والد محترم قاری سید قریش جان مرحوم و مغفور بھی سعودی عرب میں بسلسلہ روزگار برس ہا برس مقیم رہے تھے اور اب ماشاءاللہ سے گردشِ ایام نے یہ موقع چھوٹے بھائی سید کفایت اللہ جان کو عطا کیا ہے۔ وہ تبوک یونیورسٹی کے قریب مقیم ہے اس لیے ہمیں اپنے وزٹ کے دوران متعدد مرتبہ یہاں آنے کا موقع ملا۔ تبوک یونیورسٹی کے پر سکون ماحول، سر سبز و شاداب نظاروں، شاندار طرزِ تعمیر اور اہم ترین شعبہ ہائے تعلیم نے فوراً ہمارے دل اور توجہ میں گھر کر لیا، یوں سوچا کہ اسے باقاعدہ اپنے سلسلہ تحاریر میں جگہ دی جائے کیا بعید کہ کسی بندہ خدا کی دلچسپی میں یہ مقام بھی شامل ہو اور یوں اسے فائدہ پہنچنے کا امکان پیدا ہو۔

دنیا اگر گلوبل ولیج ہے اور واقعتاً ایسا ہی ہے تو پھر نوع بہ نوع اور ہر طرف بکھرے مواقع سے خود کو زیادہ دور قطعاً خیال نہیں کرنا چاہیے۔ آج جس طرح پوری دنیا باہم جڑی ہے اور جس طرح بے شمار امکانات بلاامتیاز سب کے دسترس میں آ رہے ہیں، یہ بلاشبہ سب سے بڑی تبدیلی ہے اور یہ ایک عظیم الشان بہتری کا ذریعہ بھی۔ دل میں اگر ہمت بھری ہو اور ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم بھی شامل رہے تو بندہ وہاں پہنچ سکتا ہے جہاں اس کا تصور بھی کبھی نہ گیا ہو۔ آئیے تبوک یونیورسٹی پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں اس خواہش کے ساتھ کہ رب کریم وہاں بے شمار ہم وطن نوجوانوں کا ذہن پھیر دیں کیونکہ تبوک یونیورسٹی، سعودی عرب کے تعلیمی منظر نامے پر ابھرا ہوا وہ خوبصورت منارہ نور ہے جو ہر طرف علم و تحقیق کی روشنی پھیلانے کو اچھی طرح تیار ہے۔

تبوک یونیورسٹی کا قیام 2006 کو عمل میں آیا ہے۔ سعودی عرب میں تبوک کے علاقے کے اعلیٰ تعلیمی منظرنامے میں یہ ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ کم و بیش دو عشروں پر محیط دورانیے میں تبوک یونیورسٹی، ایک سرکردہ تعلیمی و تحقیقی ادارے کے طور پر خوب ابھرا ہے جو کہ تعلیمی معیار کو فروغ دینے، طلباء میں تحقیقی روح پھونکنے اور خطے کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں اپنا قابلِ ذکر حصہ شامل کرنے کے لیے پوری طرح پر عزم ہے۔ اپنے قیام سے لے کر اب تک تبوک یونیورسٹی نے جو ماحول اور معیار تخلیق کیا ہے وہ خود کو فوراً سے پہلے محسوس کراتا ہے۔ اپنے سحر انگیز ماحول، بے مثال نظم و ضبط، شاندار تعمیراتی منصوبہ بندی، رنگ بہ رنگ طلباء اور فیکلٹی ممبران کے اجتماع اور جاب مارکیٹ سے مکمل طور پر ہم آہنگ شعبہ ہائے تعلیم کے انتخاب نے تبوک یونیورسٹی کی وقعت اور افادیت میں ٹنوں کے حساب سے اضافہ کیا ہے۔

تبوک یونیورسٹی کو سعودی حکومت نے ملک بھر میں تعلیمی و تحقیقی مواقع بڑھانے کے لیے ایک بڑے منصوبے کے طور پر قائم کی تھی۔ شاہی فرمان کے ذریعے قائم کی گئی، تبوک یونیورسٹی نے علاقے کے بڑھتے ہوئے تعلیم و تحقیق کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کی ضرورت کو محسوس کرنے کے جواب میں قائم کی تھی۔ تبوک یونیورسٹی علم و تحقیق کی روشنی میں اضافے کے مقصد کو پیش نظر رکھ کر قائم کی گئی ہے جو معیاری تعلیم اور جدید تحقیقی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر دم پر عزم ہے۔ دور حاضر کا سب سے بڑا تقاضا تعلیم و تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنے کا ہے یعنی اب ملی تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کے سارے راستے تعلیم و تحقیق کے عمل سے ہو کر گزرتے ہیں۔ یہ سرے سے ممکن ہی نہیں کہ ہم تعلیم و تحقیق کے شعبے کو نظر انداز کر کے اقوام عالم میں باوقار مقام پانے میں کامیاب ہو۔

تبوک یونیورسٹی کا بنیادی مقصد معیاری نصاب اور جدید تحقیق کے ذریعے جامع تعلیم فراہم کرنا ہے۔ تنقیدی سوچ، تعمیری اسلوب، تخلیقی صلاحیتوں کا فروغ اور نوع بہ نوع مسائل کو حل کرنے کے لیے مطلوبہ مہارتوں کو پرورش دینا، تبوک یونیورسٹی کے گریجویٹس کی تیاری میں پیش نظر چند بڑے اہداف ہیں جو تیزی سے ابھرتی ہوئی عالمی اور علاقائی معیشت کے راستے میں موجود چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہو۔ تبوک یونیورسٹی اپنے طلباء میں تعلیمی تخلیقیت، اخلاقی اقدار اور سماجی ذمہ داری کی ذہنیت کو فروغ دینے پر بہت زیادہ زور دیتی ہے۔

تبوک یونیورسٹی، اپنے پیش نظر تعلیمی معیار کے حصول میں، مطالعہ کے متنوع شعبوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تعلیم و تحقیق کی ایک وسیع و عریض رینج رکھتی ہے۔ ان میں انجینئرنگ، میڈیسن، بزنس ایڈمنسٹریشن، کمپیوٹر سائنسز، ہیومینٹیز، اور سوشل سائنسز جیسی فیکلٹیز شامل ہیں۔ ہر شعبہ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ فیکلٹی ممبران کا عملہ موجود ہے جو کہ نظریاتی اور عملی دونوں طریقوں کے حسین امتزاج کے ذریعے علم فراہم کر رہا ہے نتیجتاً، دنیا بھر سے موجود طلباء ایک معیاری تعلیم سے مستفید ہو رہے ہیں جو انہیں ایک شاندار مستقبل کے لیے تیار کرتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عصر حاضر سے جڑے نوع بہ نوع چیلنجوں پر علم و تحقیق کے بغیر قابو نہیں پایا جا سکتا۔

تبوک یونیورسٹی سخت تعلیمی معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے بالکل یکسو ہے جو کہ اعلی ترین بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے عین برابر ہیں۔ تبوک یونیورسٹی کوالٹی اشورینس کے فریم ورک کی بھرپور پابندی کرتی ہے اور اس بات کو بہر صورت یقینی بناتی ہے کہ اس کے پروگراموں کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور اسے وقت بہ وقت آپ ڈیٹ کیا جائے تاکہ جاب مارکیٹ اور تعلیمی برادری کی عصری ضروریات کو اطمینان بخش درجے میں پورا کیا جا سکے۔ باقاعدہ فیکلٹی ممبران کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ ہمہ وقتی تحقیق میں مشغول رہیں، مسلسل علمی مقالے شائع کریں، فکری نشوونما کو فروغ دیں اور تعلیمی معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف عالمی کانفرنسوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں۔

تبوک یونیورسٹی سیکھنے سکھانے کے عمل میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے انضمام کو خاص ترجیح دیتی ہے۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، بشمول وقیع تحقیقی سہولیات اور ای لرننگ پلیٹ فارمز، تعلیمی تجربات کو مسلسل بڑھاتا ہے، یہ اہتمام طلباء کو ضروری وسائل تک رسائی اور مؤثر طریقے سے تعلیمی معاونت فراہم کرنے کے قابل بناتا ہے۔ مزید برآں، تبوک یونیورسٹی مسلسل بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ساتھ تعلیمی و تحقیقی شراکت داری قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے، عالمی تعلیمی نمائشوں کو فروغ دیتی ہے اور لگاتار طلباء تبادلہ پروگراموں میں تعاون کے منفرد مواقع فراہم کرتی رہتی ہے۔

تبوک یونیورسٹی کو اپنے متنوع طلباء کی وسیع موجودگی کا فخر حاصل ہے، جو پورے خطے اور اس سے باہر کے طلباء کو بھی اپنی جانب راغب کر رہی ہے۔ ہمیں جا بجا مختلف رنگ، نسل اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے طلباء کثیر تعداد میں نظر آئیں۔ ان کے چہروں کی رونق اور لہجوں کے اعتماد سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اپنے تعلیمی عمل سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ وسیع تعلیمی شمولیت کے لیے اپنی سنجیدہ وابستگی کے ثبوت کے طور پر، تبوک یونیورسٹی مرد و خواتین دونوں کا گرم جوشی سے خیر مقدم کرتی ہے، ایک متحرک تعلیمی ماحول کو فروغ دیتی ہے جو کہ عالمی تنوع اور صنفی مساوات پر یقین رکھتی ہے۔

تبوک یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے طلباء کی تعداد میں گزشتہ چند سالوں سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو اس کی بڑھتی ہوئی ساکھ اور خطے میں اعلیٰ تعلیم کے حصول میں پروان چڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کر رہا ہے۔ تبوک یونیورسٹی کی داخلہ پالیسیاں شاندار تعلیمی ریکارڈ رکھنے والے طلباء کے مالی پس منظر سے قطع نظر، بین الاقوامی شمولیت اور عالمی و سماجی نقل و حرکت کو مزید فروغ دینے کے مساوی مواقع کو یقینی بناتی ہیں۔ تعلیمی معیارات پر پورے اترنے والے طلباء کے لیے اب مالی پریشانیوں کے سبب پیچھے رہنے کا خدشہ نہیں۔ صلاحیت کا ثبوت پیش کریں اور ان بے تحاشا تعلیمی مواقع سے مستفید ہو جو یونیورسٹی بڑے پیمانے پر پیش کر رہی ہیں۔

تبوک یونیورسٹی سعودی عرب کی تعلیمی ترقی کے عزم کا ایک واضح ثبوت ہے۔ اپنے قیام سے لے کر اب تک اس نے جدت اور تحقیق کے کلچر کو کما حقہ فروغ دیتے ہوئے، تعلیمی معیار کے حصول میں خاطر خواہ پیش رفت کی ہے۔ تبوک یونیورسٹی اپنے جامع تعلیمی شعبہ جات، اعلیٰ معیارات اور متنوع طلباء اور فیکلٹی ممبران کے ساتھ، خطے کے علمی اور فکری منظر نامے کی تشکیل جدید جاری رکھے ہوئے ہے اور مجموعی طور پر سعودی عرب کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں اپنا وقیع حصہ، دلجمعی اور ہمہ جہتی سے شامل کر رہی ہے۔

تبوک یونیورسٹی کی اہمیت اور افادیت میں اب ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ اس کے عین پڑوس میں، سعودی حکومت کے زیر نگرانی ایک دیوہیکل عالمی علمی، تجارتی، سیاحتی، سائنسی، صنعتی اور ثقافتی شہر ہی نہیں بلکہ ایک پوری دنیا آباد ہو رہی ہے۔ نیوم، ساڑھے چھبیس ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا یہ انقلابی منصوبہ مستقبل کے معاشی، صنعتی، تجارتی، سائنسی اور سیاحتی شیرازہ بندی میں بے حد اہمیت کا حامل ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان وقتی پریشانیوں سے اپنا ذہن بچا کر خود کو اس "اژدھا” منصوبے میں کہیں نہ کہیں فٹ کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں کیونکہ مستقبل یکسر "مختلف” ہوگا اور مختلف مستقبل کے لیے اپنے آپ کو "مختلف” بنانا پڑے گا ورنہ اتنے پیچھے رہ جائیں گے کہ جہاں کسی کو بھی یاد نہیں رہیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے