سفر منزل پہ بھی جاری رہے گا (دوسری قسط)

صبح کے ٹھیک سات بجے عبدالرحمٰن بھائی یوں کمرے میں داخل ہوئے جیسے کوئی چارج شدہ الارم ہو . نہ سلام نہ دعا، بس دھاڑتے ہوئے بولے:
"اُٹھو بھئی، اُٹھنے کا وقت ہو گیا ہے! ناشتہ، سیشن، سب کچھ باقی ہے!”

میری آنکھ تو کھل گئی، لیکن دماغ ابھی بھی نیند کی تہہ میں دفن تھا۔ سچ پوچھیں تو ایسی نیم خوابی کی کیفیت تھی جیسے روح بیدار ہو چکی ہو، لیکن جسم ابھی قومہ میں ہو۔
کسی نے غصے سے کہا: "یار یہ رات کو کون سا ظالم تھا جس نے الارم لگایا تھا؟ نیند تو تین بجے حرام ہو گئی تھی!”
میں بےخبر تھا، کیونکہ خود ساڑھے تین بجے نیند کے دریا میں غوطہ لگا چکا تھا، اور ایسی نیند تھی کہ زلزلہ آ جائے تو شاید تب بھی نہ جاگتا۔

خیر، جب عبدالرحمٰن بھائی نے آ کر باقاعدہ حکم نامہ صادر فرمایا، تب جا کر میں بیدار ہوا۔ دماغ نے پہلا جملہ یہی کہا:
"پندرہ بندے، ایک باتھ روم؟ اگر پہلے نہ گیا تو ناشتہ چھوڑ، دن بھی لائن میں گزر جائے گا!”
یہی سوچ کر میں نے لمبی انگڑائی لی، تولیہ اٹھایا، اور جلدی سے باتھ روم پر قبضہ جمانے روانہ ہو گیا۔

نہا دھو کر باہر نکلا تو استری کا مرحلہ آن کھڑا ہوا۔ کپڑے میرے پاس تھے، مگر استری خدانخواستہ کسی جنگ سے واپس آئی لگ رہی تھی۔
امید پر دنیا قائم ہے، اس لیے سوچا شاید کسی کے پاس ہو۔ باہر نکلا تو کیمپ میں شہاب بھائی آرام فرما رہے تھے — وہی صحن والا کیمپ، جہاں جگہ کی تنگی نے چند لوگوں کو کمرے کے بجائے آسمان تلے سونے پر مجبور کیا تھا۔

عبدالرحمٰن بھائی وہیں بیٹھے تھے، زِپ کھول کر کیمپ کے پردے کو اٹھایا اور شہاب بھائی کو جگانا شروع کر دیا:
"اوئے شہاب! رات بھر تم ہی اعلانات کر رہے تھے کہ صبح سات بجے ناشتہ، سیشن، ٹریکنگ… اب خود سو رہے ہو؟”

شہاب بھائی کی بےحسی پہ مجھے ہنسی آ گئی، بندہ ہلا بھی تو بس اتنا کہ دل کو یقین آ جائے زندہ ہے، مرا نہیں۔

میں نے عبدالرحمٰن بھائی سے استری کا پوچھا، تو فرمایا:
"گرلز کے کمرے میں ہے۔ جا کے مانگ لو۔”
میں شرمیلا نہیں تھا، بس دروازہ کھٹکھٹایا اور مؤدبانہ عرض کی:
"استری درکار ہے!”
جواب آیا: "دو منٹ میں دیتے ہیں!”
واپس آ کر دوستوں کے ساتھ تھوڑی گپ شپ کی نیت باندھی، مگر یہ کیا؟ سب تو خراٹے لے رہے تھے!
تو پھر میں ہی عبدالرحمٰن بھائی کا "نائب” بنا اور چیخ پڑا:
"اُٹھو غم کے مارو! صبح ہو گئی ہے، لاہور ریسٹورنٹ جانا ہے! تم ہی تو رات کہہ رہے تھے کہ فلاں کرنا ہے، ڈھمکاں ہونا ہے!”

افاق، علی عمران، اور ہریرہ کو بھی جگایا، مگر نیند ایسی گہری تھی کہ جیسے خواب خرگوش کا معرکہ لڑ رہے ہوں۔
میں نے سوچا کہ استری کا مسئلہ دوبارہ دیکھوں، عبدالرحمٰن بھائی پھر سے میرے ساتھ چلے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔
اب کی بار جواب آیا:
"دس منٹ بعد دیں گے۔ ہمارے کپڑے باقی ہیں۔”

دو منٹ سے دس منٹ؟ یہ تو وہی والا حساب ہوا:
"بات بات پر وعدہ کر لیا، مگر نبھانا نہ آیا!”

خیر، اوپر گیا تو ایک دوست کپڑے استری کر رہا تھا۔ میں نے بھی اپنی باری لی۔ ایک بھائی بولا:
"میں تمہارے کپڑے استری کر دیتا ہوں، تم چھوٹے ہو۔”
میں نے مسکرا کر کہا:
"بھائی جان، عمر چھوٹی ہے، ہمت نہیں!”

خود کپڑے استری کیے اور نیچے آ گیا۔ دو دوستوں نے پھر وہی سوال دہرایا۔ میں نے بھی عبدالرحمٰن والی بات دہرائی:
"اوپر جاؤ، وہیں استری ہے!”

ادھوں ادھر سب تیاریوں میں مصروف تھے۔ میں نے بیگ تیار کیا، پانی کی بوتل اور ضروری چیزیں رکھیں۔
کچھ تصویریں کیمرے اور موبائل سے کھینچیں۔ ماحول خوبصورت تھا اور دل بےحد شاد۔
پھر ہم ساڑھے سات سے آٹھ کے درمیان بس میں سوار ہوئے اور لاہور ریسٹورنٹ کی طرف روانہ ہوئے — فاصلہ صرف دو تین منٹ کا تھا، مگر شاید وقت کی بچت مقصود تھی۔

ریسٹورنٹ کے شیشے سے باہر جھانک کر دیکھا تو کئی دوست پیدل آ رہے تھے۔ ہم اندر جا کر بیٹھ گئے، اور وہ باہر سڑک پر چلتے دکھائی دیے۔

اسی اثنا میں میری نظر عبدالرحمٰن بھائی پر پڑی، جو اب ہمارے ساتھ نہیں بلکہ ریسٹورنٹ کے اندر ستون کے ساتھ اونچی کرسی پر بیٹھے تھے۔

تب مجھے اسحاق وردگ کا شعر یاد آیا:

ہمارے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا تھا،
وہ اک بندہ خدا ہونے سے پہلے!

دل کیا اسی وقت سنا دوں، مگر خیال آیا:
ادب کا شعر ہے، مذاق نہ بن جائے!
بعد میں اکیلے میں سنا دیا۔ وہ ہنسے اور بولے:
"یار، اتنی بھی بےوفائی نہیں کی!”

ناشتہ ہو چکا تھا، شہاب بھائی نے پھر اعلان کیا کہ نیچے جانا ہے، سیشنز شروع ہونے والے ہیں۔
ہم نے کہا: "ابھی تو ناشتہ کیا ہے، تھوڑا پیدل چلیں، ہضم بھی ہو جائے گا۔”
بس کی ضد ٹال کر ہم پیدل روانہ ہو گئے۔

راستہ دل کو بھایا — سڑک کے دونوں طرف درخت، سبزہ، اور صبح کی ہلکی ٹھنڈی ہوا۔
ایسا لگا جیسے قدرت ہمیں سفر کی دعا دے رہی ہو۔

نیچے پہنچے تو سیشنز کے لیے کرسیاں تیار تھیں، بورڈز لگے تھے، مگر حاضرین ہم ہی چند تھے۔
تو کیا کیا جائے؟

کچھ موبائل دیکھا، کچھ گپ شپ لگائی — ویسے بھی نیٹ کام نہیں کر رہا تھا، سو “گپ شپ” کا ماحول تھا۔

کچھ دیر بعد وہ سب دوست بھی آ پہنچے جن کی آمد کا انتظار تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے، کمرے میں تقریباً تیس سے چالیس افراد کرسیوں پر براجمان ہو گئے — کوئی ٹیک لگا کر بیٹھا، کوئی ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر، اور کچھ ایسے بھی تھے جو گویا نیند کے تسلسل کو زبردستی توڑ کر یہاں آن پہنچے تھے۔

سامنے سفید بورڈ پر کاغذات چسپاں کیے گئے اور سلطان محمد صاحب نے اپنے مخصوص پُراعتماد انداز میں لیکچر کا آغاز فرمایا۔
یہ صرف سلطان محمد نہیں، "سلطانِ فنون” کہلانے کے لائق ہیں۔
ایک باکمال میوزیشن بھی ہیں، اور لائف اسکلز کے ایسے شناور کہ بڑے بڑے اداروں میں اپنی مہارت کے جوہر دکھا چکے ہیں۔
اس کے علاوہ، Assessment، Effective Communication، اور متعدد دیگر ہنر بھی ان کی انگلیوں کے اشارے پر ناچتے ہیں۔

انہوں نے ہمیں لائف اسکلز پر ایک مختصر مگر بامعنی بریفنگ دی — ایسی گفتگو جس میں الفاظ کم اور اثر زیادہ تھا۔
سب سے خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے زندگی کے دس بنیادی ہنر — Life Skills — کو نہایت سادہ اور قابلِ فہم انداز میں بیان کیا۔
ایک صفحے پر انہوں نے یہ ساری مہارتیں درج کر رکھی تھیں، ہر ایک کے ساتھ مختصر تعارف، اور ایک چھوٹا سا خانہ جس میں ہمیں اپنا Self Score دینا تھا۔

وہ دس سکلز کچھ یوں تھے:

1. Self Awareness

2. Empathy

3. Effective Communication

4. Interpersonal Relationship

5. Creative Thinking

6. Critical Thinking

7. Decision Making

8. Problem Solving

9. Coping with Emotions

10. Coping with Stress

ہمیں ہدایت دی گئی کہ ان میں سے ہر اسکل کو اپنے حساب سے ایک سے سات کے درمیان نمبر دیں — تاکہ ہمیں خود یہ احساس ہو سکے کہ ہماری قوت کہاں مضبوط ہے، اور کہاں کمزور۔
یہ مشق گویا خود احتسابی کا آئینہ تھی — جس میں ہر شخص کو اپنا عکس صاف دکھائی دے رہا تھا۔

کئی دوستوں نے وہ صفحہ بھر لیا۔ میں نے بھی دل پر ہاتھ رکھ کر نمبر دیے، اور سوچا کہ ہاں، اگر میں واقعی آگے بڑھنا چاہتا ہوں تو ان پہلوؤں پر کام کرنا ہو گا جہاں ابھی کسر باقی ہے۔

پھر باری آئی اسماعیل بلاگر صاحب کی۔
میں انہیں پہلے ہی TikTok، Facebook اور YouTube پر دیکھ چکا تھا — بلاگر بھی ہیں، اور کرپٹو کرنسی کے ماہر بھی۔
اگرچہ مجھے کرپٹو سے دلچسپی نہ تھی، بلکہ میرا نظریہ یہی تھا کہ اس سے بچنا بہتر ہے مجھے بھی اس سے دوری اختیار کرنا ہے، مگر اسماعیل کی بات الگ تھی۔
وہ دل سے محنت کرنے والے، سچّی کمائی کے قائل تھے — یہی بات انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔

جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ پشاور لٹریری فیسٹیول میں کیوں نہ آئے، تو مسکرا کر بولے:
"یار میں تو دبئی سے پاکستان اسی ایونٹ کے لیے آیا تھا، مگر ایک ضروری کام آن پڑا، اور فیسٹیول رہ گیا۔”

ان کی بات میں سچ بھی تھا، اور تھوڑی سی ندامت بھی۔
خیر، ان کا لیکچر مختصر تھا مگر جامع۔
انہوں نے بتایا کہ کرپٹو ٹریڈنگ میں 97 فیصد لوگ نقصان اٹھاتے ہیں، اور صرف 3 فیصد ہی ایسے ہوتے ہیں جو واقعی مہارت سے کماتے ہیں۔
بات دل کو لگی، اور بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ذہن نے فیصلہ کر لیا کہ "اس میدان سے دور رہنا ہی بہتر ہے!”

اب لیکچر ختم ہوئے، تو شہاب بھائی نے اعلان کیا کہ دو آپشن ہیں:

1. پائپ لائن ٹریک

یا
2. میرن جانی ٹاپ

میں نے
اکثر دوستوں سے سنا تھا کہ میرن جانی ایک خوبصورت مگر مشکل چڑھائی ہے، اور میرا بھی دل یہی کہتا تھا کہ خود کو آزمایا جائے۔
تو ووٹنگ ہوئی — فیضان بھائی میرن جانی کی ٹیم کے ساتھ، اور شہاب بھائی پائپ لائن کے متوالوں کے ساتھ۔

لیکن حیرت تو تب ہوئی جب 99 فیصد قافلہ میرن جانی کی جانب ہو لیا!
گویا پائپ لائن والوں کو اکثریت نے “پمیرن جانی” میں ہی ڈال دیا۔

میں نے تو صبح ہی بیگ تیار کر لیا تھا — کیمرہ، پانی، چھتری، سب کچھ ٹھونس کر رکھا ہوا تھا۔
مگر جیسے ہی بیگ اٹھایا، دوستوں نے ایک ہی سانس میں کہنا شروع کر دیا:
"یار! یہ تم فوجی ہو؟ پورا اسلحہ لے کر جا رہے ہو؟
چھوڑو یہ بیگ، !”

پہلے تو میں نے نظر انداز کیا، لیکن پھر سوچا کہ واقعی، ٹریکنگ کے لیے ہلکا سفر ہی بہترین ہوتا ہے۔
تو بیگ سے کچھ سامان نکالا، ایک شاپر میں رکھا، اور کیمرہ و چھتری ہاتھ میں لیے بس کی طرف چل پڑا۔

دو بسیں روانگی کے لیے تیار تھیں — مرد و خواتین سب موجود، صرف شہاب بھائی کی بس تقریباً خالی تھی۔
میں دل میں سوچنے لگا کہ "شہاب بھائی تو اکیلے ہی جائیں گے کیا؟”
مگر بہرحال، روانگی کی گھڑی قریب آ چکی تھی —
اور ہم سب نئے حوصلوں، مزاح، اور پہاڑوں کی جانب بڑھتے قدموں کے ساتھ، اگلے مرحلے کی جانب روانہ ہونے والے تھے۔

دوستوں کو تیار ہونے میں کچھ دیر لگ رہی تھی، تو ہم صحن میں بچھی ہوئی کرسیوں پر بیٹھے ان کے انتظار میں وقت گزاری کرنے لگے۔
شہاب بھائی حسبِ معمول مکمل تیاری کے ساتھ جلوہ افروز ہوئے۔ بال اس نفاست سے جمائے ہوئے تھے گویا ہیرو نہیں، کسی اشتہار کے ماڈل ہوں۔ سفید pant-shirt، ہلکا سا پرفیوم، اور چال میں وہی فلمی انداز۔

اتنے میں کسی دوست نے شرارت سے آواز لگائی، "اوئے، پشپہ کی تصویر لے لو!”
میں لمحہ بھر کو ٹھٹھک گیا — سوچنے لگا کہ پشپہ؟ یہاں؟ کون پشپہ؟ نہ کوئی ساوتھ انڈین ہیرو دکھائی دے رہا تھا، نہ کوئی فلمی منظر…
پھر کسی نے زیرِ لب مسکراتے ہوئے شہاب بھائی کی طرف اشارہ کیا۔
میں نے نگاہ اُٹھائی اور جو دیکھا، تو قہقہہ ضبط کرنا مشکل ہو گیا۔
ارے! یہ تو شہاب بھائی تھے!

اب موقع ہے اُس راز کو کھلنے کا، جس کا وعدہ پہلے حصے میں کیا گیا تھا —
جی ہاں، شہاب الدین بھائی کا وہ مزاحیہ لقب، جو ہمارے دلوں میں محفوظ رہا…
آج آپ پر آشکار کرتا ہوں کہ ہمارے دوستوں کے درمیان ان کا دوسرا نام "پشپہ” تھا۔
ایک ایسا لقب جو مذاق بھی تھا، اور خراجِ تحسین بھی۔
وجہ صاف تھی — وہی تیور، وہی وقار، وہی فلمی ہیرو جیسا رکھ رکھاؤ۔
وہ پشپہ کی خفی شخصیت کا ایک ہلکا سا عکس تھے — سمارٹ، ہینڈسم، اور تھوڑے سے "خطرناک” بھی!

سچ تو یہ ہے کہ شہاب بھائی پر یہ لقب خوب جچتا تھا۔
دل نے کہا، "نام کچھ بھی ہو، اسٹائل کا دوسرا نام پشپہ ہی ہے!”

ادھر ہم تصویریں لے رہے تھے، کبھی haunted house کی، کبھی ہاسٹل کی، کبھی دوستوں کی، کہ اتنے میں بسیں روانگی کو تیار ہو گئیں۔
میں نے اس بار طے کیا کہ آگے والی نشست پر بیٹھوں گا تاکہ ویڈیوز اور تصاویر آسانی سے بنا سکوں۔
ڈرائیور کے عین پچھلی سیٹ پر میں، میرے ساتھ ہریرہ، اور اس کے ساتھ آفاق براجمان ہوئے۔
وصال تو ڈرائیور کے ساتھ ہی جا بیٹھا جیسے وہی گاڑی چلا رہا ہو۔

راستے میں وہی بازار پڑا جہاں صبح ہم نے ناشتہ کیا تھا، تو بس ذرا رکی اور میں فوراً نیچے اتر آیا۔
سوچا کچھ کھانے پینے کا سامان لے لوں۔
String، چپس، بسکٹ، پاپڑ — یعنی جو کچھ بھی ہاتھ آیا، شاپر میں بھرا اور واپسی کی راہ لی۔

ابھی میں پلٹا ہی تھا کہ آفاق بھائی کسی سوچ میں گم نظر آئے۔
پوچھا، "یار کیا ہو گیا؟”
کہنے لگے، "شاپر دیکھ رہا ہوں!”
میں نے ہنس کر کہا، "یہ کیا، شاپر سے کوئی انقلاب برپا کرنا ہے؟”
تو سنجیدہ لہجے میں بولے، "یار، ایک ایکٹیوٹی ذہن میں آئی ہے… گندگی جہاں بھی ہو، ہم ویڈیو بنائیں گے، صفائی کریں گے، اور لوگوں کو سبق دیں گے کہ صرف نظارے نہ لو، کچھ ذمہ داری بھی اٹھاؤ۔”

یہ سن کر دل نے کہا، "واہ آفاق بھائی، آپ تو خیر سے لیڈر نکلے!”
حالانکہ زبان کچھ نہ بولی — شاید وہی "کہنے کا وقت ہوتا ہے” والی بات ذہن سے پھسل گئی۔

اب بس چل پڑی، اور مستی کا آغاز ہوا۔
کوئی گانا گا رہا تھا، کوئی سیٹ پر جھوم جھوم کر "ناچ” پیش کر رہا تھا۔
دوستوں کی شوخی، گاڑی کی رفتار، اور پہاڑوں کا خمار — سب کچھ کسی فلمی سین سے کم نہ تھا۔

لیکن بس والے نے تو کمال ہی کر دیا۔
جہاں ٹریکنگ پوائنٹ تھا، وہاں سے 30–35 منٹ پہلے ہمیں اتار دیا۔
پہلے تو جی چاہا کہیں کہ، "بھائی، اتنا ظلم کیوں؟”
مگر پھر باقی قافلے کو بڑھتے دیکھا تو ہمت بندھی، ہم بھی چل پڑے۔

راستے میں ایک چہرہ نظر آیا — نایاب۔
ای کامرس کی ماہر، اور واقعی نایاب بھی۔
میں نے ان سے کہا، "مجھے Shopify اور WordPress میں کنفیوژن ہے، کس پر اسٹور بناؤں؟”
تو ہنستے ہوئے بولیں، "Shopify مہینے مہینے کا حساب مانگتا ہے، اور WordPress ایک سال کے لیے سکون دے دیتا ہے!”
دل نے کہا، "واہ، یہ تو وہی بات ہوئی کہ ایک دن کا راج، یا سال بھر کی بادشاہی؟”

ہماری گفتگو جاری رہی — product hunting، marketing، اور dropshipping کے حوالے سے کئی گُر انہوں نے سکھائے۔
میں نے ان سے نمبر لیا تاکہ بعد میں مزید رہنمائی حاصل کی جا سکے، کیونکہ ارادہ یہی تھا کہ فری لانسنگ سے نکل کر ای کامرس کی وادی میں قدم رکھا جائے۔

اسی دوران ہم آہستہ آہستہ پہاڑوں کے دامن تک پہنچنے لگے۔
میرے ہمسفر تھے: آفاق بھائی، عبدالرحمٰن بھائی، ہریرہ، ظفر، اور مستان بھائی —
ایک ایسا کارواں جو نہ صرف دوستی کے سفر میں ساتھ تھا بلکہ بلندیوں کی جانب بھی۔
جاری۔۔۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے