"نام ہی کافی ہے”: عصر حاضر کا ایک اہم چیلنج

دورِ جدید میں ایک قابلِ توجہ مسئلہ نمایاں ہوا ہے – ناموں کا محض ظاہری حسن اور سطحی تاثر کے لیے استعمال۔ آج کل ناموں کو اصل حقیقت سے ہٹ کر صرف توجہ حاصل کرنے، لوگوں کو لبھانے اور تشہیر کے لیے برتا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا رجحان ہے جس میں الفاظ کے معنی اور ان کی عملی تصدیق کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔

اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی اصول کو مدنظر رکھنا نہایت ضروری ہے: ہر وہ نام جو زبان پر چڑھتا ہے، ضروری نہیں کہ اس کی کوئی حقیقی اساس بھی ہو۔ نام اور اس کی عملی تصدیق میں واضح فرق ہوتا ہے۔

قرآنِ حکیم اس کی بہترین مثال پیش کرتا ہے جہاں مشرکین کے اس دعویٰ کو رد کیا گیا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یہاں واضح کیا گیا کہ محض کسی چیز کو نام دے دینے سے اس کی حقیقت نہیں بدل جاتی۔ نام ایک ظاہری چیز ہے جبکہ حقیقت ایک بالغ امر۔

اس تناظر میں ہر نام کو پرکھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس کے مفہوم اور مصداق کو جانچا جائے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی خود کو "دوست” کہلائے، تو محض اس لفظ پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا اس کے رویے میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں جو دوستی کی حقیقت ہیں – خلوص، ہمدردی اور خیرخواہی۔

موجودہ دور کی المیہ یہ ہے کہ لوگ ناموں کے جال میں آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ معاملات کو گہرائی سے نہ سمجھنے کی عادت ہے۔ خصوصاً سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں شارٹ ویڈیوز اور مختصر پیغامات نے لوگوں کی توجہ کا دورانیہ کم کر دیا ہے، وہاں ناموں کا یہ کھیل اور بھی آسان ہو گیا ہے۔

اس صورتحال سے نمٹنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہر نام کو اس کی اصل حقیقت کی کسوٹی پر پرکھا جائے۔ الفاظ کے ظاہری حسن سے مرعوب ہونے کے بجائے، ان کے پیچھے کارفرما معنی اور مقصد کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ یہی وہ دانشمندانہ رویہ ہے جو ہمیں ناموں کے دھوکے سے بچا سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے