پاکستان میں ٹیکس کا نظام ایک طویل عرصے تک خوف، ہراسانی اور کرپشن کا نمونہ بنا رہا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے بعض افسران خصوصاً کمشنرز، اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ٹیکس گزار شہریوں کو بلاجواز تنگ کرتے رہے۔ کاروباری حضرات کو اکثر بغیر کسی شفاف قانونی کارروائی کے اٹھا لیا جاتا، دفاتر پر چھاپے مارے جاتے، اور کاروبار کو بند کر دیا جاتا۔ ایسے اقدامات نے عوام کے دلوں میں ریاستی اداروں کے لیے خوف اور بداعتمادی کو جنم دیا۔ ایک ایسا وقت جب معیشت کو استحکام اور اصلاحات کی ضرورت تھی، پرانا ٹیکس نظام الٹا بوجھ بن کر کھڑا تھا۔
تاہم اب وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر ایف بی آر نے مصنوعی ذہانت پر مبنی کسٹمز کلیئرنس اور رسک مینجمنٹ سسٹم متعارف کرایا ہے جو ایک انقلابی پیش رفت ہے۔ اس نظام میں مشین لرننگ اور بوٹس (Bots) کے ذریعے درآمد و برآمد کی اشیاء کی نوعیت اور لاگت کا اندازہ لگایا جائے گا۔ یہ جدید سسٹم وقت کے ساتھ ساتھ خود کو بہتر بنائے گا، جس سے ایف بی آر میں کرپشن کے امکانات میں کمی اور ٹائم لائن میں بہتری آئے گی۔ اس اقدام سے شفافیت بڑھے گی، کاموں میں رفتار آئے گی، اور تاجروں کا اعتماد بحال ہوگا جو معاشی ترقی کی بنیاد ہے۔
پیر کے روز وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں دی گئی بریفنگ سے یہ بات سامنے آئی کہ اس نظام کی ابتدائی ٹیسٹنگ میں 92 فیصد زائد گڈز ڈیکلیئریشن کی نشاندہی ہوئی جبکہ ڈیڑھ گنا زائد کلیئرنس گرین چینل کے ذریعے ممکن ہوئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں شفافیت اور کارکردگی کو اولین ترجیح دینے پر زور دیا، اور اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی کہ نیا نظام ملکی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیکس نظام میں شفافیت لانا نہ صرف ایک خوش آئند قدم ہے بلکہ وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے۔
تاہم ٹیکس اصلاحات کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آیا موجودہ ٹیکس پالیسی واقعی عوام کے لیے ریلیف کا ذریعہ ہے یا مزید بوجھ؟ بہت سے ایسے ٹیکسز ہیں جو براہِ راست غریب عوام کی زندگی اجیرن بنا رہے ہیں۔ خاص طور پر بجلی کے بل میں "پروٹیکٹڈ” صارفین کا معاملہ ابھرتا ہوا مسئلہ ہے۔ اگر کوئی صارف ایک ماہ میں 200 یونٹس سے زائد بجلی استعمال کر لے تو وہ آئندہ چھ ماہ کے لیے پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے خارج کر دیا جاتا ہے، اور اسے ہر یونٹ پر زیادہ ریٹ ادا کرنا پڑتا ہے۔ اراکینِ قومی اسمبلی بھی اس ناانصافی پر سوال اٹھا چکے ہیں کہ آخر یہ پالیسی کیوں اپنائی گئی ہے؟ ایک مہینے کی تھوڑی سی زیادتی کے باعث چھ مہینے تک اضافی بلز، یہ سراسر ظلم ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر اس پالیسی پر نظرِ ثانی کرے اور کم از کم پروٹیکٹڈ یونٹس کی حد کو 300 یا 400 تک بڑھائے تاکہ غریب طبقے کو ریلیف مل سکے۔ اسی طرح متعدد اشیاء و خدمات پر غیرضروری ٹیکسز نے مہنگائی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اصلاحات کا مطلب صرف نظام کی تبدیلی نہیں، بلکہ عام شہری کو براہِ راست فائدہ دینا ہونا چاہیے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صرف ٹیکنالوجی سے نظام میں بہتری لانا کافی نہیں ہوگا۔ حکمرانوں کی اصل ذمہ داری اس وقت شروع ہوتی ہے جب عوام سے لیے گئے ٹیکسوں کو ان کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔ ترقی یافتہ ممالک میں شہری جو ٹیکس دیتے ہیں، اس کے بدلے انہیں اعلیٰ معیار کی تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات میسر آتی ہیں۔ جبکہ بدقسمتی سے پاکستان میں صورت حال بالکل مختلف ہے۔ عوام ٹیکس دیتے ہیں لیکن بدلے میں نہ سہولیات ملتی ہیں نہ انصاف۔ ہر محکمہ کرپشن سے آلودہ ہے، بےروزگاری آسمان سے باتیں کر رہی ہے، مہنگائی عام آدمی کا سانس لینا مشکل کر چکی ہے اور عوامی خدمات کے ادارے عوام کو ذلیل کیے بغیر کام نہیں کرتے۔
لہٰذا حکومت کو صرف ڈیجیٹل اصلاحات پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ بھی لازم ہے کہ وہ عوام کو آسانیاں فراہم کرے، بنیادی سہولیات یقینی بنائے، مہنگائی کو کنٹرول کرے، نوجوانوں کے لیے روزگار پیدا کرے، اور ملک میں کاروباری مواقع پیدا کرے۔ جب تک ٹیکس کے بدلے عوام کو حقیقی سہولتیں نہیں ملتیں، اس وقت تک کوئی بھی نظام دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔
یہی ترقی یافتہ قوموں کی پہچان ہے اور اگر ہم واقعی پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں محض نظام کو ڈیجیٹل نہیں، غرباء کو ریلیف بھی دینا ہو گا۔