اپنے ہاتھوں ہوۓ بر باد عزیز!

چند سال قبل گلگت میں برف پڑی تو گلگت کے کسی نوجوان نے اپنے محلے کے بزرگ سے سوال کیا کہ پرانے وقتوں میں گلگت میں برف نہیں پڑتی تھی یہ اچانک برف پڑنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ گلگتی بزرگ نے جواب دیا کیونکہ استور والے برف سے بھاگ کر گلگت آئے تو برف ان کا پیچھا کرتے کرتے یہاں پہنچ گئی۔یہ محض ایک مزاحیہ فقرہ تھا۔لیکن اگر گرمی کے بارے میں یہی کہا جائے کہ یہ پاکستان کے مختلف شہروں سے گرمی کے مارے بھاگے گلگت آئے سیاح کے پیچھے آئی ہے تو یہ محض مزاحیہ فقرہ نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک سائنسی حقیقت کی عکاسی کرے گا۔

گلگت بلتستان میں موسم سرما میں ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں گلگت بلتستان آتی ہیں، ان سے نکلنے والا دھواں اس بڑ ھتی گرمی کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔

دوسری وجہ ہوٹل کی صنعت ہے ،جا بجا ہوٹلز گیسٹ ہاؤسز کی تعمیر کیلئے درختوں کا کٹاؤہے۔تیسری وجہ بجلی کی کمی کے باعث سردی کی شدت سے بچاؤ کیلیئے درختوں کا کٹاو ہے۔ ہر گھرانے میں کم از کم اسی سے سو من لکڑی جلاتے ہیں جس کا دواں اسی فضا کا حصہ بن گرمی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

چند سال پہلے سکردو میں صرف جولائی کے مہینے میں پنکھوں کی ضرورت محسوس ہوتی تھی جبکہ اس سال درجہ حرارت چلاس میں ملک بھر میں سب سے زیادہ48.5 ڈگری سنٹی گریڈ ہے جبکہ بونجی میں 45 سنٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ یہی صورت حال دیگر اضلاع کی بھی ہے۔ کسی پنجاب کے سیاح سے لوکل سیانے نے سکردو آنے کی وجہ پوچھی تو سیاح بولا "لاہور دی گر م تو نس کے گرمی وچ ای پھنس گئے نے” یعنی لاہور کی گرمی سے بھاگ کر گرمی میں ہی پھنس گئے ہیں۔” اگر یہی صورت حال رہی تو سب سے زیادہ خطرہ گلگت بلتستان کو ہے۔

گلگت بلتستان میں قطبی خطوں سے باہر دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ گلیشیئرز موجود ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، گلگت بلتستان میں 13,000 سے زائد گلیشیئرز ہیں۔کوہ قراقرم میں 180 سے زیادہ چوٹیاں ہیں جن کی بلندی 7,000 میٹر سے زائد ہے، اور یہ گلیشیئرز کا ایک بڑا ذخیرہ ہے۔ان گلیشیئرز میں سیاچن، بلتورو اور ہسپر جیسے دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئرز بھی شامل ہیں۔ یہ گلیشیئرز دریائے سندھ اور پاکستان کے دیگر دریاؤں کے لیے پانی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، خاص طور پر موسم گرما میں، گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں خطرناک حد تک اضافہ کر رہا ہے۔ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے نتیجے میں گلیشیائی جھیلیں بنتی ہیں، جو پانی کی سطح بڑھنے پر پھٹ سکتی ہیں اور اچانک سیلاب (Flash Floods) کا باعث بنتی ہیں۔ گلگت بلتستان میں 2,800 سے زائد گلیشیائی جھیلیں ہیں، جن میں سے کئی گلوف کے خطرے سے دوچار ہیں ۔

گلیشیئرز کے پگھلنے سے ابتدائی طور پر دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہوتی ہے، جس سے نشیبی علاقے زیر آب آ سکتے ہیں اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ گلیشیئرز کے پگھلنے سے زمین کا کٹاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں، جس سے سڑکوں کی بندش اور زمینی رابطوں کا منقطع ہونا جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ پانی کی کمی اور گلیشیئرز کے پگھلنے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے گلگت بلتستان کے کچھ دیہاتوں نے مصنوعی گلیشیئرز بنانے کا طریقہ اپنایا ہے۔ ماہرین موسمیات اور متعلقہ ادارے موسمیاتی تبدیلیوں کے ان اثرات سے خبردار کر رہے ہیں اور حفاظتی اقدامات اور قبل از وقت انتباہی نظام (Early Warning Systems) کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں تاکہ ممکنہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔اگر ایمرجنسی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ پگھلاؤ خاکم بدہن کوئی بڑی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ اس سلسلے میں عملی اقدامات کیلیے نہ سیاحت کو ختم کر سکتے ہیں نہ گاڑیوں کے فلو کو روک سکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ محقیقین و ماہرین ماحولیات اور گلیشرز کے پگھلاؤ کی روک تھام پر کام کرنے والی قومی و بین الاقوامی این جی اوز کی مدد سے فوری تحقیق اور اس پر امر جنسی بنیادوں پر عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔

اس کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو شعور دیا جائے کہ ذیادہ سے زیادہ درخت اگانے کیلئے لوگوں کو راغب کریں اور دوسری طرف توانائی کی ضرورت پوری کرنے کیلیے چھوٹے ڈیم اور ہائڈرو پراجکٹس کیساتھ گلگت بلتستان کو نیشنل گرڈ کیساتھ شامل کر کے باشا دیامر پراجکٹ سےبجلی فراہم کی جائے۔ بصورت دیگر پہلے پانی و بجلی کی کمی کی وجہ سے غربت اور افلاس کا شکار تھے۔اب پا نی کی زیادتی کے نتیجے میں تباہی کا شکار ہوں گے۔ اور اس تباہی کے سب سے بڑے زمہ دار ہم خود ہوں گے۔شاید معروف شاعر پروفیسر عبدالعزیز نے اپنی شاعری میں اسی لیے ہماری خود کے ساتھ دشمنی کی نشاندہی کی ہے؛
اپنے ہاتھوں ہوئےبرباد عزیز
یہ کوئی سازش اغیار نہیں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے