ایمان اور زندگی کا باہمی تعلق

اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے ایمان کی روشنی سے نوازا۔ ایمان محض چند عقائد کا نام نہیں، بلکہ یہ تو زندگی کے ہر پہلو کو نورِ یقین سے منور کر دینے والا ایک کامل سچائی پر مبنی نظام ہے۔ ایمان اور زندگی کا رشتہ ایسا ہی ہے جیسا کہ روح اور جسم کا تعلق۔ جس طرح بغیر روح کے جسم بے جان ہے، اسی طرح بغیر ایمان کے زندگی بے مقصد ہے۔ ایمان وجود میں موجود بنیادی سچائی کے اعتراف کا نام ہے جس کو ہم سب خدا کہتے ہیں۔ اسٹیفن ہاکنگ کہا کرتے تھے کہ "انسان کے پاس خدا کے علاؤہ ہستی کی اور توجیہ نہیں”۔

انسان کی زندگی ایک پیچیدہ اور گہرا سمندر ہے، جس میں خوشیوں کی لہریں بھی ہیں، غموں کے طوفان بھی، امید کی کرنیں بھی ہیں، اور مایوسی کے بادل بھی۔ لیکن اس سمندر میں ایمان وہ لنگر ہے جو انسان کو ڈوبنے سے بچاتا ہے، وہ قطب نما ہے جو سمت بتاتا ہے، اور وہ سہارا ہے جو ہر طوفان میں ثابت قدمی عطا کرتا ہے۔ ایمان اور زندگی کا تعلق صرف مذہبی رسومات تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسان کا بنیادی سچائی اور سچائی کا منبع یعنی خدا کے ساتھ ایک گہرا روحانی، ذہنی، جذباتی، نظریاتی اور عملی رشتہ بھی ہے جو ہر لمحے، ہر جگہ اور ہر قدم پر انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔

ایمان وہ قوت ہے جو انسان کو ذہنی خلا اور عملی گناہوں کی تاریکی سے نکال کر سچائی اور تقویٰ کی روشنی میں لے آتی ہے۔ یہ دل میں اطمینان، کردار میں استقامت اور عمل میں صداقت پیدا کرتا ہے۔ ایمان کی حقیقی لذت وہی محسوس کرتا ہے جو اپنی زندگی کو اللہ کی امانت جان کر اس کے احکامات کے مطابق ڈھالنے میں کامیاب ہو۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "الذین آمنوا وتطمئن قلوبهم بذکر اللہ، ألا بذکر اللہ تطمئن القلوب” (وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے)۔

ایمان صرف چند عقائد کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک زندہ و جاوید حقیقت ہے جو انسان کے دل و دماغ اور ظاہر و باطن کو منور کرتی ہے۔ جب ایمان کی شمع روشن ہوتی ہے، تو زندگی کے ہر پہلو میں ایک نئی رونق، ایک نئی توانائی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایمان انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ کسی بے مقصد وجود کا حصہ نہیں، بلکہ ایک عظیم ترین تخلیقی منصوبے کا ایک اہم ترین کردار ہے۔ یہی احساس اسے مشکلات میں صبر، کامیابیوں میں شکر، اور ہر حال میں توکل اور اعتماد کی دولت سے مالا مال کر دیتا ہے۔

ایمان زندگی کو بامقصد بناتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری تخلیق محض دنیاوی زندگی گزارنے کے لیے نہیں، بلکہ اللہ کی عبادت اور اس کی رضا کے حصول کے لیے ہے۔ ایمان انسان کو اس حقیقت کا خوگر بناتا ہے کہ اس دنیا کے بعد خلا نہیں بلکہ آخرت ہے۔

آخرت ایک ایسی جگہ ہے جہاں انسان کو موجودہ دنیا میں اختیار کردہ طرزِ زندگی کی بنیاد پر سزا و جزا کے انجام سے گزارا جائے گا۔ جب انسان ایمان کی دولت سے مالا مال ہو جاتا ہے تو پھر اس کی ہر سانس، ہر قدم، ہر عمل اللہ کے لیے ہوتا ہے۔ وہ مصیبتوں میں صبر کرتا ہے، خوشیوں میں شکر ادا کرتا ہے، اور ہر حال میں رضائے الٰہی کو مقدم رکھتا ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "بے شک ایمان والو! تم اللہ پر بھروسہ کرو، اگر تم حقیقی مومن ہو۔” (سورۃ المائدہ)۔ یہ آیت ایمان اور عمل کے گہرے تعلق کو واضح کرتی ہے۔ ایمان اگر صرف زبانی دعویٰ ہو تو وہ بے اثر ہے، لیکن جب یہ اعمال کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، تو زندگی میں گویا اصلاحی اور تعمیری انقلاب برپا ہو جاتا ہے تمام فرض عبادات کی ادائیگی، انفاق فی سبیل اللہ، بے ضرری، نفع رسانی، خیر خواہی، خدمت گزاری، شرافت نفسی، نفاست پسندی، صداقت شعاری، وفاداری، حوصلہ مندی، وسیع الظرفی اور اعلی ذوقی سمیت حسن گفتار، حسنِ اخلاق اور حسن کردار ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب دراصل ایمان کے پھل و پھول ہیں جو انسان کے اندر اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔

زندگی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی۔ جسمانی بیماری، مالی پریشانی، ذہنی ناآسودگی، رشتوں میں ناچاقی، یا سماجی ناانصافی وغیرہ ایسی آزمائشیں ہیں جن کا خطرہ ہر وقت لاحق ہوتا ہے ایسے میں انسان اگر ایمان سے عاری ہو، تو وہ مایوسی کے گہرے غار میں گر سکتا ہے۔ لیکن ایمان اسے یاد دلاتا ہے کہ ہر آزمائش کے پیچھے کوئی حکمت اور ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ تاجدار کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ "مومن کا معاملہ عجیب ہے! اس کا ہر کام خیر ہی خیر ہے، اور یہ صرف مومن کے لیے ہوتا ہے۔ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، اور یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔ اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔” (صحیح مسلم)، اس طرح حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے: "ہم وہ قوم ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ذریعے عزت بخشی، لہٰذا اگر ہم عزت ایمان کے سوا کسی اور چیز میں تلاش کریں گے تو اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا۔”

آج کے دور میں جب کہ مادہ پرستی، خود غرضی، بے حسی اور بے مقصدیت عام ہے، ایمان کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کی نمائشی طرزِ زندگی، مادی ترقی کے پیچھے بے ہنگم دوڑ دھوپ، ہمہ جہت اخلاقی بحران اور گہرا روحانی اور جذباتی خلا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب انسان کو بے چین کر دیتے ہیں۔ لیکن ایمان وہ ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے جو انسان کو بتاتا ہے کہ کامیابی صرف دولت اور شہرت کا نام نہیں، بلکہ حقیقی کامیابی کے زمرے میں بنیادی سچائی سے وابستگی، اطاعتِ الٰہی، خدمتِ خلق، خیر خواہی، اخلاقی بلندی اور روحانی آسودگی بھی شامل ہے۔ زندگی کے ان معنوی پہلوؤں کو نظر انداز کر کے انسان کبھی اطمینان نہیں پا سکتا۔

آج ہماری زندگیوں میں بے چینی، پریشانی اور بے سکونی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم ایمان کے ساتھ اپنا تعلق کمزور کر چکے ہیں۔ ہم دنیا کے پیچھے بھاگتے ہیں اور بھاگتے چلے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود دل کی گہرائیوں میں سکون نہیں پاتے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ایمان کو تازہ کریں، اپنے دلوں کو اللہ کے ذکر سے معمور رکھیں، اپنے رویوں اور سلوک میں خلوص پیدا کریں اور اپنی زندگیوں کو تاجدار کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ڈھالیں۔

ایمان اور زندگی کا رشتہ ایسا ہی ہے جیسے جسم و جان کا رشتہ۔ جس طرح بغیر روح کے جسم بے جان ہے، اسی طرح بغیر ایمان کے زندگی بے مقصد ہے۔ ایمان انسان کو حقیقی آزادی عطا کر کے اسے خوف، لالچ، حرص و ہوس، نفرت و عداوت اور نفسانی غلامی سے نجات دیتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر سانس اللہ کی نعمت ہے اس لیے زندگی میں ہر قدم اس کی رضا کی طرف بڑھنا چاہیے۔

ایمان ہی وہ چراغ ہے جو زندگی کے تاریک راستوں کو منور کر دیتا ہے۔ آئیے! ہم عہد کریں کہ اپنے ایمان کو مضبوط بنائیں گے، تاکہ ہماری زندگیاں بامقصد بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ایمان کی حلاوت سے سرشار ہونے کا احساس عطا فرمائے یہی وہ قیمتی وسیلہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب بنا سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے