پچھلی صدی کی بات ہے، ایک سیمینار میں مرحومہ وزارتِ بہبودِ آبادی کی جانب سے ایک صاحب، جو ظاہر ہے معزز تھے، زور زور سے فرما رہے تھے کہ پاکستان کی آبادی کیوں بڑھ رہی ہے؟ حاضرین میں مجھ جیسی گستاخ عورتیں بھی تھیں۔ میں نئی نئی ایمسٹرڈیم سے تولیدی صحت اور صنفی مساوات پر اپنا پوسٹ گریجویٹ مکمل کر کے آئی تھی۔ فرطِ جذبات میں میں نے زور سے انگریزی میں کہہ دیا کہ لوگ خاندانی منصوبہ بندی نہیں کرتے، مانعِ حمل ادویات اور معلومات تک رسائی نہیں ہے، بیٹے کی طلب میں دس دس بچیاں پیدا ہو رہی ہیں اور مظلوم ماں پر ہر قسم کا ستم جاری ہے۔ ہمارا میڈیا اشتہارات میں اب تک “بیٹا بیٹی کا سیٹ” دکھاتا ہے اور یہ نہیں بتاتا کہ جنس کا تعیّن مرد کی طرف سے ہوتا ہے۔
اس کے بعد کیا ہوا، بیان کرنا ضروری نہیں۔ بس اتنا پتہ چلا کہ میں معزز تو کبھی نہیں تھی مگر اب ڈِکلیئرڈ بے شرم عورت ہوں۔
یہ اتنی پرانی بات آج صبح ٹی وی پر سینیٹر قرۃ العین مری اور سینیٹر بشریٰ بٹ کی جرأت مندانہ گفتگو سن کر یاد آگئی۔ اسلامآباد میں حالیہ دنوں تولیدی صحت سے متعلق ایک بل پر شدید اختلاف سامنے آیا ہے۔ یہ بل سینیٹر قرۃ العین مری نے پیش کیا، جس کے تحت اسلامآباد کے اسکولوں میں عمر کے مطابق تولیدی صحت اور تولیدی حقوق (SRHR) کی تعلیم شامل کی جائے گی۔ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم میں پیش ہوا، جہاں کچھ ارکان نے اسے “غیراخلاقی” اور “مغربی ایجنڈے” کا نمائندہ قرار دیا۔ بہت سے چہرے اور ذہنیتیں ایک بار پھر بے نقاب ہوئیں۔
میں یہ بحث اور اعتراضات پہلی بار نہیں دیکھ رہی۔ یہ وہی پرانے خدشات ہیں، وہی نعرے، وہی الزامات — مگر شاید اب فرق یہ ہے کہ اب خاموشی ذرا زیادہ زور سے ٹوٹ رہی ہے۔ یہ ہرگز نئی لڑائیاں نہیں ہیں۔
ماضی کے بِل اور بھولی ہوئی چند کوششیں — ایک سبک رفتار نظر
2001‑2010: مختلف صوبائی سطح پر تولیدی صحت کی پالیسیوں کی تجاویز سامنے آئیں، مگر عملی اقدامات نہ ہو سکے۔
2004‑2008: EU اور UNFPA کے اشتراک سے Reproductive Health Initiative for Youth in Asia (RHIYA) منصوبہ جاری رہا، جس میں نوجوانوں کو تولیدی تعلیم اور آگاہی دی گئی۔
2005‑2008: Promoting Responsible and Healthy Behaviors (PRHB) کے ذریعے اسکول اور کمیونٹی سطح پر آگاہی مہمات چلیں۔
2008‑2013: Reproductive Health Initiative with Adolescents (RHIA) کے ذریعے بچوں، والدین اور اساتذہ کو شامل کرتے ہوئے تولیدی صحت پر مربوط کام کیا گیا۔
2010: نیشنل تولیدی صحت پالیسی تیار ہوئی، مگر اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔
2019‑2021: سندھ و پنجاب میں Comprehensive Sexuality Education (CSE) کو غیر رسمی طور پر شامل کرنے کی کوششیں ہوئیں۔
مئی 2025: بچپن کی شادی کے خلاف قانون کی منظوری (اسلامآباد) — ایک اہم پیش رفت۔
جولائی 2025: موجودہ بل پر پارلیمانی تقسیم: کچھ ارکان کی جانب سے کھلی حمایت، جبکہ کچھ کی سخت مخالفت۔

تین دہائیوں پر محیط میری اپنی خاموش جدوجہد
میں نے یہ سفر 1995 میں اسلامآباد میں سبز ستارہ کی پہلی ٹرینر کی حیثیت سے شروع کیا، جس میں پنڈی اور اسلامآباد کے ڈاکٹروں کو Contraceptive Technology پر ٹریننگ دی۔ بےمثال کامیابی کے بعد یہ پروگرام پنجاب کے مختلف شہروں اور بعد ازاں اُس وقت کے صوبۂ سرحد تک پھیلایا۔ پھر میں نے اقوامِ متحدہ کے ادارے UNFPA کے تحت آبادی اور تولیدی صحت کے امور پر کام کیا۔ 1994 کی شہرہ آفاق قاہرہ کانفرنس — انٹرنیشنل کانفرنس آن پاپولیشن اینڈ ڈویلپمنٹ — کے بعد پاکستان میں Pakistan Reproductive Health Network (PRHN) کا قیام عمل میں آیا، جس میں بطور بانی رکن اور ایک وقت میں منتخب چیئر بہت متحرک رہی۔
1998‑2002 کے دوران اپنے قائم کردہ پلیٹ فارمز سے “جہیز کے خلاف جنگ” اور “جینڈر واچ” جیسے ٹی وی پروگراموں پر صنف، تولیدی صحت، خاندانی منصوبہ بندی اور ایچ آئی وی جیسے حساس موضوعات پر کام کیا۔ اس کے علاوہ کئی کانفرنسز اور پروجیکٹس کو علمی و عالمی اداروں کے ساتھ لیڈ کیا، جن میں ایشیا کی سطح پر نوجوانوں کے لیے تولیدی صحت پروگرام کے علاوہ اسکولوں اور کالجوں کے اساتذہ، والدین اور پالیسی سازوں کو شامل کر کے نصاب اور آگاہی مواد تیار کرنا بھی شامل تھا۔ اسلام اور تولیدی صحت کے عنوان سے، مرحوم مقتول ڈاکٹر فاروق کے ساتھ ایک کتاب اردو اور انگریزی میں بھی لکھی۔
سماج سازی ایک کٹھن کام ہے؛ داغدار سمجھوتوں اور رویوں کے درمیان، بنا ایلیٹ یا اسٹریٹ پاور کے، انتہائی مشکل۔ میرے ساتھ بھی وہی ہوا جو بے طاقت اور بے لگام سچ بولنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہم عہدوں اور آسائشوں کے نہ متمنی ہیں نہ متقاضی؛ اس لیے اللہ کی مدد سے یہ سفر بغیر شور کے، مگر مسلسل جاری رہا۔
متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خُونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا، کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقۂ زنجیر میں زباں میں نے
اگر آج تولیدی صحت جیسے موضوعات پر بحث ہو رہی ہے، نوجوان سوال اٹھا رہے ہیں، والدین کچھ سمجھنے کو تیار ہیں تو یہ صرف حالیہ بل کی بدولت نہیں، بلکہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر مشتمل بہت سے گروپس اور افراد کی خاموش مگر مسلسل جدوجہد اور ایڈووکیسی کا نتیجہ ہے۔ یہ وہ کام تھا جو میڈیا کی توجہ کے بغیر، نام کے بغیر، مگر اثر کے ساتھ کیا گیا۔
اب جب سوشل میڈیا نے نوجوانوں کو آواز دی، ٹیکنالوجی نے علم کو عام کیا، تو وہ باتیں جو پہلے “شرمناک” سمجھی جاتی تھیں، اب “ناگزیر” بنتی جا رہی ہیں۔ میں نے ہمیشہ سکول سے باہر بچوں کی بات کی ہے، کیونکہ سوال صرف نصاب کا نہیں ہے۔ سکول سے باہر کے بچے کہاں جائیں؟ بل پر موجودہ توجہ خوش آئند ہے، مگر اس حقیقت کو کبھی نہ بھولیں کہ پاکستان میں لاکھوں بچے سکول سے باہر ہیں۔ ہم نصاب کی بات کر رہے ہیں، مگر جن بچوں کے پاس کتاب نہیں، قلم نہیں، وسائل نہیں، سکول ہی نہیں — وہ یہ تعلیم کیسے حاصل کریں گے؟
میری اپیل: 14 اگست 2025 تک تمام پاکستانی بچے سکول میں ہوں
یہ ڈیڈ لائن بظاہر ناقابلِ عمل لگتی ہے، لیکن یہ کوئی ہدف نہیں، آئینی حق ہے۔ اگر ریاست واقعی چاہتی ہے کہ نوجوانوں کو علم، وقار اور تحفظ دیا جائے تو سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے: “ہر بچہ، ہر بچی 14 اگست 2025 تک سکول میں ہو!”
اس کے بعد عمر کے مطابق، ثقافتی طور پر حساس اور سائنسی بنیادوں پر تیار کردہ تولیدی صحت کا نصاب مرحلہ وار متعارف کروایا جائے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب حکومتی اشرافیہ اپنی مراعات، پروٹوکول اور مراکزِ تعیش کم کرے اور تعلیم کو حقیقی قومی ترجیح بنائے۔
تنقید کا جواب — ان کی تشویش اور میرے عملی حل
اسلامآباد کے اسکول نصاب میں عمر کے مطابق تولیدی صحت اور حقوق (SRHR) شامل کرنے کے مجوزہ بل پر مختلف حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کی تشویش کو سمجھنا اور اس پر مکالمہ کرنا ضروری ہے:
سینیٹر فوزیہ ارشد (PTI):
“Parents should have the final say in what their children learn about the reproductive system.” — Daily Times
سینیٹر خالدہ اطیب (MQM‑P):
“Children are naturally curious, and we need to be careful not to introduce complex topics too soon.” — Geo
سینیٹر کامران مرتضیٰ (JUI‑F):
بل کو “ثقافتی اور مذہبی حساسیتوں” کے خلاف قرار دیا اور اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو مزید جائزے کے لیے بھیجنے کی تجویز دی — UrduPoint / APP / Nukta
ان خدشات کا تعمیری حل:
SRHR تعلیم کو سائنسی اور ثقافتی حساسیت کے ساتھ نصاب میں شامل کیا جائے
– نصاب کو سائنسی تحقیق کی بنیاد پر پرکھا جائے اور اسلامی و مقامی روایات کے مطابق علما، والدین اور ماہرین سے مشاورت کی جائے تاکہ ثقافتی تحفظات دور ہوں۔
-اساتذہ اور والدین کی تربیت لازم قرار دی جائے
– والدین خود علم رکھتے ہوئے بچوں کی رہنمائی کر سکیں اور اساتذہ بھی تیار ہوں۔
-سکول سے باہر بچوں کے لیے کمیونٹی بَیسڈ غیر رسمی تعلیم
– غیر رسمی مراکز اس خلا کو پُر کر سکتے ہیں جہاں رسمی تعلیم میسر نہیں۔
-میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مسلسل آگاہی مہمات
– ثقافتی خدشات کو صحت مند انداز میں اجاگر کیا جائے تاکہ غلط فہمیاں دور ہوں۔
-پالیسی سازی میں نوجوانوں کی شمولیت
– نوجوانوں کی رائے شامل ہو تو نصاب نہ صرف قبولیت پاتا ہے بلکہ حقیقی دلچسپیوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
اب بات صرف نصاب کی نہیں، ایک ایسے نظریے کی ہے جو بہتر، محفوظ اور بااختیار پاکستان کی بنیاد رکھے گا۔ خاموشی ٹوٹ چکی ہے؛ اب اقدام کا وقت ہے۔ اربابِ اختیار سے گزارش ہے کہ ایسے سنجیدہ مسائل کو ہمت اور کھلے ذہن کے ساتھ، اسلام کی تعلیمات، ثقافتی اقدار اور سائنسی اصولوں کی ہم آہنگی سے حل کریں . مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں، اگر صحیح لوگوں سے مشاورت کی جائے۔