کمرے میں لاش نہیں پورا معاشرہ سڑ رہا تھا

زغرب کی سڑکیں آج بھی بارونق ہیں ۔ پرانی عمارتوں کے درمیان زندگی رواں دواں ہے، ریستورانوں سے قہوے کی مہک فضا میں پھیل رہی ہے اور ہلکی بارش میں بھیگی چھتیں ایک خوبصورت منظر پیش کر رہی ہیں۔ لیکن انہیں چھتوں کے نیچے ایک ایسی کہانی بھی دفن ہے جو انسان کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔

2008 کی ایک صبح، زغرب میونسپلٹی کے دو اہلکار ایک پرانی عمارت کے دروازے پر کھڑے تھے۔ عمارت کے ایک اپارٹمنٹ کو برسوں سے خالی تصور کیا جا رہا تھا۔ کسی نے دروازہ نہیں کھٹکھٹایا، کوئی شکایت نہ آئی، کوئی آتا جاتا نظر نہ آیا۔ فائلوں میں وہ جگہ ایک بھولا ہوا نام بن چکی تھی، جسے اب کسی نئے فرد کے سپرد کیا جانا تھا۔

جب دروازہ زبردستی کھولا گیا، تو وقت جیسے ایک لمحے کے لیے تھم گیا۔ اندر داخل ہوتے ہی ایک ایسا منظر سامنے آیا جو کسی پرانی فلم کا سین معلوم ہوتا تھا ۔۔۔خاموش، ساکت، مگر دل دہلا دینے والا۔ ایک پرانا ٹی وی کمرے کے کونے میں رکھا تھا، اس کے سامنے ایک آرام دہ کرسی رکھی تھی، جیسے کوئی ابھی ابھی اُٹھا ہو۔ میز پر ایک چائے کا کپ رکھا تھا، گرد سے ڈھکا ہوا، جیسے کسی کے لبوں کے انتظار میں ہو۔ فرش پر سالوں کی گرد کی تہہ جمی ہوئی تھی، دیواریں خاموش گواہ بنی کھڑی تھیں۔

کرسی پر ہیڈویگا گولِک بیٹھی تھیں۔

مرکزِ شہر کی بھیڑ بھاڑ میں، زندگی کی گہماگہمی کے بیچ، وہ عورت 42 سال سے ایک ممی شدہ جسم کی صورت میں وہاں موجود تھی۔ ان برسوں میں کسی نے اس کی غیر موجودگی کو محسوس تک نہ کیا۔ نہ کوئی رشتہ دار، نہ دوست، نہ ہمسایہ۔ کوئی ایسا نہ تھا جس نے ایک بار بھی دروازہ بجایا ہو، یا پوچھا ہو کہ وہ کہاں چلی گئیں۔

بالکل یہی واقعہ کراچی میں عائشہ خان اور حمیرہ اصغر کے ساتھ پیش آیا ۔ نہ جانے کب ان کی روح پرواز کر گئی اور ارد گرد کے مردہ معاشرے کو خبر بھی نہ ہوئی۔

افسوس ہے اُس معاشرے پر جہاں ایک انسان یوں زندگی کی نظروں سے اوجھل ہو کر مٹی بن جائے، اور کسی کو پروا نہ ہو۔ افسوس ہے کہ ہم اپنے آس پاس موجود ان چہروں کو نہیں دیکھ پاتے جن کی خاموشی دراصل ایک پکار ہوتی ہے۔

افسوس اس بات کا بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک نیا رواج پروان چڑھ چکا ہے — "یہ اُس کی پرسنل لائف ہے، اس کی پرائیویسی ہے، ہم کون ہوتے ہیں مداخلت کرنے والے؟”

یہ جملے اب تہذیب نہیں رہے، بلکہ ایک ایسا پردہ بن چکے ہیں جس کے پیچھے انسان تنہا سسک سسک کر مر رہا ہے ۔ ہم نے "مداخلت نہ کرنے” کو ہمدردی کے متبادل کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم سب ایک دوسرے کے بیچ رہ کر بھی تنہا ہو چکے ہیں۔ خونی رشتے اجنبی ہو گئے ہیں، اور ہمسایوں کی دیوار ہم نے آسمان تک بلند کر دی ہے جس کے دوسری طرف دیکھ سکتے ہیں، نہ آواز سن سکتے ہیں، نہ دل کی کوئی دستک محسوس ہوتی ہے۔

افسوس ہے اس بے حسی پر، افسوس ہے اس ستم ظریفی پر۔

اگر ہمارا رہن سہن تھوڑا سا بھی اسلامی ہوتا، اگر ہم نے دل سے ان تعلیمات کو اپنایا ہوتا جن پر ہمارا دین قائم ہے، تو آج لاہور میں عائشہ خان کی لاش کئی دن تک فلیٹ میں نہ پڑی رہتی۔ اگر اسلامی معاشرت کا کچھ بھی عکس ہمارے رویّوں میں ہوتا تو حمیرہ اصغر کی لاش نو مہینے ایک کمرے میں تنہا نہ سڑتی۔ ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں، لیکن ہم اپنے ہمسائے کا حال تک پوچھنے کے روادار نہیں۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔”
(بخاری و مسلم)

اور فرمایا:

"جبرائیل مجھے مسلسل ہمسائے کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ شاید اسے وارث قرار دیا جائے گا۔”
(بخاری و مسلم)

قرآن کہتا ہے:

"وہ لوگ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم، اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔”
(سورۃ الانسان: 8)

اور دوسری جگہ بے حسی کی مذمت یوں کی گئی:

"کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے؟ وہی جو یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔”
(سورۃ الماعون: 1-3)

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے دکھ، درد اور حالات سے باخبر رہیں۔ ایک مومن دوسرے مومن کا سہارا ہوتا ہے، جیسے دیوار کی ایک اینٹ دوسری کو سنبھالتی ہے۔

یہ کہانی صرف ہیڈویگا کی نہیں۔
یہ صرف عائشہ خان یا حمیرہ اصغر کی نہیں۔

یہ کہانی دراصل، ہماری اجتماعی اور معاشرتی موت کی ہے، اس معاشرے کی لاش کی ہے۔

وہ لاش جو دن بہ دن گل سڑ رہی ہے۔
لیکن نہ کوئی آنکھ اسے دیکھ پا رہی ہے،
نہ کوئی دل اسے محسوس کررھا ہے۔

یہ کہانی ہمیں آئینہ دکھاتی ہے —
کہ لاشیں صرف جسموں کی نہیں ہوتیں،
بعض اوقات قومیں، ضمیر، رشتے اور انسانیت بھی مر جایا کرتی ہے…
اور ان کا کوئی جنازہ بھی نہیں ہوتا۔
ہم مر چکے ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے