مادر علمی: انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

یونیورسٹیاں اور تحقیقی مراکز انسانی سماج کے وہ بیش قیمت مقامات ہوتے ہیں جو نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر انہیں ایک تابناک مستقبل کے لیے تعلیم و تربیت کے ذرائع سے کام لے کر تراشتے ہیں اور پھر یہیں نوجوان قوموں کا مستقبل بن کر ان کی تہذیبی، روحانی، اخلاقی، ذوقی، ذہنی، سیاسی، معاشی، مادی اور سائنسی سطح کو بلند سے بلند تر کرنے میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کر رہے ہیں۔ تعلیم کے بغیر کوئی قوم طاقتور بن سکتی ہے نہ ہی ترقی یافتہ، منظم ہو سکتی ہے نہ ہی شعور یافتہ اور مہذب رہ سکتی ہے نہ ہی محفوظ۔ اس لیے تعلیم قوموں اور معاشروں کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے اس کے بغیر قوموں کی بقاء ممکن ہے نہ ارتقاء۔ عالم رنگ و بو میں قدرت نے بے شمار امکانات اور لامحدود قوتیں بھر دی ہے لیکن وہاں تک صرف اور صرف تعلیم یافتہ لوگوں اور قوموں کی نظریں اور عقلیں ہی پہنچ سکتی ہیں۔

یہ 1997ء کی بات ہے میں اور میرا قریبی دوست ضیاء الدین ہائیر سیکنڈری اسکول لعل قلعہ ( دیر میدان) کے طالب علم تھے اور ساتھ ہی ساتھ محترم ڈاکٹر رشید احمد صاحب (چیئرمین شیخ زید اسلامک سنٹر، پشاور یونیورسٹی) سے عصر اور مغرب کے درمیان صرف و نحو کی ابتدائی کتب بھی پڑھ رہے تھے۔ ڈاکٹر رشید احمد صاحب ایک فہمیدہ، جہاندیدہ، سنجیدہ، قدیم و جدید علوم کا خزینہ ایک دانشمند اور دوراندیش انسان ہیں۔ وہ ہمیں نہایت توجہ اور محبت سے نہ صرف پڑھاتے تھے بلکہ ساتھ ساتھ بنیادی انسانی اور اخلاقی تربیت بھی کر رہے تھے۔ وہ خود ایک شاندار تعلیمی کیریئر کے حامل انسان ہیں انہوں نے ایف ایس سی نثار شہید کالج رسالپور سے (پری میڈیکل)، درس نظامی جامعہ اسلامیہ صدر راولپنڈی سے (ممتاز درجے میں)، ایم فل اصول الدین اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے (گولڈ میڈلسٹ) اور اسلامی قانون میں پی ایچ ڈی پشاور یونیورسٹی سے امتیازی شان میں کیا ہیں۔ انہوں نے ہمارے خوابیدہ ذہنوں میں اسلامک یونیورسٹی کا خواب سجا دیا اور ہمیں سمجھایا کہ اگر زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو دس سال کے لیے اپنی ماں کے ہاتھوں بنی نرم روٹیاں، گرم کڑائیاں بھول جائیں اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کو اپنی منزل بنا دیں۔ وہ چار باتیں تواتر سے کرکے ہماری رغبت میں اضافہ کرتے!

1: کہا کرتے تھے کہ "اسلامک یونیورسٹی سے میں علمی طور پر جتنا فیضیاب ہوگیا ہوں وہ بیان نہیں کر سکتا، جو کچھ میں نے یہاں سے پایا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے، میں روزانہ دو رکعت نفل پڑھ کر دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسلامی یونیورسٹی کو قیامت تک قائم رکھے تاکہ ملت اور امت کے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کا فیض مسلسل پہنچتا رہے”۔

2: کہا کرتے تھے کہ "اسلامی یونیورسٹی کی خصوصیت ہے کہ یہ اپنے طلباء کو کبھی ضائع نہیں ہونے دیتی، کوئی اگر ہمت کر کے وہاں سے کوئی ڈگری لینے میں کامیاب ہوں تو کہیں نہ کہیں ضرور پہنچتا ہے، ایسے نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے حوالے سے فکر مند بالکل نہیں ہونا چاہیے۔

3: کہا کرتے تھے (ہنستے ہوئے) کہ "افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے طلباء اسلامک یونیورسٹی کا حقیقی "حسن” ہیں ان کا یہاں کے ثقافتی اور تہذیبی تنوع میں ایک اہم کردار ہوتا ہے۔

4: کہا کرتے تھے کہ "اگر آپ نام و نمود کے خواہشمند ہیں تو پھر بے شک باہر کی کسی یونیورسٹی میں داخلہ لیں لیکن اگر آپ کو علم سے غرض ہے تو پھر اسلامی یونیورسٹی ہی بہترین آپشن ہے”۔

ان ہی باتوں اور رہنمائی کا نتیجہ تھا کہ ہمارے دلوں میں، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں داخلے کی خواہش نقش ہوگئی اور یوں 2004ء کو اللہ تعالیٰ نے وہاں پہ داخلے کا موقع سکالرشپ پہ عنایت کیا۔ 2011ء کو فراغت پانے پر عملی زندگی کا آغاز کیا، اب اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اطمینان کے ساتھ زندگی بسر ہو رہی ہے اور واقعی کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو کسی بڑی پریشانی کا باعث بنے۔

عالمگیر شہرت اور معیار کی حامل انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، سابق صدر مملکت محمد ضیاء الحق کے دور حکومت میں 1980ء کو ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت قائم ہوئی۔ آغاز ایک فیکلٹی اور چند طلبہ سے ہی ہوا تھا جو کہ رفتہ رفتہ ترقی کرتے ہوئے 1985ء کو اسے بین الاقوامی درجہ دیا گیا۔ تب سے اب تک یہ ایک خود مختار تعلیمی ادارے کی حیثیت سے اعلیٰ تعلیم کے عالمی خدمات کی فراہمی میں اپنا کردار خوش اسلوبی سے انجام دے رہی ہے۔ آئین کے تحت صدرِ پاکستان یونیورسٹی کے چانسلر ہوتے ہیں جبکہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر احمد بن سعد الاحمد یونیورسٹی کے موجودہ صدر ہیں۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کا بورڈ آف ٹرسٹیز عالم اسلام کے معروف اور ممتاز علمی شخصیات پر مشتمل ہے۔ فی الحال یونیورسٹی 10 فیکلٹیز، 40 ڈیپاٹمنٹس اور 6 اکیڈمیز پر مشتمل ہے جبکہ مجموعی طور پر 135 تعلیمی پروگراموں میں 50 ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 35 ہزار طلباء و طالبات زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 10 میں یونیورسٹی کو حکومت پاکستان نے تقریباً ایک ہزار ایکڑ زمین آلاٹ کی ہے تاکہ وہاں پہ یونیورسٹی کا مین کیمپس تعمیر ہو سکے، اب تعمیراتی عمل مسلسل جاری ہے اور کافی حد تک کام مکمل ہو چکا ہے۔ اسلامی یونیورسٹی ایک منفرد، کامیاب، عالمی اور معیاری تعلیمی منصوبہ ہے۔ اسلامی یونیورسٹی اپنے معیار، خصوصیات، وسعت، تنوع، رقبے، تحقیقی حجم، مسلکی ہم آہنگی، معتدل انداز فکر، ثقافتی رنگا رنگی اور سماجی حیثیت کے اعتبار سے ایک ممتاز مقام کی حامل ہے۔ یونیورسٹی کے اثرات اور خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے اب مزید کئی منصوبے زیرِ غور ہیں تاکہ عالمی حالات اور تقاضوں کے مطابق سکالرز اور اہل علم تیار کرنے، مسلم امہ کے نوجوانوں میں صلاحیتوں کو بہترین انداز میں نکھارنے اور انہیں ترقی دینے اور اعلیٰ علمی تحقیق اور عملی ہم آہنگی کے لیے مطلوبہ ماحول بن سکے۔ مقصد اس اہتمام سے یہ ہے کہ اقوام عالم میں امت مسلمہ کا وقار بلند ہو اور عالمی سطح پہ باہمی ہم آہنگی، اشتراک کار، مفاہمت، امن اور احترام کے لیے ضروری اسباب مہیا ہو سکیں۔

اسلامی یونیورسٹی کے عمومی ماحول کو غیر ملکی پروفیسروں، وسیع و عریض اور دنیا بھر سے منسلک لائبریریوں، سالانہ تعلیمی و ثقافتی نمائشوں، نماز جمعہ کے بڑے بڑے اجتماعات، رمضان المبارک کے بابرکت لمحات اور معمولات، کھیل کود کے مقابلوں سے آباد اور پر رونق میدانوں، ہزاروں کی تعداد میں بیرونی طلبہ کی موجودگی، مختلف موقع و محل کے مطابق مختلف زیر بحث موضوعات پر سیر حاصل کانفرنسوں، سرسبز و شاداب لانوں اور مقابلے کی صحت مند عمومی فضا نے نہایت آسودہ بنایا ہوا ہے۔ یونیورسٹی کی ایک قابل تقلید کنٹربیوشن یہ بھی ہے کہ وقت بہ وقت دینی مدارس کے طلبہ کو سکالرشپس فراہم کر رہی ہے۔ یہ اقدام ایک طرف دینی مدارس کے طلبہ کو سماجی دھارے میں لانے کے حوالے سے نہایت موثر ثابت ہو رہا ہے بلکہ مجموعی طور پر ملک میں مسلکی ہم آہنگی کے سلسلے میں ایک قابل قدر کاوش بھی ہے۔

اسلامی یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہ کر نوجوانوں کو بے شمار علمی اور عالمی مواقع میسر آتے ہیں بلخصوص عالمی سکالرشپس، بین الاقوامی دوستیاں اور تعلقات، تہذیبی آگاہی، مختلف زبانوں سے شناسائی اور نوع بہ نوع مزاجوں کے ساتھ جڑ کر رہنے اور مشترک اہداف کے لیے مل کر قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھنے کی صلاحیت اور حوصلہ بندے میں پیدا ہو رہا ہے۔ میرے بھی کئی غیر ملکی طلباء سے دوستیاں قائم ہوئی تھی۔ جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا اور جنہوں نے میرے ذہنی افق کو وسعت اور گہرائی بخشی۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والا ایک گبرو جوان جو سب کا دوست بلکہ آنکھوں کا تارا تھا آمین اللہ ہمدرد، موصوف جذبوں، صلاحیتوں، قابلیت، اخلاق اور قائدانہ خوبیوں کا ایک پورا خزانہ تھا۔ میں اس کی شخصیت، کردار اور صلاحیتوں سے بے حد متاثر تو تھا ہی بلکہ ٹھیک ٹھاک دل سے قدر دان بھی۔ اس کا مقام ہمیشہ آگے ہوتا تھا تعلیم، خدمت، گپ شپ کی محفلوں، کھیل کود کے میدان، ہم نصابی سرگرمیوں اور سالانہ ثقافتی میلوں میں وہ سب پہ حاوی نظر آتا۔ ثقافتی میلوں میں جنتے انعامات سارے طلبہ مل کر وصول کرتے اتنے ہی وہ اور اس کی ٹیم اکیلے جیت جاتے۔ ڈائس پر کھڑا میزبان مسکرا مسکرا کر ہر دوسرا نام اس کا لیتا اور اس کا نام سن کر ھال توصیفی تالیوں سے خوب گونج اٹھتا۔

چین سے تعلق رکھنے والا ایک طالب علم بھی حلقہ احباب میں شامل تھا وہ ہمیشہ مزے لے لے کر ایک "دانشمندانہ” تجزیہ پیش کرتا کہتا تھا پاکستانی خواتین "نمکین حسن” (کشش اور جاذبیت) رکھتی ہیں جبکہ چینی خواتین بالکل الٹ طرح کا حسن رکھتی ہیں یعنی کشش اور جاذبیت کے بغیر ہوتی ہیں۔ ببانگ دہل کہا کرتا تھا "چینی خواتین میں کوئی کشش نہیں ہوتی”۔ انسانی ذوق ایک بے حد پیچیدہ جوہر ہے یہ سب دراصل ذوق ذوق کی بات ہے کہ کوئی انہیں خواتین کی وجہ سے چین کو پریوں کی سرزمین کہتے ہیں اور کوئی وہاں کے حسن کو یکسر "کشش سے خالی” قرار دیتے ہیں۔

ایک جاپانی نو مسلم ڈیڑھ سال میرے میزبانی میں رہے تھے۔ وہ بھی نہایت ذہین و فطین، دلچسپ، باصلاحیت اور خوش اخلاق نوجوان تھا اس سے میرے بارے میں جب کوئی پوچھتا تھا کہ عنایت کا سلوک آپ سے کیسا ہے؟ تو دل آویز مسکراہٹ سے جواب دیتا "عنایت بہت ہی عمدہ انسان ہے”۔ ایک مرتبہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا عنایت! جانتے ہو اخلاص کا سب سے اونچا درجہ کون سا ہے؟ میں نے بتایا ہر فرد کا اپنا اندازہ ہوتا ہے تاہم اس وقت آپ کے نقطہ نظر جاننے سے مجھے خوشی ہوگی تو بتایا "اعمال اور ترجیحات کے لیے دل میں اللہ تعالیٰ سب سے بڑا محرک بن جائے تو یہ اخلاص کا سب سے اونچا درجہ قرار پاتا ہے”۔ یاد رہے موصوف نے مولانا مودودی رحمہ اللہ کی کتب پڑھ کر اسلام قبول کیا تھا۔

میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے ایک خاص قسم کی خلش نے میرے دل کا چاروں جانب سے احاطہ کیا ہے اور وہ یہ کہ آخر عالم اسلام میں سائنسی رجحان کیوں پنپ نہیں رہا؟ سائنسی علوم کو فروغ کیوں نہیں مل رہا؟ سائنسی تحقیق کیوں دماغ میں جگہ نہیں پکڑ رہی؟ اور یہ کہ مسلم ممالک میں سائنسی ترقی (مالی اور مادی نہیں) کیوں اجنبی بن کر رہ گئی ہے؟ جہاں تک سوچا ہوں اور کم نہیں کافی زیادہ سوچا ہوں تو جس نتیجے پر پہنچا ہوں وہ یہ کہ اس پسماندگی اور زوال کے بنیادی اسباب ہماری تاریخ اور سیاسی نظام میں پیوست ہیں۔ گزشتہ چار پانچ صدیوں کی تاریخ اور سیاسی ماحول اس حقیقت پر شاہد ہے کہ سائنس نے ملی توجہ، وسائل، پالیسیوں، اہمیت، محبت اور جذبے میں کوئی خاص جگہ نہیں پائی ہے۔ اسلامی یونیورسٹی، جو کہ مملکت خدا داد کے ایک اہم تعلیمی ادارے کی حیثیت پر فائز ہے، ایک سابق طالب علم کے طور پر، زعماء کے سامنے یہ سوال اور خلش رکھنے میں حق بجانب ہوں کہ سائنسی علوم اور تحقیق کے راستے میں عصر حاضر کے تناظر میں آخر کیا کیا رکاوٹیں حائل ہیں اور ان کا ممکنہ حل کیا ہے؟؟؟ نیز سائنسی رجحان، علوم اور اہمیت میں اضافہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟ اس موضوع کو جتنا ممکن ہو تحقیق اور توجہ کا عنوان بننا چاہیے اور نوجوانوں میں سائنسی رجحان کے حوالے سے کوئی قابل عمل، لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ یہ ملت کی بہت بڑی خدمت تصور ہوگی۔

زمانہ طالبعلمی میں چونکہ میں خود ایک تنظیم کا سرگرم کارکن رہا ہوں ( جمعیت طلبہ عربیہ کے) اس لیے مجھے اسلامک یونیورسٹی میں طلباء تنظیموں کو قریب سے دیکھنے اور ان سے وابستہ کارکنوں کے اخلاق و عادات اور مزاج و رویوں کو اہتمام سے ملاحظہ کرنے کے مواقع کثرت سے میسر آئے ہیں۔ میں بطورِ واقعہ یہ اعتراف کر رہا ہوں کہ اپنے تنظیمی ڈھانچے، نظریاتی کردار، مثبت رجحانات، تعمیری سرگرمیوں، ضروری خدمات اور حوصلہ افزا اثرات کے اعتبار سے اسلامی جمعیت طلبہ سب پر بھاری ہے۔

اسلامی جمعیت طلبہ نے ہمیشہ تعلیمی معاونت، اخلاقی تربیت، اسلامی تعلیمات کی ترویج، طلبہ مسائل کے حل اور تعلیمی ماحول کی حفاظت میں ہر آن مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کی بنیادی طاقت اس کے صالح، باصلاحیت، خوش اخلاق، پرعزم، ذہین و فطین، نرم خو اور مددگار، منظم، سنجیدہ اور تیز و طرار کارکن ہی ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دس بیس نہیں بے شمار ایسے مواقع دیکھے ہیں کہ جن میں اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنا مثبت، تعمیری اور تعلیم دوست کردار ادا کیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں رنگ، نسل، زبان، مسلک اور علاقے کی بنیاد پر لوگوں میں تعصب پیدا کیا جا رہا ہے اور ان کو نفرت کرنا سیکھایا جاتا ہے ایسے میں اصولی اور نظریاتی بنیادوں پر تعمیری اور مخلصانہ طور پر کام کرنا بلا شبہ ایک بیش قیمت خدمت ہے جس کا اعتراف ہر سطح پہ ہونا چاہیے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے اسلامی یونیورسٹی کے حوالے سے بعض سنگین قسم کے واقعات اور واردات رپورٹ ہو رہے ہیں یہ نہ صرف اسلامی یونیورسٹی کے تشخص اور ماحول کے لیے زہر قاتل ہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے شدید تشویش اور بے چینی کا باعث بھی ہیں۔ ہم یونیورسٹی انتظامیہ اور حکومت وقت سے دردمندانہ گزارش کرتے ہیں کہ یونیورسٹی کے ماحول اور حالات کو خراب ہونے سے بچایا جائیں اور اس سلسلے میں اپنی اپنی ذمہ داریاں خلوص اور اہتمام سے پوری کریں تاکہ ایک وقیع علمی اور تہذیبی مرکز تباہی سے بچ سکے۔

میری دعا ہے اللہ تعالیٰ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کو تا قیام قیامت قائم رکھے تاکہ صحت مند علمی، انسانی، اخلاقی، عالمی مزاج اور اقدار مسلسل فروغ پائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے