طارق پٹھان: ایک اہم محقق اور بہترین مربی

طارق پٹھان ایک ذہین و فطین، بیدار مغز و دلچسپ اور صحت مند سوچ و اپروچ کے حامل نوجوان، جس کا کام بلاشبہ لمحہ موجود میں ایک بہت بڑی نعمت سے کم نہیں۔ آپ کا انداز سائنٹیفک اور دلچسپ، پیشکشیں عالمانہ اور معلوماتی نیز تمام موضوعات وقت اور حالات کی مناسبت سے اہم و بامعنی ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے بارے میں طارق پٹھان اکثر و بیشتر کہتے رہتے ہیں، "سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے، اس کو ہتھیار بنا کر مختلف مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا اپنے ہی پیروں میں گرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے”۔”

طارق پٹھان کے لیکچرز نے پشتون نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا یہی وجہ ہے کہ لوگ سوشل میڈیا کے تفریحی استعمال کو ترک کر کے باقاعدہ اس کا تعلیمی، کاروباری یا پیشہ ورانہ استعمال کی طرف آ رہے ہیں مثلاً دو ہزار انیس میں، طارق پٹھان کے ایک لیکچر "وقت کی قدر” نے مردان کے ایک نوجوان کو یوٹیوب کی بے مقصد اسکرولنگ چھوڑ کر آن لائن کاروبار شروع کرنے پر آمادہ کر دیا، جو آج ایک کامیاب ای-کامرس ویب سائٹ چلا رہا ہے۔ اس طرح ان کی پیشکشوں کے اثرات مثبت اور تعمیری رجحان کو فروغ دینے کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق "ان کے یوٹیوب چینل کے سبسکرائبرز میں سے 78% نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ان کے لیکچرز نے ان کی سوچ اور روزمرہ کے انتخاب کو تبدیل کر دیا ہے”۔ اپنے ایک حالیہ لیکچر میں ان کا کہنا تھا کہ "ماہانہ ہمارے چینلز اور پیجز تک لوگوں کی رسائی ایک کروڑ کچھ زیادہ ہے”۔

سوشل میڈیا کا استعمال مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں رکھتا ہے اور ان دونوں کے درمیان شدید کشمکش جاری ہے۔ کہیں پہ یہ غفلت و لاپرواہی، تخریب کاری و جرائم، فحاشی و عریانی، وقت اور مواقع کے ضیاع جیسے نتائج چھوڑ رہا ہے اور کہیں پہ یہ علم و شعور، احساس و ادراک، خدمت و معاونت، کاروبار اور مواقع دلا کر ذہنی اور سماجی دائروں میں زبردست بہتری لا رہا ہے۔ بس سوشل میڈیا عصر حاضر کے انسان کے لیے خیر و شر کے حوالے سے ایک کڑا امتحان ہے کوئی چاہے تو اس امتحان میں عقل و شعور سے کام لے کر کامیاب و کامران ٹھہرے اور کوئی چاہے تو وقتی تفریحات کے نشے میں پڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اندھیروں میں گم ہو جائے۔ مختصر یہ کہ سوشل میڈیا ایک نشہ اور تماشہ بھی ہے جبکہ موقع اور وسیلہ بھی۔ طارق پٹھان کا سارا زور اس بات پر صرف ہو رہا ہے کہ نوجوان سوشل میڈیا کو محض تماشا بنانے کی بجائے اس کے ذریعے طرح طرح کی مہارتیں سیکھ کر اپنی زندگی بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

دوسرے اسپیکرز یا سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے مقابلے میں طارق پٹھان ممتاز حیثیت کے حامل ہیں۔ مثالا
"عام سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے برعکس، طارق پٹھان صرف تنقید نہیں کرتے یا صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بنتے بلکہ ہر متعلقہ مسئلے کے حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے عملی حل بھی پیش کرتے ہیں، مثلاً "ڈیجیٹل ڈسپلن” کے عنوان سے ان کا ایک مرحلہ وار پروگرام کافی موثر ثابت ہوا۔ طارق پٹھان کے بارے میں ایک سماجی محقق ڈاکٹر عائشہ کا کہنا ہے، کہ "طارق پٹھان کی انسانی نفسیات پر گہری گرفت اور علم کو عام فہم انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت نایاب ہے”۔ طارق پٹھان زبان کے ساتھ ساتھ قلم کا بھی شہسوار ہے۔ اس کا کئی پروجیکٹس پر کام جاری ہے۔ طارق پٹھان کا ایک کتاب "ڈیجیٹل دور میں اسلامی اخلاقیات” کے مسودے پر کام جاری ہے، جو کہ رواں برس منظر عام پر آ جائے گی۔

طارق پٹھان 35 سے 40 سال کے درمیان ایک وجیہہ جوان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت ہے۔ رہائشی تعلق تخت بھائی ضلع مردان سے ہے۔ آپ بنیادی طور پر شعبہ تعلیم سے منسلک جبکہ مشنری جذبے کے تحت سوشل میڈیا کا استعمال کر رہا ہے۔ سمارٹ ہیں، خوبصورت ہیں، مہذب ہے، شریف و نفیس ہے، انسانی نفسیات کا گہرا ادراک رکھتا ہے نیز لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بہترین انداز و اطوار اور کلمات و اصطلاحات کا استعمال بھی جانتا ہے۔ پشتون اقدار و روایات اور زبان و بیان کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ لوکل اور گلوبل دونوں ایشوز پر گہری نظر رکھتا ہے اور ان میں موجود امکانات اور چیلنجوں کے موازنے کے لیے درکار گہری بصیرت سے اللہ تعالیٰ نے خوب نوازا ہے۔

طارق پٹھان کے لیکچرز علم و شعور کا جاری چشمہ ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے بے مقصد اور تخریبی استعمال نے جہاں نوجوانوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، وقت اور اخلاق کا سرمایہ اس علت کی وجہ سے تباہ ہو رہا ہے اور ہر طرف بربادی کے واقعات رقصاں ہیں، ایسے عالم میں طارق پٹھان جیسے لوگوں اور ان کے کام کی قدر و قیمت اور بڑھ جاتی ہے۔ ذہنی انتشار اس دور کا سب سے بڑا مسئلہ ہے یہی وجہ ہے کہ ایک طرف لوگوں میں قوت فیصلہ کا شدید فقدان ہے تو دوسری طرف زندگی میں مقصد کا تعین کر کے اس کے حصول پر اپنا ذہن اور صلاحیتیں مرکوز رکھنا سخت مشکل لگ رہا ہے۔ طارق پٹھان اور اس جیسے دوسرے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس تناظر میں نوجوانوں کو باقاعدہ ٹریننگ دے تاکہ لوگ بالخصوص نوجوان ذہنی انتشار کے عارضے پر قابو پانے میں کامیاب ہوں۔

طارق پٹھان ایک باشعور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہے جو کہ نہ صرف اسلام کو باقاعدہ ایک نظام حیات یقین کر رہا ہے بلکہ اپنے خدا داد علم و عقل سے اس کو انسانیت کے لیے بہتر اور بالاتر اصول اور اقدار کا حامل ثابت بھی کر رہا ہے۔ اس کا نقطہ نظر محض عقیدت اور خوش فہمی پر نہیں بلکہ بصیرت اور تحقیق پر مشتمل ہوتا ہے یہی خوبی اس کا طرہ امتیاز ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اپنے کام کو اعلی معیار اور مقدار کے ساتھ جاری رکھنے کے لیے اسے قدرت کے خزانوں سے مطلوبہ جذبہ، حکمت، توانائی اور دوسری شخصی خوبیاں فراوانی کے ساتھ میسر ہیں۔

طارق پٹھان مسلسل لوگوں کی تربیت اور بیداری میں مصروف عمل رہتا ہے۔ خالی دعووں اور نسبتوں کی بجائے آپ علم اور محنت سے اپنی تقدیر بدلنے کے نظریے کا عالم بردار ہے۔ آپ اکثر و بیشتر تازہ ترین اہم عالمی اور علمی موضوعات پر اظہار خیال کر رہا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ علم و آگہی میں خاطر خواہ اضافہ بھی۔ ان کی خدمت میں میری یہ بھی تجویز ہے کہ وہ ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھیں جو باقاعدہ کے پی کے کے نوجوانوں کو مقابلے کے امتحانات کے لیے تیار کر سکیں اور عالمی و علاقائی دائروں میں موجود نت نئے کاروباری مواقع اور امکانات کی طرف انہیں موثر انداز میں راغب کر سکیں۔ اس اقدام سے معاشرے کو کما حقہ فائدہ پہنچ سکے گا ان شاءاللہ۔ اس کے علاؤہ مختلف وجوہ سے پشتون نوجوان سیاسی عمل سے نالاں اور ریاست سے سخت شاکی ہیں۔ طارق پٹھان کو چاہیے کہ ان پہلوؤں کو ذہن میں رکھ کر پشتون نوجوانوں کو مخاطب کریں اور انہیں جذباتیت کا شکار ہونے سے بچا کر سنجیدہ سیاسی عمل میں شریک ہونے کی دعوت دے اور انہیں جدید ترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے لیس ہو کر اپنی تقدیر خود بدلنے پر آمادہ کریں، لمحہ موجود میں یہ اس کی بہت بڑی انسانی خدمت تصور ہوگی۔

طارق پٹھان کے حوالے سے میری تمام نوجوانوں کو مخلصانہ نصیحت ہے کہ آپ ان کو فالو کریں اور اس کے معلومات اور علم سے استفادے کا اہتمام کریں۔ ان شاءاللہ اس کو آپ توقع سے کہیں زیادہ مفید پائیں گے۔ طارق پٹھان اسلامی سوچ اور اپروچ کے حامل اور مولانا مودودی رحمہ اللہ کے زبردست معتقد ہے۔ طارق پٹھان سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کو باقاعدہ اپنے استاد قرار دیتا ہے اور کہتے ہیں "میں نے قرآن کریم ان سے سمجھنے کی کوشش کی ہے”۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ طارق پٹھان کو اپنے خزانوں سے طویل زندگی، عمیق صحت، کثیر خوشیاں اور بے تحاشہ برکتیں عطا فرمائیں اور مخلوق خدا کو ان سے وسیع پیمانے پر مستفید ہونے کے مواقع عطا فرمائے۔

طارق پٹھان جیسے روشن خیال افراد ہمارے معاشرے کا اثاثہ ہیں۔ ان کا کام نہ صرف موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کا راستہ دکھاتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کی آواز کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں، جو کچھ وہ ہمیں سمجھانا چاہتا ہے اس پر ہم غور کریں اور اپنے اپنے حصے کا مثبت کردار ادا کریں کیونکہ طارق پٹھان خود کہتا ہے کہ "تبدیلی کی پہلی سیڑھی خود آگاہی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے