کلیاتِ حمد و نعت: ام عبد منیب کی نعتیہ ریاضت کا حسین ثمر

ادب کی دنیا میں بعض کتابیں صرف شعری مجموعے نہیں ہوتیں بلکہ اپنے مصنف یا مصنّفہ کی زندگی کے عقائد، جذبات اور روحانی سفر کی جھلک بھی پیش کرتی ہیں۔ “کلیاتِ حمد و نعت” از ام عبد منیب (بلقیس امتہ) بھی ایسی ہی ایک گراں قدر تصنیف ہے جو نعتیہ ادب کے خزانے میں نہایت حسین اضافہ ہے۔

ام عبد منیب کے قلم کو نعت گوئی کی طرف مائل کرنے والا اصل محرک ان کے والد کی ذات تھی، جن کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کی کیفیت ان کے دل میں ہمیشہ تازہ رہی۔ محض آٹھ نو برس کی عمر میں نعت سننا اور کہنا ان کے ذوق کا حصہ بن گیا۔ گھریلو ماحول میں نعتیہ ادب کی پرورش، بھائی ڈاکٹر افتخار الحق ارقم کے ساتھ شعری اور دینی شغف اور نعتیہ ادب کے مطالعے نے ام عبد منیب کی تخلیقی شخصیت کو مزید جِلا بخشی۔

ان کی نعت گوئی محض الفاظ کا سنگھار نہیں بلکہ توحید، شرک سے بیزاری اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عملی پیروی جیسے افکار کا عکاس بھی ہے۔ ان کے قلم کی روانی اور دل کی سچائی اس بات کی ضامن ہے کہ ان کا کلام قاری کے دل پر اثر کرتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو تازہ کرتا ہے۔

"کلیاتِ حمد و نعت” دراصل کئی نعتیہ مجموعوں کا سنگم ہے، جس میں چھ مجموعے شامل ہیں:

* لواء الحمد (غیر مطبوعہ)
* مدح مزمل (مطبوعہ)
* تجھ پہ لاکھوں سلام اے طیبہ (غیر مطبوعہ)
* مدح محبوب
* کلام معطر
* نعتیہ بیت بازی

یہ مجموعہ صرف ام عبد منیب کی ذاتی تخلیقی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ صدیوں پر محیط نعتیہ روایت کا تسلسل بھی ہے، جس میں حسان بن ثابتؓ سے لے کر اقبال، حالی، مظفر وارثی، اور حفیظ تائب جیسے بڑے نام جگمگا رہے ہیں۔ مؤلفہ نے اسی درخشاں روایت سے فیض لے کر اپنے خیالات کو کاغذ پر منتقل کیا ہے۔

کتاب کی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف نعتیہ اشعار کا گلدستہ نہیں بلکہ اس میں مؤلفہ کی زندگی، ان کے جذبات، اور دینی وابستگی کا عکس بھی نظر آتا ہے۔ ان کا کلام جذبۂ عشق سے لبریز اور فنّی اعتبار سے پختہ ہے۔ زبان سادہ مگر مؤثر، مضامین متنوع اور جذبات کی شدت دل کو چھو لیتی ہے۔

یہ بات نہایت مسرت کی ہے کہ "کلیاتِ حمد و نعت” کو حکومت پاکستان نے 2024ء/1446ھ میں قومی مقابلہ کتبِ نعت میں اول انعام سے نوازا۔ اس اعزاز نے نہ صرف مؤلفہ کی محنت کو سراہا بلکہ اردو نعتیہ ادب کو بھی نئی توانائی بخشی۔

ام عبد منیب کا یہ کارنامہ اُن سب اہلِ ذوق کے لیے ایک تحفہ ہے جو نعت کو محض شاعری نہیں بلکہ روح کی غذا سمجھتے ہیں۔ ان کا کلام پڑھتے ہوئے دل سے بے اختیار دعا نکلتی ہے:
گر قبول افتد، زہے عز و شرف!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے