ڈاکٹر روتھ فاؤ کے لیے میرے دعائیہ کلمات پر ایک صارف کی جانب سے حیرت کا اظہار، ناچیز کا جواب اور ایمان کی کمیسٹری

کچھ عرصہ قبل ایک سوشل میڈیا صارف قدسیہ ملک نے ڈاکٹر روتھ فاؤ کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں اپنی انسانی خدمات کے اعتراف میں زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ

"اس نے مرنے سے پہلے تین خواہشات کا اظہار کیا تھا:

1- میرا علاج کسی صورت وینٹی لیٹر پر نہ کیا جائے۔
2- میری میّت "لپریسی سینٹر” سے اٹھائی جائے۔
3- میری تدفین عروسی لباس پہنا کر کی جائے۔

میت لپریسی سینٹر آئی تو سب کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ ان کی تیسری خواہش کا بھی احترام کیا گیا سرخ جوڑا پہنا کر تابوت میں لٹایا گیا تو سکون ان کے چہرے پر عیاں تھا۔

ڈاکٹر روتھ فاؤ نے شادی نہیں کی تھی، راہبہ تھیں، اپنے عقیدے کے مطابق انہوں نے دنیا تیاگ دی تھی۔ شائد وہ آخرت میں خداوند سے خوشیوں اور سرخ جوڑے کی تمنا رکھتی ہوں گی۔

29 سالہ جرمن ڈاکٹر نے 1961ء میں کراچی کی ایک "کچی بستی” میں قیام کا فیصلہ کیا تو سب حیران رہ گئے۔ تب لوگ کوڑھ کے مریضوں کو لاعلاج سمجھ کر گھر سے باہر ڈال دیتے تھے تاکہ باقی افراد اس موذی مرض سے محفوظ رہ سکیں اور وہ مریض وہیں سسک سسک کر مرتے رہتے۔

وہ مریض جنہیں لوگ اپنے ہاتھ تک نہیں لگاتے تھے ڈاکٹر روتھ فاؤ نے ان کے علاج کا بیڑہ اٹھایا۔ روتھ فاوُ نے ابتداء میں آئی آئی چندریگر روڈ سے متصل ریلوے کالونی میں ایک ہسپتال کی بنیاد رکھی اور کوڑھ کے مریضوں کا علاج شروع کر دیا۔

انہوں نے پاکستان میں جزام کے علاج کے لئیے 157 کلینکس قائم کئیے جہاں تقریباً ستاون ہزار مریضوں کا علاج کیا گیا۔
عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کو لپریسی کنٹرول کرنے والا ملک قرار دے دیا۔

1988ء میں انہیں پاکستانی شہریت کا اعزاز دیا گیا
یہ پاکستان میں اپنی زندگی کے 55 سے زائد برس ایک چھوٹے سے کمرے میں تنہا رہیں۔ چارپائی نما بستر سرہانے رکھا کولر میز پر چند کتابیں اور سائڈ میز پر رکھے کچھ ضرورت کے برتن۔ یہ ان کی کل کائنات تھی۔

روتھ فاؤ نے کبھی اپنی یا اپنے کام کی تشہیر نہیں چاہی خاموشی سے کام کرتی رہیں اور 87 سال کی عمر میں 10 اگست 2017ء کو خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
ان کی وفات کے بعد ان کی میت کو اسٹیٹ پروٹوکول دیا گیا اور وہ گورا قبرستان کراچی میں آسودہ خاک ہیں۔
انہیں حکومت پاکستان نے ان کی گرانقدر خدمات کے عوض ہلال پاکستان، ہلال امتیاز، ستارہ قائد اعظم اور نشان قائداعظم جیسے اعلیٰ تریں ایوارڈز اور اعزازت سے نوازا۔

ایک اکیلی روتھ فاؤ نے خاموشی سے پاکستان سے کوڑھ جیسے موذی مرض کا خاتمہ کر دیا۔

آج جب لوگ تمام تر وسائل کے باوجود کہتے ہیں کہ ہمیں کام نہیں کرنے دیا گیا ورنہ ہم پاکستان کو کیا بنا دیتے تو ڈاکٹر روتھ فاوُ یاد آجاتی ہیں کہ کام کرنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خدمت کے جذبے، عزم اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے”۔

اس پوسٹ پر میں نے کمنٹ کرتے ہوئے لکھا کہ

"ڈاکٹر روتھ فاؤ ایک غیر معمولی خاتون تھیں اللہ انہیں سکون اور آسودگی عطا فرمائے”۔

میرے اس کمنٹ پر ایک اور صارف بنت ضیاء نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ

"یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ ایک غیر مسلم کو اللہ تعالیٰ کیسے سکون عطا فرمائے گا مرنے کے بعد ؟؟ غیر مسلموں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ،،ان کو دنیا میں ہی ان کی خدمات اور اچھے کاموں کا صلہ دے دیا جاتا ہے ۔۔ مرنے کے بعد صرف مسلمانوں کے لیے جنت کا وعدہ ہے ۔۔ وہ مسلمان جنہوں نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کیا ہوگا”۔

مذکورہ اعتراض پر ناچیز نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ

"ہر فرد سے آخرت میں اس کے مخصوص عقائد اور اعمال کے تناظر میں ہی سوال و جواب ہوگا اور اس کے خاص حال احوال کے سیاق و سباق میں جزا و سزا کے فیصلے ہوں گے۔ مذکورہ خاتون اللہ، پیغمبروں اور آخرت پر ایمان رکھتی تھیں اگر چہ وہ مسلمان نہیں تھیں اہل کتاب تھیں لیکن پوری زندگی (55 سال) ایک پسماندہ علاقے کے بے بس مسلمانوں کی بے لوث خدمت میں بسر کی اور انہیں بظاہر کوئی صلہ بھی نہیں ملا۔ ہر فرد کا کیس دنیا میں مختلف اور مخصوص ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں بے شمار ملحد پائے جاتے ہیں جبکہ غیر مسلموں میں حق سچ کے متلاشی۔ کوئی کسی کو بھی مکمل گہرائی اور گیرائی کے ساتھ نہیں جان سکتا کہ اس کے اندر ایمان کتنا ہے؟ سچائی کی طلب اور تلاش کتنی ہے؟ انصاف، احساس اور ادراک کتنا ہے؟ خلوص کتنا ہے؟ یہ سارے حقائق بروز قیامت ظاہر ہوں گے ہم دنیا میں اچھے لوگوں کے لیے بس نیک خواہشات کا اظہار کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں اس کے علاؤہ کچھ نہیں۔ ایک مرے انسان کے بارے میں ہم اور کیا کر سکتے ہیں بجز اس کے کہ اس کی روح کو سکون اور آسودگی کی دعا دے۔ ڈاکٹر صاحبہ اللہ کی بندی تھیں، اس کے بندوں پر مہربان تھیں، مسلمانوں کی خدمت گزار تھیں، مجھ سے، آپ سے اور کسی سے بھی زیادہ اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہوتا ہے، میں ان کے لیے خود کو دعا اور ہمدردی پر آمادہ پا رہا ہوں باقی آگے کے معاملات خدا جانے”۔

ایمان اگر چہ ایک مطلق سچائی ہے لیکن اس پر غیب کے پردے بہر صورت پڑے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایمان کے بارے میں انسانی ادراک، رسائی اور اظہار و قبولیت کی شکلیں کافی کچھ مختلف ہیں۔ ایمان کے جوہر کو اللہ نے زندگی میں بکھیرا ہے جس کو سب انسان اپنے علم، یقین، وجدان، ماحول، تاریخ اور گرد و پیش کے تناظر میں قبول کرتے ہیں۔ اگر چہ ایمان کے بارے میں ہر فرد کا موافق حال نقطہ نظر معتبر ہے لیکن ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ دوسروں کے ایمانیات پر کوئی حتمی رائے دینے کے بجائے انہیں اپنے جوہر ایمان میں موجود خیر، مصالح، سچائی اور حقائق پر اپنے علم، عمل، عقل، خدمت اور خیر خواہی کے ذرائع سے کام لے کر قائل کرنے کی کوشش کی جائے نہ کہ انہیں خود سے دور بھگایا جائیں۔ اسی طرزِ عمل میں ہم سب کے لیے خیر پوشیدہ ہے۔

اب آگے احباب کے لیے میدان کھلا ہے کہ وہ مذکورہ بالا بحث پر اپنی آراؤں کا اظہار کرتے ہوئے ایک صحت مند نظریاتی مکالمے کو آگے بڑھانے میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے