چین-پاکستان اقتصادی راہداری میں افغانستان کی شمولیت: خطے کے لیے تبدیلی کا ایک اہم موڑ

چین-پاکستان اقتصادی راہداری جو کہ چین کے عظیم الشان بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا اہم ترین جزو ہے، اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ 21 مئی 2025 کو بیجنگ میں ہونے والی سہ فریقی ملاقات میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار، افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی اور چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر تاریخی معاہدہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف اس 64 ارب ڈالر کے منصوبے کی جغرافیائی حد کو مزید وسیع کرے گا بلکہ خطے کی معاشی اور سیاسی صورتحال پر بھی دیرپا اور گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

سی پیک کا بنیادی مقصد چین کے شمال مغربی صوبے سنکیانگ کو بلوچستان میں گوادر بندرگاہ سے جوڑنا تھا، جس میں سڑکوں، ریلوے اور پائپ لائنوں کا ایک وسیع نیٹ ورک شامل ہے۔ اب افغانستان کی شمولیت سے یہ منصوبہ وسطی ایشیا تک رسائی کا اہم ذریعہ بن جائے گا، جس سے نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ پورے خطے کی معاشی صورت حال بہتر انداز میں بدل سکتی ہے۔

افغانستان کی سی پیک میں شمولیت سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اب وسطی ایشیائی ممالک تک براہ راست رسائی ممکن ہو جائے گی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس سلسلے میں پشاور-کابل ہائی وے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جو کہ نہ صرف افغانستان بلکہ ازبکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک کو بھی اس اقتصادی راہداری سے جوڑے گا۔ اس کے علاوہ پاک-افغان ریل ٹرانزٹ پراجیکٹ پر بھی کام تیز کر دیا گیا ہے، جس میں چین سرمایہ کاری کرنے پر آمادہ ہے۔

معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر کریم خان کے مطابق یہ منصوبہ دراصل چین کی طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد وسطی ایشیائی ممالک، خلیجی ممالک اور مغربی افریقہ تک رسائی حاصل کرنا ہے۔ افغانستان کی شمولیت سے گوادر بندرگاہ کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا اور یہ صحیح معنوں میں فعال ہو سکے گی۔

سہ فریقی اجلاس میں صرف معاشی تعاون پر ہی نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ تینوں ممالک نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گرد گروہوں کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ یہ بات خاص طور پر اہم اس لیے ہے کیونکہ پاکستان افغان سرزمین عسکری کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے پر زور دے رہا ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ "ہم نے سہ فریقی اجلاس میں اتفاق کیا کہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے”۔ اگر یہ عہد عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو خطے میں امن و استحکام کے ایک نئے اور شاندار دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔

سی پیک منصوبے کی افغانستان تک توسیع سے نہ صرف بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی ترقی ہوگی بلکہ روزگار کے ہزاروں لاکھوں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ پشاور-کابل ہائی وے، ریلوے منصوبے اور دیگر ترقیاتی کاموں سے مقامی آبادی کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔ اس کے علاوہ، افغانستان میں تعمیراتی صنعت، ٹرانسپورٹیشن اور لاجسٹکس کے شعبوں میں بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

سی پیک کی افغانستان تک توسیع کو محض ایک معاشی منصوبے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یونیورسٹی آف انڈونیشیا کے پروفیسر شفوان البنا کے مطابق، "اس اقدام سے انڈیا کو تنہا کرنے سے زیادہ خطے میں امریکہ کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اس خطے میں اپنے نیٹ ورک کو بڑھانا ہے”۔ چین واضح طور پر خطے میں اپنی موجودگی مضبوط کرنا چاہتا ہے اور افغانستان اس عمل کا اہم حصہ ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے واضح کیا کہ چین "اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے افغانستان اور پاکستان کی حمایت کرتا ہے”۔ یہ بیان چین کے خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ چین کا عزم اشتراک کی بنیاد پر تجارتی مقاصد کا حصول ہے اور خاص بات یہ ہے کہ اس عمل میں وہ برابری کا روا دار ہے بالا تری کا نہیں۔ وہ دوست اور شراکت دار بننا پسند کرتا ہے آقا نہیں۔

سی پیک کی افغانستان تک توسیع کو بعض حلقوں میں انڈیا کو تنہا کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ انڈیا پہلے ہی سی پیک کی مخالفت کرتا رہا ہے کیونکہ یہ پاکستان کے زیر اہتمام کشمیر سے گزرتا ہے۔ افغانستان کی شمولیت سے انڈیا کے لیے صورتحال اور بھی پیچیدہ ہو گئی ہے تاہم، ڈاکٹر کریم خان کے مطابق "سی پیک کی توسیع پہلے سے افغانستان کے لیے پلان تھی” اور اس کا مقصد انڈیا کو تنہا کرنا نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "انڈیا اپنی جغرافیائی حکمت عملی کی وجہ سے سی پیک کا حصہ نہیں بننا چاہتا”۔

سی پیک کی کامیابی کے لیے افغانستان میں استحکام انتہائی ضروری ہے۔ طالبان حکومت اگرچہ دہشت گردی کے خلاف عہد کر چکی ہے، یہ بہت ضروری ہے کیونکہ تجارت اور بدامنی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی۔ بدامنی کے عدم پھیلاؤ کے خلاف تینوں ممالک کا تازہ عزم حد درجہ نیک شگون ہے کیونکہ صرف اور صرف اسی صورت میں پورے خطے کی خوشحالی اور استحکام وابستہ ہے۔ لمحہ موجود میں ترقی اور خوشحالی کا دارومدار پڑوسی ممالک کی باہمی دوستی، تعاون اور شراکت داری پر ہے، الگ تھلگ رہ کر کسی بھی ملک کے لیے ترقی کرنا ممکن نہیں۔

ہر بڑے منصوبے کے سامنے کچھ نہ کچھ چیلنجز بھی سر اٹھاتے ہیں اور یہ صورتحال سی پیک کے ساتھ بھی ہے لیکن یہ طے ہے کہ سی پیک میں موجود امکانات اسے درپیش چیلنجوں سے زیادہ مضبوط ہیں۔ افغانستان میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ اگرچہ اس سلسلے میں چین نے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے، لیکن افغانستان میں سیاسی استحکام ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد جیت سکتا ہے۔ اس طرح انڈیا اور چین کے درمیان موجود کشیدگی، نیز انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں تناؤ اس منصوبے کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔ انڈیا پہلے ہی سی پیک کو تنقید کا نشانہ بنا چکا ہے۔

سی پیک کی افغانستان تک توسیع خطے کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا ہے تو پورے خطے میں تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو زبردست فروغ ملے گا، اس طرح افغانستان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے میں مدد ملے گی، وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی آسان ہو جائے گی اور علاقائی امن و استحکام کو تقویت ملے گی تاہم، اس کی کامیابی کے لیے تینوں ممالک کو مشترکہ طور پر سلامتی کے درپیش چیلنجز سے نمٹنا ہوگا اور باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ اگلا اہم قدم کابل میں ہونے والا سہ فریقی وزرائے خارجہ کا اجلاس ہے، جہاں اس تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے مزید اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

سی پیک منصوبے کو افغانستان تک توسیع سے نہ صرف چین، پاکستان اور افغانستان کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے معاشی انقلاب کا امکان پیدا ہو سکتا ہے- اس منصوبے سے جہاں تینوں فریق فائدہ اٹھا سکتے ہیں وہاں پورے خطے کا مجموعی ماحول ترقی اور خوشحالی سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے تاہم، اس کے لیے پائیدار سیاسی عزم، امن اور استحکام پر خاطر خواہ توجہ اور معاشی وسائل کی مناسب فراہمی درکار ہوگی۔ اگر یہ سب عوامل مثبت رہے تو یہ منصوبہ ان شاءاللہ خطے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے