مقبرے زندگی اور موت کے عین سنگم پر واقع وہ عبرت ناک مقامات ہوتے ہیں جن کی زیارت سے انسان پر حقیقی طور سے زندگی اور موت کے حقائق کا راز آشکارا ہوتا ہے۔ تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی زیارتِ قبور فرماتے اور دوسروں کو بھی تاکید کرتے مزید برآں اس عمل کو غفلت اور اندھی خواہش پرستی کے خاتمے کا باعث بھی گردانتے۔ زندگی اور وسائل زندگی انسان کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہوتے ہیں وہ لوگ بڑے ہی خوش نصیب اور برگزیدہ قرار پاتے ہیں جو مدت زندگی میں خالق کائنات کی اطاعت اور خوشنودی کو لازم پکڑیں۔
انسان اپنے آغاز سے ہی آزمائش کے طور پر خیر و شر کے ایک گہری اور پیچیدہ کشمکش میں مبتلا چلا آرہا ہے۔ رحمن بندے کو اپنے راستے پر گامزن دیکھنا چاہتا ہے جبکہ شیطان بالکل الٹ سمت ہر کسی کو اپنے ہی ڈھنگ پر ڈالنا چاہتا ہے یہی فکری اور عملی تقسیم انسانوں کے درمیان ازل سے کردار و اخلاق کے دائروں میں فرق کا بنیادی سبب ہے۔ زندگی کے امتحان میں کوئی اپنے قلب و روح کا رخ رحمن کی جانب موڑ دینے میں کامیاب ہوتا ہے تو کوئی شیطانی آندھیوں کے سامنے بالکل ڈھیر ہو جاتا ہے۔
انبیاء کرام، علماء عظام، صلحاء امت اور اولیاء اللہ نے ہمیشہ سے لوگوں کو ان کے رب کی جانب بلایا اور شیطان کے بہکاوے میں آنے سے روکنے کے لیے مقدور بھر اپنی جان لڑائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ہر دور میں مخلوقِ خدا کے لیے خیر و برکت، رشد و ہدایت اور سکون و شعور کا باعث بنے ہیں۔ لوگ نیک لوگوں کے دامن سے وابستہ ہو کر اچھی زندگی گزارنے کے لیے مطلوبہ اخلاقی اور روحانی طاقت و حوصلہ پا لیتے ہیں اور یوں شاہراہِ حیات پہ خیر کا اپنا سفر جاری و ساری رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم میں فطری، ذہنی اور روحانی طور پر ہر دم خیر اور بہتری کا متلاشی انسان ہوں جہاں سے بھی مجھ پر بہتری کی خوشبو آتی ہے بے اختیار اس طرف دوڑ لگاتا ہوں۔ لائبریریاں، یونیورسٹیاں، کانفرنسیں، تنہائی اور یکسوئی کے میسر لمحات، روحانی مراکز، علماء کرام، دانشوروں اور اولیاء اللہ کے محافل ہمیشہ سے میرے لیے دلچسپی اور محبت کے باعث بنے ہوئیں ہیں۔ میں ہمیشہ گردش میں رہنے والا بندہ ہوں۔ میرا معاملہ عملاً یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کھینچے ہوئے دائروں میں چلنے پھرنے میں ہی گہری خوشی، آسودگی اور خیر محسوس کر رہا ہوں۔
کچھ عرصہ قبل میں نے خصوصی طور پر حضرت شاہ عبد اللطیف کاظمی قادری المعروف "بری امام” کے دربار کی زیارت کی۔ سب سے پہلے وضو کیا، پھر بزرگوں کی قبور پر فاتحہ خوانی کی، نماز پڑھی، مسنون اذکار کا ورد کیا، کچھ دیر کے لیے زندگی اور موت کے حقائق پر غور و فکر کیا، اولیاء اللہ کے حال احوال پر سوچا اور دل و جان کی گہرائیوں سے اپنے لیے، ملک و ملت کے لیے، امت مسلمہ کے لیے اور بحیثیت مجموعی پوری انسانیت کی ہدایت، خوشحالی اور امن و سلامتی کے لیے دعائیں مانگیں۔ مجھے اس بات کے اعتراف میں بھی کوئی حرج نہیں کہ ان چند لمحات میں بے انتہا سکون پایا۔
حضرت شاہ عبد اللطیف کاظمی قادری معروف روحانی بزرگ گزرے ہیں۔ آپ 1617ء کو چکوال میں پیدا ہوئے اور 1705ء کو نور پور شاہاں یعنی موجودہ اسلام آباد کے مقام پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ زندگی بھر اللہ تعالیٰ کی عبادت، ریاضت، وعظ و نصیحت، غور و فکر، ذکر و اذکار اور دعا و مناجات میں مشغول رہے۔ آپ کی زندگی کا غالب حصہ اس گاؤں (نور پور شاہاں) میں گزرا جہاں آج آپ کا دربار موجود ہے۔ ایک دور میں یہ علاقہ ویرانے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ پنجاب اور کشمیر کے درمیان آمد و رفت رکھنے والوں کو ڈاکو لوٹتے تھے کیونکہ یہ بستی ڈاکوؤں اور دوسرے جرائم پیشہ افراد کا گڑھ ہوا کرتا تھا یہ بستی اس قدر بدنام ہوئی تھی کہ باضابطہ چور پور نام پڑا تھا مگر پھر اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ بندے کی محنت، خلوص اور اصلاحی تحریک نے لوگوں کا ذہنی اور عملی کایا پلٹ دیا اور چوروں کے لیے شہرت رکھنے والا یہ علاقہ بعد میں نیک لوگوں کا مسکن بن گیا۔ آپ کا دربار معروف مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے اپنے دور حکومت میں تعمیر کروایا تھا۔
بری امام کمپلیکس ایک وسیع و عریض رقبے پر محیط ہے جہاں حضرت بری امام اور ان کے عزیزوں کے قبور، مسجد، قیام گاہیں اور طعام گاہ وغیرہ موجود ہیں۔ اس کے ایک جانب ایوان صدر اور دوسری اہم سرکاری عمارتیں واقع ہیں تو دوسری جانب ملک کی معروف قائد اعظم یونیورسٹی واقع ہے۔ ہزاروں لوگ سالانہ اس دربار کی زیارت کر کے پیٹ کی بھوک اور روح کی پیاس بجھاتے رہتے ہیں۔ یہ مقام حقیقی معنوں میں مرجع خلائق ہے۔ ہر وقت بڑی تعداد میں لوگ ذکر و اذکار، دعاؤں، نماز اور زائرین کی خدمت میں مصروف نظر آتے ہیں۔ آج کل مختلف نعرے لگانے کا رواج بھی چل پڑا ہے۔ "لبیک یا رسول اللہ، لبیک یا رسول اللہ”، اور "نعرہ حیدری یا علی” جیسے نعرے وقفے وقفے سے بلند ہو رہے ہیں لیکن خاموش بیٹھنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔
حضرات صوفیاء کرام نے ہر دور اور مقام پر انسان کے باطن کو اپنی تمام تر توجہ کا مرکز بنایا ہیں انہیں یقین کامل ہوتا تھا کہ اگر انسان کا دل کچھ کشادہ، روح کچھ آسودہ، ذہن کچھ روشن، جذبات کچھ نرم اور احوال کچھ معتدل ہوں تو اس کے اخلاق و کردار میں انقلاب آسکتا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے تناظر میں خیر، نیکی اور تعمیر کی جانب مائل پیدا کر دیا گیا ہے یہ اس کے حال احوال اور گرد و پیش سر اٹھاتے کچھ ستم ظریفیاں (جہالت، حماقت، ناواقفیت، شقاوت وغیرہ) ہوتی ہیں جو اسے درست راستے سے ہٹا دیتی ہیں۔
دربار بری امام ایک روحانی مرکز تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اب یہ ایک بہت بڑا تجارتی مرکز بھی بن گیا ہے جس کے ساتھ ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے یہ ایک اچھی بات ہے لیکن اس مقام کا ماحول صحت مند، باوقار، صاف ستھرا، سنجیدہ اور علم دوست بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ انتظامیہ اگر چاہے تو یہ قطعاً مشکل نہیں۔ دربار کا اندرونی ماحول کافی حد تک بہتر ہے لیکن بیرونی ماحول کو بہتر بنانے کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر شایان شان ایک یونیورسٹی، ایک لائبریری، ایک تربیت گاہ، ایک مرکز صحت اور باہمی تبادلہ خیال اور اظہار خیال کے لیے بھی کمیونٹی سنٹر بھی موجود ہوتے۔ امید ہے ان وسائل کے طفیل دربار کے فیوض و برکات میں نہ صرف بے حد اضافہ ہو بلکہ لوگ حقیقی معنوں میں زیادہ بہتر طور پر مستفید بھی ہوں گے نیز یہ بین الاقوامی سطح پر عالمی معیار کا ایک قابلِ ذکر روحانی اور ثقافتی مرکز بن کر پاکستان اور ملت اسلامیہ کی نیک نامی میں اضافے کا باعث بن جائے گا۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب پر اپنی رحمت کا سایہ ہمیشہ دراز رکھے اور ہمیں ہدایت اور سکون والی زندگی عطا فرمائے۔ یاد رکھے متوازن فکر، الہامی طرزِ حیات، علم و فضل، فلاح و بہبود کے لیے متحرک رہنے اور شریفانہ اخلاق سے مزین ہونا وہ اصول ہیں جو بندے کو ہدایت اور سکون سے سرفراز کر سکتے ہیں۔