جوہر بروہی معروف عالم، نامور شاعر، مایہ ناز مصنف، نقاد، مترجم، محقق اور ادیب تھے۔ آج صبح ان کے انتقال کی خبر پڑھ کر دل بے حد دکھی ہوا۔ إنا للہ و إنا إلیہ راجعون۔
بچپن سے ہی ان کا نام سن رکھا تھا۔ ماہنامہ شریعت سکھر میں ان کی شاعری اور مضامین باقاعدگی سے شائع ہوتے رہتے تھے۔ کئی مرتبہ خواہش ہوئی کہ ان کی زیارت کی جائے، لیکن کوئی موقع نہ بن سکا۔ دو سال پہلے ایک دن موبائل پر رنگ بجی، کال اُٹھائی تو سامنے سے آواز آئی: “میں جوہر بروہی بات کر رہا ہوں”۔ ادب و احترام اور عقیدت سے گفتگو جاری رکھی۔ آپ نے فرمایا: “مجھے الرابطہ کے شمارے بھیج دیں”۔ اس کے بعد فون پر رابطہ رہا۔ آپ بڑی شفقت اور حوصلہ افزائی فرماتے اور اپنے ہاں آنے کی دعوت بھی دیا کرتے۔ آپ نے رابطہ علماء السند (Sindh Scholars League) کے بارے میں اشعار لکھ کر بھی بھیجے تھے۔ اس دوران آپ اپنی مختلف تصانیف بھی خود بھیجتے رہے، جن میں آپ کی شہرۂ آفاق کتاب ”کریم اللغات“ بھی شامل ہے۔
آپ کے اوصاف بھی غیر معمولی تھے۔ آپ نہایت شریف الطبع، انسانیت کے ہمدرد اور غم خوار تھے۔ چھوٹوں پر بے پناہ شفقت فرماتے اور نوجوان علما اور شعراء کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے۔ لوگوں سے محبت اور عزت سے پیش آتے، اور دلوں کو جیتنے کا سلیقہ رکھتے تھے۔
آپ نے 1950ء میں تھریچانی، پنوعاقل میں جنم لیا۔ جوہر آپ کا تخلّص اور اصل نام عبدالقیوم تھا۔ مختلف مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1970ء میں جامعہ اشرفیہ سکھر سے فراغت حاصل کی۔ آپ کے معروف اساتذۂ کرام میں سندھ کے ممتاز عالم دین مفتی عبدالوہاب چاچڑ، شیخ التفسیر مولانا عبدالغنی جاجروی اور قاری محمد مدنی شامل ہیں۔ اس کے بعد آپ فریدآباد، ضلع دادو میں قرآن پاک کی تعلیم و تدریس سے وابستہ رہے۔
اس کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف اور شعر و شاعری آپ کے پسندیدہ مشاغل میں شامل رہے۔ آپ عربی، فارسی، سندھی، براہوی اور اردو زبانوں میں شاعری کرتے رہے۔ آپ کی پچاس سے زائد کتب منظرِ عام پر آئیں، جن میں شاعری کے مجموعے بھی ہیں، تراجم، تحقیقی مقالہ جات اور مستقل تصانیف بھی۔ آپ کی ان خدمات کے اعتراف میں سندھ اور بلوچستان کی مختلف اکیڈمیوں نے آپ کو ایوارڈز سے نوازا اور آپ اپنی شاعری کی وجہ سے دونوں صوبوں میں بے حد مقبول تھے۔
یہ بات بھی بڑی معنی خیز ہے کہ آپ براہوی ہونے کے باوجود سندھی زبان کے بڑے ادیب تسلیم کیے گئے۔ یہ بات سندھی ادب کے لیے فخر کا باعث ہے کہ ایک براہوی النسل شخصیت نے سندھی میں ایسا نام پیدا کیا کہ بڑے بڑے اہلِ قلم آپ کے قدردان رہے۔ آپ مختلف ادبی انجمنوں کے بانی اور سرگرم رکن بھی رہے۔ سیاسی طور پر آپ کی وابستگی جمعیت علماء اسلام کے ساتھ تھی، بلکہ آپ اس جماعت کے پروانہ اور شیدائی تھے۔
آپ نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری اور ان کے رسالہ کے منتخب حصے کا براہوی میں منظوم ترجمہ بھی کیا، جس پر اہالیانِ بلوچستان آپ کو محبت سے “بلوچستان کا بھٹائی” کہا کرتے تھے۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ ”کریم اللغات“ ہے، جو سندھی زبان میں مکمل قرآن پاک کی لغت ہے۔ یہ عظیم الشان کام آپ نے اپنے مرشد مولانا عبدالکریم قریشی صاحبؒ کی ہدایت پر شروع کیا اور اسی نسبت سے اس کا نام بھی کریم اللغات رکھا۔ آپ نے بڑی جانفشانی اور محنت سے یہ خدمت انجام دی۔
اس کے علاوہ آپ نے منتخب سورتوں کا براہوی زبان میں قرآن پاک کا ترجمہ بھی کیا۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے مکمل قرآن پاک براہوی زبان میں ترجمہ کیا تھا، تاہم اس بات کی حتمی تصدیق باقی ہے۔