اسرائیلی فضائیہ نے دمشق میں شامی دفاعی وزارت اور صدارتی محل کے قریب ٹھکانوں پر بمباری کی ۔
کیا نشانہ؟ دمشق کی دفاعی وزارت اور صدر احمد الشراء کے عبوری انتظامیہ کے صدراتی دفتر کے قریب اہداف کو نشانہ بنایا گیا ۔
جانی و مالی نقصان؟ سرکاری اطلاعات کے مطابق ایک شہری ہلاک، 18 زخمی ۔
اسرائیل کی وضاحت: آئی ڈی ایف کا موقف ہے کہ یہ حملے شامی فوج کی جنوب شام—خصوصاً السویدا— میں دروز آبادی کے خلاف کارروائیوں پر جواب ہیں، جس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے ۔
بین الاقوامی ردعمل: امریکہ نے کشیدگی میں کمی کی تجویز دی، ترکی، یورپی یونین، GCC ممالک اور فرانس نے تشویش کا اظہار کیا ۔
1. عبوری حکومت کی کمزوری
بسار الاسد کے خاتمے کے بعد عبوری صدر احمد الشراء کا اقتدار سنبھالا (8 دسمبر 2024–29 جنوری 2025) ، لیکن جنوب شام میں شامی حکومت کے خلاف دروز اور بیڈو قبائل کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں، اور التواء سے لڑائی میں ہلاکتوں کی تعداد 250 سے تجاوز کر گئی ۔
2. دوازی بحران
الشّراء کی فورسز نے السویدا میں داخل ہو کر دروز اور بیڈو گروپوں پر کارروائی کی۔ دروز برادری نے شدید احتجاج کیا، اسرائیلی دروز بھی سرحد پار کر گئے، اور اسرائیل نے خود کو دروز کا “حامی” بیان کیا ۔
3. اسرائیل کا اسٹریٹجک موقف
اسرائیل کی کوشش ہے کہ گولان ہائیٹس کے قریب شامی فورسز کو محدود کیا جائے تاکہ خطے میں دروز کی مدد اور سیکورٹی لائحہ عمل برقرار رکھا جائے۔ وزیر دفاع اسرائیل کیٹز نے کہا:
“دردناک حملے جاری رہیں گے جب تک شامی فورسز سویدا سے پیچھے نہیں ہٹتیں” ۔
یہ فیصلہ ایک مرتبہ پھر اسرائیل–شام تعلقات کی کشیدگی میں اضافہ کرتا ہے اور عبوری حکومت کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے اسرائیل کو تنسیخ کی ہدایت دی ۔ ترکی، یورپ اور GCC نے حملے کی سخت مخالفت کی ، جس سے خطے میں سفارتی محاذ کشیدگی میں اضافے کا امکان ہے۔
اسرائیل کی نیت یہ ہے کہ جنوبی شام کو ایک “سیکورٹی زون” کے طور پر برقرار رکھا جائے، مگر عبوری حکومت کا بھارت–دروز تعلق چیلنج پر ہے۔
الشّراء بڑی دشواریوں کا شکار ہیں: داخلی بحران، دروز–بیڈو تنازع اور بین الاقوامی دباؤ۔
مزید حملے اگر دروز–شامی فورسز کشیدگی جاری رکھی تو اسرائیل دوبارہ حملے کر سکتا ہے۔
سفارتی دباؤ امریکہ اور یورپ فوری روک تھام چاہتے ہیں، لیکن اسرئیل کا موقف سخت ہے۔
نیٹو جیسے اتحاد؟ شامی حکومت یا عبوری سپورٹرز (روس، ایران) دروز کی حمایت کر سکتے ہیں۔
علاقائی سرحدی استحکام دمشق پر حملہ عبوری حکومت کو توازن برقرار رکھنے کے لیے مجبور کرسکتا ہے۔
اسرائیل کا یہ حملہ صرف ایک عسکری کارروائی نہیں، بلکہ ایک مستعد حکمتِ عملی کا حصہ ہے جو شامی عبوری حکومت کے شکنجے، جنوب شام میں دروز–بیڈو کشیدگی اور گولان کی اہمیت کو مدنظر رکھتا ہے:
کیا عبوری حکومت داخلی تفرقہ ختم کر کے استحکام لائے گی؟ کیا بین الاقوامی دباؤ اسرائیل کو جھکائے گا؟ اور آخرکار، خطے میں دروز کی بقاء کب تک عسکری جھٹکوں کے تابع رہے گی؟