اپنے تعلیمی سفر کا تذکرہ

تعلیم افراد اور اقوام دونوں کیلیے بنیادی اہمیت کی حامل چیز ہے۔ تعلیم پاکر افراد بھی اور اقوام بھی خوب چمک اٹھتے ہیں۔ تعلیمی عمل سے ہی انسانوں پر ان کی خداداد صلاحیتیوں، گرد و پیش کے حقائق، بہتر ہونے کے امکانات اور طاقتور و موثر بنانے والے وسائل تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ آج جو افراد اور اقوام ہم طاقتور اور موثر دیکھ رہے ہیں یہ صرف اور صرف علمی اور ادراکی امتیاز و امتزاج سے ہی اس مقام تک پہنچے ہیں۔

آج کی دنیا میں مغرب بالادست ہے، طاقتور ہے، خوشحال ہے، آثر آنداز ہے، پیشرو ہے اور عالمی امور اور معاملات میں بڑے پیمانے پر دخیل ہے تو اس میں بھی بالاتر علمی اور سائنسی پوزیشن کو بنیادی عمل دخل حاصل ہے۔ یہ تو بڑی مثال ہے آپ اس کو چھوٹا کر کے اپنے گاؤں یا محلے تک لے آئیں تو آپ کو وہاں بھی انسانوں کے درمیان بڑا فرق تعلیم کی بنیاد پر نظر آئے گا۔ تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ وہ حد ہے کہ جس سے انسانوں کے درمیان فرق ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے آج تک کوئی ایسی کیمسٹری ایجاد نہیں ہوئی کہ جس سے کام لے کر زندگی اور حالات پر تعلیم سے پڑنے والے فرق کو انسانوں کے درمیان سے نکالا جائے۔ تعلیم سے طرزِ زندگی و طرزِ فکر، اخلاق و عادات، اوصاف و معمولات، معیارات و ترجیحات، اغراض و عزائم اور ذوق و مزاج سے لے کر پسند و نا پسند بلکہ بنیادی راہ و رسم اور رنگ ڈھنگ سمیت سب کچھ بدل جاتا ہے۔

میں نے جب ہوش سنبھالا تو ایک اوسط درجے کے تعلیمی ذرائع اور ماحول کو اپنے سامنے پایا۔ اللہ کا نام لے کر تعلیمی عمل کا آغاز کیا۔ اپنے والد محترم کے زیر نگرانی پڑھنے بیٹھ گیا وہاں سے پرائمری سکول کمبڑ میدان (ضلع دیر زیریں) پیش قدمی کی، وہاں سے ہائیر سیکنڈری اسکول لعل قلعہ تک پہنچا، 2000ء میں میٹرک کرنے کے بعد پشاور کے ایک معروف دینی مدرسے "مرکز علوم اسلامیہ راحت آباد” چلا آیا، (یاد رہے ہائیر سیکنڈری اسکول لعل قلعہ میں اپنے گاؤں کے ایک نوجوان ضیاء الدین سے دوستی قائم ہوئی بعد میں اس کے بڑے بھائی ڈاکٹر رشید احمد نے مجھے مستقل طور پر اپنی سرپرستی میں لے لیا، آگے ہم نے سارے تعلیمی مراحل ضیاء الدین کی رفاقت اور ڈاکٹر رشید احمد کی سرپرستی میں طے کیے) وہاں سے چار سالہ درس نظامی جس کو تعلیمی زبان میں "درجہ خاصہ” کہا جاتا ہے، کرنے کے بعد ہمارے تعلیمی سلسلے نے ایک دلچسپ کروٹ لی۔

ہوا یوں کہ جولائی 2004ء کے ایک سہ پہر میں اپنے کمرے میں بیٹھا کوئی کتاب پڑھ رہا تھا کہ اسی اثناء میں میرا جگری دوست افتخار احمد جان نہایت خوشی کے عالم میں داخل ہوئے اس وقت ان کا چہرہ چمک جبکہ لہجہ دھمک رہا تھا کہنے لگے "آپ کے لیے ایک خوش خبری لایا ہوں” میں نے پوچھا! "کیا خوش خبری لائے ہو نوجوان؟”۔ جلدی جیب سے جنگ اخبار کا ایک اشتہاری ٹکڑا نکالتے ہوئے بتانے لگا "انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی نے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے سکالرشپس کا اعلان کیا ہے ہمیں اس موقع سے فایدہ اٹھانا چاہیے”۔ میں نے فوراً کہا "یا بسمہ اللہ”۔ عرض کروں کہ اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ کی خواہش ہمارے ہاں پہلے سے موجود تھی اور اپنے طور پر اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تانے بانے بن رہے تھے لیکن اچانک سکالرشپ کا موقع سامنے آنا ہمارے لیے خوشی اور انبساط کا موجب بنا۔

ہم اس نادر موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے سر جوڑنے لگے، امکانات اور مسائل پر غور کیا، مشورہ کیا، تقریباً 15، 20 منٹ تک مشورے اور غور و فکر کا عمل جاری رہا اس کے بعد اٹھے، تیاری کی اور اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئیں۔ یاد رہے کہ اسلام آباد میں میری بڑی پھوپھی جان مقیم تھی۔ میرا تب سے یہاں آنا جانا لگا رہا۔ خود اسلامی یونیورسٹی میں دیر بالا سے تعلق رکھنے والے نہایت شفیق و مہربان پروفیسر ڈاکٹر احمد جان صاحب موجود تھے ان سے ہمارے پرانے راہ و رسم تھے وہ ہمارے مدرسے اکثر تشریف لاتے رہتے، مدیر جامعہ شیخ راحت گل سے ان کی گہری دوستی تھی اور ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے۔

میرے سرپرست ڈاکٹر رشید احمد سے بھی ان کے قریبی روابط تھے۔ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ڈاکٹر رشید احمد نے خود اسلامی یونیورسٹی سے اصول دین میں ایم فل کیا تھا، آگے پشاور یونیورسٹی سے اسلامی قانون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ گزشتہ ستائیس برس سے پشاور یونیورسٹی سے منسلک ہیں آج کل بطورِ چیئرمین شیخ زید اسلامک سنٹر شاندار تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا کام صرف پڑھانا ہی نہیں بلکہ زندگی بنانا بھی ہے۔ میں اکثر دوستوں سے کہتا ہوں "کہ اگر زندگی بننا اور بنانا کوئی سائنس ہے تو ڈاکٹر رشید احمد بلا مبالغہ اس کے بہت بڑے سائنس دان ہیں”۔ علوم اسلامی، تعمیری ذہن سازی، تحقیق، بین المذاہب مکالمہ، عالمی تنازعات کا علمی اور سائنسی تجزیہ، موثر تعلیمی و پیشہ ورانہ مشاورت آپ کے خصوصی میدان کار ہیں۔ آپ نہ صرف دنیا بھر کی مختلف یونیورسٹیوں میں وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر پڑھائے ہیں بلکہ بے شمار بین الاقوامی کانفرنسوں میں تحقیقی مقالے بھی پیش کیے ہیں۔ ان شاءاللہ رشید احمد صاحب کی شخصیت، صلاحیت اور کردار پہ تفصیل سے کبھی روشنی ڈالوں گا۔ اللہ انہیں سلامت رکھیں اور ان کے علم، زندگی، صلاحیتوں اور خوشی میں بے انتہا برکت رکھے کیونکہ ان کی ان خوبیوں میں انسانیت برابر کے حصہّ دار ہے۔

ڈاکٹر احمد جان ان کے استاد تھے دونوں کا تعلق بہت ہی قریبی اور شفقت و احترام سے بھرپور تھا۔ مجھے جب بھی احمد جان سے ملنے کا موقع میسر آتا تو بڑی شفقت اور مہربانی سے پیش آتے ہم اسلام آباد سیدھا ان کے گھر پہنچ گئے، پرتپاک استقبال کیا، ہم نے یونیورسٹی میں داخلہ کی خواہش بارے بتایا تو بڑے خوش ہوئے کہا "بہت اچھا کیا اس موقع سے فایدہ اٹھائیں ان شاللہ کامیاب ہوں گے” ان کی حوصلہ افزائی نے ہمارے توانائی اور جذبے میں ٹنوں کے حساب سے اضافہ کیا، ان کی شفقت اور محبت سے بھرپور میزبانی میں ہم نے چائے اور کھانے کا لطف اٹھایا اور پھر ڈاکٹر صاحب سے ٹیسٹ انٹرویو کی تیاری کے لیے ساتھ بیٹھ گئے، ڈھائی گھنٹے طویل نشست کی۔ جس میں فقہ، اصول فقہ، حدیث اور تفسیر کے بعض بنیادی مسائل تیاری کے غرض سے دہرائیں۔

رات تقریباً ساڑھے دس گیارہ بجے کے قریب ہم اپنے پھوپھی جان کے گھر آئے جو ڈاکٹر صاحب کے رہائش گاہ آئی ٹین ٹو سے زیادہ دور نہیں تھا وہاں رات گزاری، صبح نماز پڑھی، واک کیا، ناشتہ کیا، کزنز کے ساتھ گپ شپ لگائی، اپنے پروگرام سے ان کو آگاہ کیا اور صبح دس بجے کے قریب یونیورسٹی کیمپس کی جانب خوشی خوشی روانہ ہوئیں۔ یونیورسٹی میرے عزیزوں کے گھر سے محض تین چار منٹ کے واک ڈسٹینس پر ایچ ٹین میں واقع ہے۔ حسب ضابطہ فارم وصول کیا، پر کر کے جمع کرائے۔ یونیورسٹی میں موجود دوستوں کے توسط سے مختلف شعبہ جات اور معاملات سے آگاہی حاصل کی، ٹیسٹ انٹرویو بارے بھی معلومات لیے جن میں ابھی چند دن کا وقفہ حائل تھا۔

انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد 1980ء کو ضیاء الحق صاحب مرحوم کے دور میں ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت قائم ہوئی پھر 1985ء کو اسے بین الاقوامی درجہ دیا گیا، اسلامی اور جدید سائنسی علوم کا اعلیٰ معیار پر امتزاج اور اسلامی دنیا کی سطح پر فروغ مزید برآں مسلم دنیا کو علمی قیادت کی فراہمی اس کا بنیادی مقصد ٹہرا۔ اپنے قیام سے لے کر اب تک اسلامی دنیا کے بے شمار نوجوانوں نے یہاں آکر اپنی علمی پیاس بجھائی ہیں۔

یونیورسٹی میں تقریباً ساٹھ ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ زیر تعلیم ہیں (2004ء) اور جس میں تقریباً ساٹھ ستّر مختلف تعلیمی شعبے قائم ہیں۔ مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے کثیر طلبہ کی موجودگی نے یہاں ایک مخصوص ماحول اور ثقافت پیدا کیا ہے جہاں اس کے نظارے ہر طرف میسوں، مسجدوں، لائبریریوں، راہداریوں، گراؤنڈز اور ثقافتی ہفتوں کے انعقاد میں بکثرت نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر رشید احمد یونیورسٹی کے سیاہ فام طلبہ کو یونیورسٹی کا "حقیقی حسن” قرار دیتے ہیں۔ یونیورسٹی کے خوشگوار ماحول، بین الاقوامی طلبہ، عظیم الشان لائبریریوں، مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے باوقار اور لائق و فائق پروفیسرز اور پہلے سے موجود دوستوں کی موجودگی نے ہمارے جوش و جذبے میں کافی اضافہ کیا۔ ہم چند گھنٹے وہاں رہیں اور دوبارہ اپنے عزیزوں کے ہاں آئیں ہاں یہ تو بتانا بھول گیا کہ دل یونیورسٹی میں ہی چھوڑ آئیں۔

یونیورسٹی میں داخلہ کے میرے ارادے پر میری پھوپھی جان اور کزنز کافی خوش ہوئیں اور دعاگو بھی کہ داخلہ اللّہ کرے ہو جائے۔ عصر کے وقت ہم واپس پشاور روانہ ہوئے، اپنے والدین کو اطلاع دی وہ بھی بہت خوش ہوئے خاص کر والد محترم نے بے حد مسرت کا اظہار کیا کیونکہ اسلامی یونیورسٹی میں میرا داخلہ ان کی دیرینہ خواہش تھی، وہ مجھے بار بار اس سلسلے میں ترغیب دلاتے رہتیں۔ ٹیسٹ انٹرویو میں ابھی چند دن باقی تھے۔ ایک ہفتہ بعد ہم دوبارا آئے، میں نے ڈاکٹر ہارون الرشید صاحب کے زیر نگرانی ٹیسٹ انٹرویو کے تمام مراحل طے کیے۔ موصوف نہایت شفیق، نفیس، خوش مزاج اور مہربان انسان ہیں۔

ٹیسٹ انٹرویو کے مرحلے سے فراغت پر پشاور واپس آئے اور دو تین دن کے بعد اس خیال سے گاؤں چلے گئے کہ اگر داخلہ ہو جائے تو ضروری تیاری کر کے پھر مستقل اسلام آباد کے لیے رخت سفر باندھ لیں۔ اللّہ کا کرم تھا چھ آٹھ دن کے بعد یونیورسٹی سے داخلے کی خوش خبری موصول ہوئی جس پر سب سے زیادہ خوشی کا اظہار میری والدہ محترمہ نے کیا۔ میری تعلیم کا یہ باب 2004ء سے 2011ء تک پر مشتمل ہے اس میں ہم نے یونیورسٹی سے عربی اور انگریزی کے ایک ایک سالہ کورسز کے علاوہ "بی ایس ماس کمیونیکیشن” کی ڈگری لی، فراغت کے بعد دو اخبارات (نوائے وقت اور اساس) میں انٹرنشپ بھی کیا، فیڈرل بورڈ میں ایک سال تک بطور ریسرچ اسسٹنٹ کام کا موقع ملا اس کے بعد نومبر 2012ء کو اللہ تعالٰی نے نادرا ہیڈکوارٹر میں بطورِ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جاب کا موقع، عنایت کو عنایت کیا تب سے اب تک وہاں اپنے فرائض منصبی انجام دے رہا ہوں۔

میں نے اپنے تعلیمی سفر میں گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے۔ دینی و دنیاوی، انگریزی و عربی، فاصلاتی و باضابطہ، ذاتی مطالعہ اور دوسروں سے اکتساب فیض سمیت تقریباً ہر چینل استعمال کیا اس سفر میں مختلف تجربات سے گزرا ہوں جن کا طائرانہ سا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔

01 سب سے پہلے تو یہ اعتراف کرتا ہوں کہ میں درمیانی درجے کا طالب علم ہوں۔ ذہین و فطین ہوں نہ ہی بالکل غبی بلکہ ففٹی ففٹی کی پٹی پر بیٹھ کر جو کچھ ہو سکا حصول علم کے لیے اپنے تئیں دماغ، حواس، ارادے اور اوقات کو آمادہ رکھا، کچھ چیزیں سمجھ آئیں اور کچھ سمجھ سے بالا بالا ہی گزریں۔ کچھ کچھ تسلی ہوئی اور کہیں کہیں تشنگی بھی محسوس کی۔

02 بعض عنوانات، موضوعات اور معیارات مفید لگے اور کچھ اضافی یا کم مفید بھی لیکن اس کے باوجود مجموعی طور پر یہ ایک حقیقت ہے ہمارا تعلیمی نظام انسانی صلاحیتوں کو کماحقہ اجاگر کرنے میں بڑے حد تک ناکام رہا ہے۔ تعلیمی نظام، نصاب اور ماحول پر ایک جمود سا طاری ہے۔ جو طالب علم کے قوت تخلیق اور استعداد کو نشوونما نہیں دے رہا، کچھ چیزیں عادتاً پڑھائی اور دہرائی جا رہی ہیں جس کا استاد کو پتہ چلتا ہے نہ ہی طلبہ کو۔ تجربات نہیں ہو رہیں، نئی چیزوں پر سوچنے کے دروازے تقریباً بند ہیں، پہلے سے بتایا جاتا ہے کہ آنا کیا ہے اور لکھنا کیا ہے؟؟؟ رٹے لگائیں جاتے ہیں، پٹی پڑھائیں جاتی ہیں اور پھر رٹے پٹی لکھوائے جاتے ہیں۔ علم کی جڑ تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں آزادانہ دیکھنا، سوچنا اور سمجھنا ہے۔ ہمارے ہاں یہ نہیں بس پڑھائی ہے اور اسی کے "عین مطابق” لکھائی ہے۔

03 میرا احساس ہے علم Generate نہیں ہو رہا۔ لوگوں کی صلاحیتیں، اذہان، ذہنی رجحانات، علمی رغبتیں، آزادانہ سوچ بچار، چیلنجز کو سمجھنا اور حل کے مختلف راستے اختیار کرنا منیج نہیں ہو رہیں، ہم سے ہمارے وسائل اور مسائل ارینج نہیں ہو رہے۔ ہمیں اپنی ضروریات کے لیے کتنے ڈاکٹرز، انجنئیرز، پروفیسرز، سائنسدان، ماہرین اور کہاں کہاں پہ کتنی تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہے کسی کو کچھ بھی پتہ نہیں۔

04 تعلیمی شعبے میں باقاعدہ تعلیمی کونسلنگ نہیں ہو رہی، سب معاملات الل ٹپ انداز میں چلتے ہیں اور چلنا ہیں بھی کدھر بلکہ رلتے ہیں۔ ہماری معیشت، معاشرت، سیاست اور ثقافت ٹریک پہ نہیں آرہیں، ہماری معیشت قرضوں، سیاست نااہلی، معاشرت انتشار، ثقافت بے صورتی اور آبادی غربت و بیماری کے نرغے میں گزشتہ پچھتر برس سے سسک رہی ہیں لیکن تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ہمارے "تعلیم یافتہ” لوگ انہیں خرابیوں کا راستہ روکنے اور اصلاح احوال کے بجائے الٹا خرابیوں کا حصہ بن رہے ہیں۔ آخر کوئی وجہ تو ہے جس سے قوم کی منزل کھوٹی رہی، ہم بے سمت دوڑ رہے ہیں۔ ایک سابق چیف جسٹس (انور جمالی) نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ "پاکستان کی مثال ایک بھٹکے ہوئے صحرائی مسافر جیسا ہے جس کے سامنے کوئی منزل نہیں”۔ یہ تبصرہ ہمارے قومی وجود اور حالت پر ایک درد انگیز نوحہ ہے۔

05 تعلیم ہماری تاریخ اور احوال میں کبھی بھی پہلی اور بنیادی ترجیح نہیں بنی یہ شعبہ ہر دور میں نظر انداز چلا آرہا ہے ہم نے توجہ دی، وقت دیا، پیسہ لگایا، محنت کی نہ ہی کوئی پائیدار اور جاندار نظام اور نصاب تشکیل دیا۔ ہم اس سلسلے میں صرف خانہ پری کر رہے ہیں اور بس۔ تعلیم وہی کام کی جو صلاحیتوں کو اجاگر کرے، قومی اقدار کو راسخ بنائے، نظم و ضبط کو پروان چڑھائے، ٹیلنٹ اور میرٹ کو ابھارے، قومی اقدار اور احساسات کے بارے میں افراد ملت کو بیدار اور منسلک رکھے۔ اپنی تاریخ، جغرافیہ اور حال احوال کا ادراک بخشے۔ غربت اور امارت کے درمیان غیر فطری فرق مٹائے، لوگوں میں دماغ سے کام لینے، ایمان کی افزائش کرنے اور اچھے اخلاق و کردار کو پرورش دینے میں مددگار ثابت ہو۔ ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جو قوم کے جوانوں کو اپنے وسائل و مسائل سے بے گانہ، اپنے حال احوال سے مدہوش اور اپنے "زر زن زمین” سے نامانوس بنا دیں۔ کیا یہ تعلیم قابلِ نظر ثانی نہیں جو غربت ختم کریں، جہالت مٹائے، مہارتیں دلائے اور نہ ہی کردار سجائے۔ میں انہیں عیوب کی وجہ سے ہمیشہ شاکی رہا ہوں لوگ پی ایچ ڈی تک پہنچ جاتے ہیں لیکن انہیں اپنے آپ کا پتہ نہیں کہ میں نے کرنا کیا ہے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے