یاسمین طاہر 1937 میں لاہور کے ایک باوقار، علمی و ادبی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ان کا تعلق ایک ایسے ادبی خاندان سے تھا جو برصغیر کی اردو تہذیب کا سنگِ بنیاد رہا ہے. ان کے والد امتیاز علی تاج اردو ادب کے ایک درخشاں ستارے تھے جن کا ڈرامہ” انارکلی” آج بھی اردو ادب کا ایک کلاسیکی شاہکار مانا جاتا ہے۔ ان کی والدہ بیگم حجاب امتیاز علی بھی کسی تعارف کی محتاج نہ تھیں۔ وہ برصغیر کی پہلی خاتون پائلٹ، ایک نامور ادیبہ، افسانہ نگار اور مترجم تھیں۔ یاسمین طاہر نے اسی علمی و تہذیبی ماحول میں پرورش پائی، جہاں کتابیں، مکالمے، ادب اور فنونِ لطیفہ زندگی کا حصہ تھے۔ یہ وراثت ان کی شخصیت میں ایک خاص وقار، نرمی اور نفاست کی صورت میں جھلکتی رہی۔
یاسمین طاہر نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا، اور جلد ہی اپنی دل آویز آواز، شستہ زبان، متوازن لہجے اور شائستہ اندازِ گفتگو سے لاکھوں سامعین کے دل جیت لیے۔ ان کا نام ریڈیو پاکستان کی پہچان بن گیا۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک ریڈیو پاکستان سے وابستگی رکھی اور درجنوں یادگار پروگراموں کی میزبانی کی، ان کی آواز میں وہ نرمی، سچائی اور خلوص تھا جو براہِ راست دل پر اثر کرتا تھا، آئندہ 37 سال تک وہ ریڈیو پاکستان کا ایک ناقابلِ فراموش چہرہ اور آواز بن گئیں،صبح بخیر پاکستان جیسے مقبول پروگرام سے لے کر محاذ پر فوجیوں کے ساتھ گفتگو تک ان کے اندازِ بیاں نے ریڈیو کی دنیا کو نئی جہتیں دیں۔خصوصا جنگوں کے دوران ان کی آواز میں جو حوصلہ اور دلی ہم آہنگی ہوتی تھی وہ ہر سپاہی کے دل کو چھو جاتی تھی۔ ان کے خاص پروگراموں میں خواتین کی دنیا، گلدستہ، اور صبیحہ خانم سے ملاقات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے پروگرام معلومات، تہذیب، تربیت اور دل چسپی کا خوبصورت امتزاج ہوتے تھے۔ ان کی گفتگو میں نہ کوئی بناوٹ ہوتی، نہ تصنع ، وہ بولتی تھیں، تو لگتا تھا جیسے آواز بھی سوچنے لگتی ہے۔
یاسمین طاہر نے ریڈیو کے ذریعے پاکستانی معاشرے، بالخصوص خواتین کی فکری و جذباتی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کے اندازِ بیان نے سننے والوں کو اعتماد بخشا، سوچنے پر مجبور کیا، اور معاشرتی اقدار کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا ذریعہ بنا۔ وہ خواتین کے لیے آواز بھی بنیں، ہمت بھی، اور ایک نرم مگر باوقار رہنمائی بھی۔
یاسمین طاہر نے نہ صرف بطور صداکارہ بلکہ ایک باشعور سماجی شخصیت کے طور پر بھی اپنا لوہا منوایا، وہ نوجوانوں کی رہنمائی، خواتین کے حقوق اور قومی یکجہتی جیسے موضوعات پر ہمیشہ پیش پیش رہیں، ان کی گفتگو میں تحمل، فصاحت اور دلیل کا امتزاج انہیں دوسروں سے ممتاز بناتا تھا،انہوں نے کئی اردو ڈراموں میں بھی اداکاری کی اور ریڈیو تھیٹر میں متعدد یادگار کردار نبھائے۔
ان کی نجی زندگی بھی اتنی ہی خوبصورت اور باوقار تھی جتنی ان کی آواز۔ وہ پاکستان کے سینئر اداکار اور تھیٹر آرٹسٹ نعیم طاہر کی شریکِ حیات تھیں، جن کے ساتھ ان کا رشتہ نہ صرف محبت کا تھا بلکہ فکری ہم آہنگی کا بھی۔ ان کے تین بیٹے…فاران طاہر، جو ہالی ووڈ میں اپنی پہچان رکھتے ہیں، علی طاہر، جو پاکستان میں ٹیلی وژن، تھیٹر اور پروڈکشن کے حوالے سے معروف ہیں، اور مہران طاہر، تینوں اپنی والدہ کی تربیت اور فنی وراثت کے نمائندہ ہیں۔
یاسمین طاہر کو ان کی خدمات پر متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا جن میں نمایاں ترین ستارہ امتیاز (2015) میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے انہیں دیا گیا، ان کے لیے یہ اعزاز صرف ایک سند نہیں بلکہ ایک اعتراف ہے کہ ان کی آواز نے قوم کی روح کو چھوا ہے، ایک آواز جو ہمیشہ سنائی دے گی۔
یاسمین طاہر چنددنوں سے مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھیں، 19 جولائی 2025 کو 88 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئیں۔ ان کا یہ دنیا سے جانا صرف ایک فرد کا جانا نہیں تھا، بلکہ اردو ریڈیو صداکاری کے ایک روشن باب کا اختتام تھا۔ ان کے انتقال کی خبر نے نہ صرف ان کے چاہنے والوں کو غمزدہ کیا، بلکہ فن، ادب اور تہذیب سے محبت رکھنے والے ہر شخص کو افسردہ کر دیا۔
تاہم، کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ یاسمین طاہر انہیں لوگوں میں شامل تھیں۔ ان کی آواز آج بھی کئی دلوں میں گونجتی ہے، ان کا اندازِ گفتگو سننے والوں کے ذہنوں میں زندہ ہے، اور ان کی خدمات کا چراغ ہمیشہ روشن رہے گا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔