جب سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے۔ ہر چیز گردش میں ہے اور جب تک یہ کائنات قائم و دائم رہے گی، گردش کا یہ سلسلہ کبھی نہیں روکے گا۔ گردش ہی میں زندگی، مقصد زندگی، جوش و جذبہ، خوشی و مسرت، کامیابی و کامرانی اور لطف و معنی کی لہریں ساری دوڑتی ہیں۔
اللّہ تعالیٰ نے بالکل آغاز سے زندگی اور کائنات دونوں کو گردش کے ٹریک پر ڈال رکھا ہے۔ سانس لینے سے سانس دینے تک کی درمیانی مدت میں ہر انسان ہر مقام پہ ہر کام کے لیے گردش میں ہے۔ اللہ تعالیٰ راز میں تھا لیکن اس نے انسان کو پیدا کر کے خود کو آشکار کر دیا یہ گردش کی پہلی لہر تھی اور پھر ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا جو تا ابد جاری و ساری رہے گا۔
تاریخ، سائنس، سماج، معاد، زندگی، سانسیں، انسان اور انسانی تعلقات، خوشی اور غمی، کامیابیاں، ناکامیاں، امیدیں، تمنائیں، چیلنجز، مسائل، سیاست، معیشت، ثقافت، جغرافیہ، فلسفہ، قانون، پانی، مٹی، ہوا، روشنی، جذبات و احساسات، پسند و ناپسند، علم و ہنر، تہذیب و تمدن، عقل و خرد، نفرت و محبت، امن و جنگ، تجربہ و مشاہدہ، اچھائی و برائی، ذہن و روح، جسم و وجود اور تصور و حقیقت غرض ہر عنصر گردش کے دائرے میں زیر گردش ہے۔
اندرونی رجحانات اور بیرونی حقائق کے ملاپ سے واقعات صدور میں آتے ہیں یوں طلاطم برپا رہتا ہے۔ کوئی ایک دن بلکہ کوئی ایک لمحہ بھی نت نئے تبدیلیوں سے خالی نہیں گزرتا۔ جو کوئی زندگی میں بہتری کے واسطے تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہوتا، اس کی زندگی میں صرف صدمے، جمود اور مایوسیاں ہی رہ جاتی ہیں اور بس۔
زندگی گردش میں منزل کی متلاشی ہے اور انسان خود گردش میں رہ کر خیر و شر کی ایک عمیق و پیچیدہ کشمکش میں ازل سے سرگرداں ہے۔ گردش کے اس اہتمام میں کسی کو خدا ملتا ہے اور کسی کا واسطہ شیطان سے پڑتا ہے۔ کوئی سعادتوں کا آمین ٹہرتا ہے اور کسی کی روح شقاوتوں کے بوجھ تلے اکر کچل جاتی ہے، کوئی ضمیر کی آواز پر ہر آن لبیک کہتا ہے اور کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس کو صرف ضمیر کے خراٹوں کی آواز ہی سنائی دیتا ہے۔
دنیا میں ایسے لوگ بھی بے شمار ہیں جو دوسروں کے لیے تسلی اور اطمینان کا سامان بنتے ہیں اور ایسے بھی بنی آدم کم نہیں جو روز مخلوق خدا کی اذیتوں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ وہ افراد یا اقوام بھی پائے جاتے ہیں جو ارتقاء کے بلند ترین منازل پر بسیرا کئے ہوئے ہیں جبکہ ایسے لوگوں اور مجمعوں کی بھی کوئی حساب نہیں جن کے دامن میں صرف زوال کی راکھ بھری ہوتی ہے۔
زندگی گردش کا ایک وسیع و عریض دائرہ ہے۔ انسان سے خدا کو مطلوب یہ ہے کہ وہ اپنا طرز فکر و عمل حق و سچ، خیر و تعمیر، انصاف و اعتدال، فلاح و بہبود، تلاش و جستجو، شرافت و دیانت اور شراکت و معاونت جیسے آفاقی اصولوں سے ہم آہنگ کر لیں۔
یہ دنیا انسان کے لیے ایک امتحان گاہ ہے۔ یہاں آزادی ہے، اختیار ہے، وسائل و ذرائع ہیں، طاقت اور ہمت ہیں، رد و قبول کے آزادانہ مواقع ہیں، خیر و شر اور تعمیر و تخریب کی کشمکش میں اپنا اپنا حصہ شامل کرنے کے چوائس سامنے ہیں۔ جو اس امتحان میں کامیاب ہوئیں وہ با مراد ہوں گے اور جو ناکام ٹہریں وہ بھٹک جائیں گے۔
دنیا کو گہرائی کی نظر سے دیکھنے کے بعد جو پہلا تاثر ملتا ہے وہ یہ کہ اس دنیا میں تمام چیزیں، کام، تعلقات، احساسات اور وجود ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، کٹے ہوئے نہیں۔ فرد فرد سے، ملک ملک سے، کام کام سے اور واقعات واقعات سے مکمل طور پر باہم منسلک ہیں جو بظاہر جڑے نظر نہیں آتے وہ بھی حقیقت میں جڑے ہیں یا آگے چل کر کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی جڑ ہی جاتے ہیں۔ اس فطری رشتے اور تعلق کا تقاضا ہے کہ دوسری اشیاء میں تو خیر فطری طور پر مطابقت و موافقت کی روح موجود ہیں لیکن انسان سے ارادی طور پر باہمی خیر خواہی اور مطابقت مطلوب ہے۔ مختصر یہ کہ ہر انسان کو دوسرے کا خیر خواہ اور مددگار ہونا چاہیے نہ کہ بد خواہ، متنفر یا مزاحم۔ صرف اسی صورت میں یہ دنیا رہنے کے لیے ایک مناسب اور خوشگوار جگہ بن سکتی ہے۔
زندگی کے اس اہم ترین سبق کو یاد رکھنے اور تازہ کرنے کے خاطر ہمارے درمیان ایک دوسرے سے تجربات کا تبادلہ، احساسات کا اشتراک اور مشاہدات کی گردش کا اہتمام ازحد ضروری ہے تاکہ ایک دوسرے سے ارادی اور غیر ارادی طور پر استفادے کی بدولت زندگی کا سفر ہموار انداز سے آگے بڑھ سکے۔
ہر بندہ، ہر روز، ہر پل دوسروں سے کچھ نہ کچھ سیکھ رہا ہے یا کسی نہ کسی کو کچھ نہ کچھ سیکھا رہا ہے۔ زندگی میں بہتر تبدیلی کے لیے یہ ایک ضروری اور مفید عمل ہے۔” گردش” اس تعلق اور رابطے کی ایک شکل ہے۔ اس ذریعے سے میرا اور آپ کا "تعلق” قائم رہے گا۔ میں نے اس تعلق کا خیال ایک فرض جان کر محسوس کیا ہے ان شاءاللہ یہ سلسلہ دلچسپ بھی ہوگا اور بامعنی بھی۔ آللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کام (تحریری سلسلے) کو بطریق احسن انجام دینے کی توفیق عنایت کو عنایت فرمائے۔
دوستوں کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر کہیں فرصت کے لمحات میسر آ رہے تو خبروں تجزیوں اور تبصروں کے لیے معروف پلیٹ فارم آئی بی سی اردو ضرور وزٹ کریں ان شاء اللہ اس کی پیشکشیں آپ دلچسپ اور مفید پائیں گے، گردش کے نام سے اب تک چھ سو سے زائد کالمز ضبط تحریر میں آگئے ہیں، وہ آپ کی نگاہوں میں آنے کے منتظر ہیں۔
دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ اور آپ کے اہل خانہ پر اپنی رحمت کا سایہ ہمیشہ ہمیشہ دراز رکھے اور یہ کہ ہم سب ایک سعادت مند زندگی گزارنے میں نہ صرف کامیاب ہو بلکہ اس مقصد کے حصول میں ہم سب ایک دوسرے کے معاون و مددگار بھی ہوں۔