غیرت کی منڈی

میں نے کئی دن بعد قلم اٹھایا ہے۔ دراصل لکھنے کے لیے موضوع ہی نہیں مل رہا تھا۔ یا شاید دل میں اتنی گنجائش نہیں بچی تھی کہ کسی اور درد کو الفاظ میں ڈھالا جا سکے۔ مگر بلوچستان میں ہونے والے حالیہ واقعے نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں کچھ لکھوں، کچھ کہوں۔ ایک لڑکی کو، صرف اس لیے کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی، غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ ریکارڈ پر آیا — تو ہم جان پائے۔ مگر اُن ان گنت کہانیوں کا کیا جو کبھی ریکارڈ ہی نہیں ہوتیں؟ جو خاموشی میں دفن ہو جاتی ہیں، جن کے ساتھ انصاف کبھی جنم ہی نہیں لیتا۔

یہ واقعہ صرف ایک انفرادی قتل نہیں بلکہ ہماری اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔ یہ ایک اور ثبوت ہے کہ پاکستان آج بھی عورتوں کے لیے محفوظ ملک نہیں۔ یہاں مرد، عورت کو ایک فرد کی بجائے ایک شے سمجھتے ہیں — ایسی ملکیت، جس پر ان کا حق سب سے زیادہ ہے۔ عورت کی مرضی، آزادی، خواب، سب کچھ خاندان کی عزت کے نیچے دفن ہو جاتا ہے۔ جب بھی کوئی لڑکی اپنی مرضی سے شادی کرتی ہے، محبت کرتی ہے، تو اسے غیرت کے نام پر مار دیا جاتا ہے — اور اس ظلم کو معاشرتی قبولیت حاصل ہے۔

اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھیں تو تصویر اور بھی بھیانک ہے۔ ہر سال پاکستان میں تقریباً ۱۰۰۰ خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے (Human Rights Watch)۔ صرف سال ۲۰۲۴ میں ۳۲,۶۱۷ کیسز جنسی بنیاد پر تشدد کے درج ہوئے، جن میں ۵۴۷ غیرت کے نام پر قتل تھے۔ سزا کی شرح اس قدر افسوسناک ہے کہ صرف ۰٫۵٪ کیسز میں سزا ہوئی۔ پنجاب میں ۲۲۵ قتل ہوئے، صرف دو میں سزا ہوئی۔ بلوچستان میں ۳۲ کیسز میں صرف ایک۔ اسلام آباد میں ۲۲ کیسز، اور کوئی سزا نہیں۔

انصاف کا یہ عالم ہے کہ قانون ہونے کے باوجود عدالتیں خاندانوں کے "معاف کر دینے” پر ملزمان کو چھوڑ دیتی ہیں۔ ۲۰۱۶ میں قانون میں ترمیم کی گئی تاکہ غیرت کے نام پر قتل کو ناقابلِ معافی جرم بنایا جا سکے۔ مگر سندھ میں اکثر مقدمات میں Section 311، جو ریاست کو سزا دینے کا اختیار دیتا ہے، شامل ہی نہیں ہوتا۔ پولیس اور عدالتی نظام کی کمزوریاں اس ظلم کے خلاف کوئی مضبوط رکاوٹ بننے میں ناکام ہیں۔

معاشرتی رویے ان واقعات کو اور بھی تقویت دیتے ہیں۔ عورت کو ہمیشہ خاندان کی عزت سے جوڑا جاتا ہے۔ گویا وہ کوئی شے ہے، جسے ضرورت پڑنے پر قربان کیا جا سکتا ہے۔ مرد اپنی مرضی کرے تو روایت، عورت اپنی مرضی کرے تو بے غیرتی؟ یہ دوہرا معیار صرف عورت کو نہیں، پورے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔

فلسفی Gabrielle Suchon نے سترہویں صدی میں کہا تھا کہ ہر عورت کو "liberty, learning and authority” یعنی آزادی، تعلیم اور خود ارادیت کا حق حاصل ہے۔ وہ عورت کو ایک مکمل انسان تصور کرتی تھیں — نہ کہ صرف خاندان کی عزت کا بوجھ۔ Suchon کا نظریہ آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اُن کا ماننا تھا کہ عورت کو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ مگر ہمارے یہاں اگر کوئی لڑکی محبت کا انتخاب کرے، تو یہ اُس کی موت کا سبب بن جاتا ہے۔

کیا اللہ نے عورت کو انتخاب کا حق نہیں دیا؟ جب اسلام عورت کو وراثت، تعلیم، شادی اور رائے کا حق دیتا ہے تو ہمارا معاشرہ کیوں ان حقوق کو پامال کرتا ہے؟ ہم کون ہوتے ہیں کسی کی زندگی چھیننے والے؟ اور پھر اسے ’’غیرت‘‘ کا نام دینے والے؟

بلوچستان کا واقعہ کوئی پہلا نہیں۔ پچھلے سال سندھ میں ۱۰۱ افراد غیرت کے نام پر قتل ہوئے — جن میں ۷۰ خواتین اور ۳۱ مرد تھے۔ پچھلے پانچ سالوں میں صرف سندھ میں ۷۶۹ افراد اس ظلم کا نشانہ بنے (۵۱۰ خواتین، ۲۵۹ مرد)۔ غیرت کے نام پر قتل نہ صرف عورتوں کو بلکہ بعض اوقات اُن مردوں کو بھی نشانہ بناتا ہے جو عورت کے "انتخاب” کا حصہ ہوتے ہیں۔

یہ سب کچھ ایک ایسے معاشرے کی نشان دہی کرتا ہے جو خود کو اسلامی، اخلاقی اور تہذیبی کہلاتا ہے مگر عملی طور پر عورت کو زندہ دفن کرنے میں مصروف ہے۔ نہ ریاست حرکت میں آتی ہے، نہ قانون، نہ علما، نہ سیاستدان، اور نہ ہی عام عوام۔

یہ صرف ایک قانونی یا معاشرتی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک فکری اور اخلاقی بحران ہے۔ جب تک ہم عورت کو "انسان” نہیں سمجھیں گے، اور اس کی رائے، خواہش، محبت اور آزادی کو تسلیم نہیں کریں گے، تب تک ہم ایسے واقعات دیکھتے رہیں گے۔ جب تک ہم اپنی بیٹی، بہن یا ماں کو اپنی ملکیت سمجھتے رہیں گے، تب تک یہ خون بہتا رہے گا۔

قلم اٹھانا صرف احتجاج نہیں، ایک قدم ہے۔ ہمیں بولنا ہوگا، لکھنا ہوگا، سکھانا ہوگا۔ ہمیں لڑکیوں کو سکھانا ہوگا کہ وہ خاموش نہ رہیں، اور لڑکوں کو سکھانا ہوگا کہ عورت اُن کی ملکیت نہیں، برابر کی انسان ہے۔ جب تک ہم اپنی سوچ نہیں بدلیں گے، جب تک ہم اس زہر کو جڑ سے نہیں نکالیں گے، بلوچستان کی بیٹیوں کی لاشیں یونہی گرتی رہیں گی۔

میں نے قلم اٹھایا ہے — شاید صرف ایک لفظ لکھنے کے لیے: "بس”۔ اب بہت ہو چکا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے